پاک بھارت تعلقات ۔۔۔لمحہ لمحہ بدلتا سیاسی مطلع

برصغیر کے خمیر میں ایسی کیا ٹیڑھ اور کج ٹھہری کہ یہاں اتھل پتھل ،دھینگا مشتی اور جنگ و جدل کی فضا بنی اور ہوا چلی رہتی ہے ؟پاک بھارت تعلقات ہمیشہ ’’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘‘ایسی گردشِ لایعنی کے گرداب میں ہی کیوں گھرے رہتے ہیں؟پنڈت جواہر لعل نہرو سے نریندر مودی تک۔۔۔سبھوں کے سبھوں کی تمام تر ترکتازیوں کا میدان پاکستان دشمنی ہی کیوں رہی؟لیاقت علی خان سے نواز شریف تک۔۔۔کیا کوئی بھی امن کے لئے آخری حد تک جانے کو تیار نہ تھا؟پولیٹیکل سائنس اور تاریخ کے طالب علموں کے لئے یقیناان سوالات کے جوابات میں بہت دلچسپی ہو گی کہ یہ لوگ عرصہ ہائے دراز سے شدید ذہنی خلجان میں مبتلا چلے آتے ہیں۔


ہندوستان اور پاکستان کے تلخ و تند معاملات ،لمحہ لمحہ اور دقیقہ دقیقہ بدلتا سیاسی مطلع اور دونوں اطراف سے بیک وقت گرم اور سرد پھونکیں مارنے کا سلسلہ نیا کہاں!ڈھاکہ کی دھرتی پر مودی سرکار کے مکتی باہنی اور بنگلہ دیش میں ہندوستانی کردار کے اعتراف سے ہی قیامت نے دم نہ لیا تھا کہ بھارتی وزیر مملکت راجیہ وردن سنگھ راٹھور نے بھی صورِاسرافیل پھونکنا ضروری جانا۔ان کی گز بھر لمبی زبان شعلے کھائے ہوئے تھی اور آگ اگلنے چلی تھی ۔تو بھائی ایسے وحشت ناک اور زہر ناک ماحول میں کہاں کا امن اور کون ساسکون؟


گماں گزرتا ہے کہ تہہ کے اندرون کہیں نہ کہیں طوفان ضرور چھپا ہے ،گہرے ،کم گہرے اور اتھلے پانیوں میں کوئی نہ کوئی طغیانی یقینی ہے ۔ہندوستان کی توپوں کے دہانے آئے روز لفظوں کی گولہ باری کرتے ہیں تو جواب آں غزل کے طور پر پاکستان کی جانب سے بھی آدھ ایک مطلع اورکبھی کبھی قطعہ کہنا پڑتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے بھی ہوا جائے ہے کہ نواز شریف ایسے فکری راست کے نقیب اور بالغ نظر لیڈر کی جانب سے بھی بھارت کو تنبیہہ کی گئی ۔ہندو بنیا کہیں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی توجہ اپنے اپنے کام سے تو نہیں ہٹانا چاہتا ؟کہ سیاسی محاذ پر جاری تعمیر وارتقاکا سفر تھم تھم جائے اور دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ آخری منطقے میں داخل ہونے سے قبل ہی فوج دوسرے میدان میں الجھ کر رہ جائے ۔بڑے بڑے منصبوں پر متمکن لوگ خیر اتنے سادہ لوح کہاں واقع ہوتے ہیں کہ مخالفین کی چالیں نہ سمجھ سکیں یا اپنے اہداف کو پسِ پشت ڈال دیں۔ہندو سنیاسیوں اور جوگیوں و جوتشیوں کی کشمیر اور پاکستان کے باب میں سوچ و فہم جو بھی ہو ،بہرکیف ان کے خواب اور خواہش:’’دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے‘‘


ہندو پاک کی بدبختی و تیرہ قسمتی کے کئی سبب ہیں ،ان میں اہم سبب مسئلہ کشمیر ہے ۔یارانِ دانشور کشمیر کو جنت کہتے ہیں،لیکن تلخ ترین سچائی یہ بھی ہے کہ اس جنت نے پورے خطے کو جہنم میں جھونک دیا اوراس کے ذمہ دار پنڈت جواہر لعل نہرو ٹھہرے۔ خطا معاف کہ پنڈت جی ایک قد آور سیاست دان ہی نہیں تھے ،ایک ادیب اور مورخ بھی تھے ۔اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے ضمن میں جو فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ہندوستان نے اس وقت مان لیا تھا اور نہرو نے بھی اس پر صاد کیا تھا۔بہت سوں کے لئے آج بھی یہ لا ینحل وقوعہ اور ناقابل فہم مخمصہ ہے کہ نہرو ایسا بڑا آدمی آخر مسئلہ کشمیر پر اتنا چھوٹا کیوں پڑ گیا تھا ؟کہا جاتا ہے کہ نہرو کہا کئے کہ میں اپنی پڑھائی لکھائی کے لحاظ سے انگریز ہوں ،اپنے خاندان کے لحاظ سے ہندو اور اپنی تہذیب کے اعتبار سے مسلمان ہوں۔اب بتلایئے ناں صاحب کہ اس بات پر کیا کہیے؟ہم اور آپ جو بھی کہیے برٹرینڈرسل نے کہا تھا اور کراہ کر کہا تھا کہ ۔۔۔’’پنڈت نہرو ایسے بڑے آدمی نے کشمیر کے سلسلے میں بہت غلط موقف اختیار کیا‘‘۔


ہندوستانی سیاست کے تجزیہ نگاروں کے بقول کہ جنہوں نے نہرو کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے لکھا۔۔۔کشمیر نہرو کی کمزوری تھا کہ وہ کشمیری تھے۔ہو گا بابا!لیکن یہ کہاں کا انصاف اور انسانیت کہ ایک آدمی کی شخصی کمزوری کی بدولت پورے جنوبی ایشیا کے سواارب سے زائد انسانوں کو سولی پر چڑھا دیا جائے ،صلیب پر لٹکا دیاجائے ۔کشمیر کی وادی کی وسعتیں بھی عجب ہیں کہ اس حسین و جمیل خطے میں سبزہ زارو مرغزاردیکھو تو ایسالگتا ہے کہ فطرت نے انسان کو واقعی ارض پر بہشت بخش دی ہے ۔ماحول اورحال دیکھو تو ایسا لگے کہ کسی جادو گر نے جنتر منتر پھونک دیا ہے کہ ایسی نفیس و نستعلیق وادی سے امن کی دیوی روٹھ روٹھ جائے اور اداسی وویرانی ڈیرے جما لے اور بال کھولے سو جائے ۔ ایشیائی قوموں کے بعض رہبروں نے جھگڑے کو حدوں سے بڑھا کر عوام کی خواہشیں اور خوشیاں حُبِ جاہ کی چکی میں باریک پیس دیں۔مودی نے تو بُرد باری کا ذخیرہ دریا برد کیا اور تحمل کے کھلیان کو آگ لگاڈالی۔ایسی صورت میں پاک بھارت تعلقات میں شیری مقالی اور حسنِ بیانی خاک آئے کہ بڑے تو بڑے چھوٹے بھی پھدک پھدک کر پاکستان کو آنکھیں دکھاتے ہیں:


’’ ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کا خدا نہ ہو‘‘


پاکستان اور ہندوستان ۔۔۔دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو جاننا اور ماننا چاہئے کہ ان کا پہلا اور آخری مسئلہ ،مسئلہ کشمیر نہیں۔۔۔اپنے اپنے ملکوں کے عوام ہیں جو مر مر کے جی رہے ہیں اور جی جی کر مر رہے ہیں۔پہلے اپنی اپنی قوموں کی فوزو فلاح اور تعمیرو ارتقا کے متعلق تو سوچئے کہ بعد میں جو وقت بچ گیا ،پھر آپ جو چاہے سوچتے رہنا۔