خادم پنجاب زیورِ تعلیم پروگرام

خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے کروڑوں روپے نقد انعامات تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ گزشتہ آٹھ برسوں سے مستحق طلبہ کو مالی اعانت فراہم کر رہا ہے اور اب تک اس سے مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔پنجاب انڈومنٹ فنڈ سے مُلک بھر کے طلبہ کو وظائف دیئے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ بین الاقوامی تعلیمی وظائف کا اجراء بھی کیاگیا ہے تاکہ محنتی اور قابل طلبہ دُنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل سکیں ۔خادم پنجاب نے دُنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لئے ’’شہباز شریف میرٹ سکالر شپ‘‘سکیم کابھی آغاز کیا ہے ۔ذہین طلبہ، جو مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل نہیں کر سکتے تھے، اب خادم پنجاب نے سکالر شپ کا آغاز کر کے ان کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔


جن ذہین اور غریب طلبہ کے والدین کی ماہانہ آمدنی بیس ہزار سے زیادہ نہ ہو وہ سکالر شپ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔اس سکالرشپ کے لئے تینوں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور فاٹا کے طلبہ بھی درخواست دے سکتے ہیں ۔اسی طرح میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو نقد انعامات کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے ۔پوزیشن حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں کے اساتذہ میں بھی کروڑوں روپے کے نقد انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں ۔پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے ۔یورپی ممالک کے مطالعاتی دورے بھی کرائے جاتے ہیں ۔2009ء سے لے کر اب تک پاکستان بھر سے تین سو کے قریب پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو یورپ کے دورے کرائے گئے ہیں ۔خادم پنجاب نے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچانے اور ان کی پڑھائی کو جاری رکھنے کے لئے ’’اُجالا پروگرام‘‘کے تحت دو لاکھ سولر لیمپس قابل اور محنتی طلبہ میں میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے ہیں تاکہ طلبہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اپنی پڑھائی کو جاری رکھ سکیں ۔ان سولر لیمپس کی خصوصیت یہ ہے کہ 16 گھنٹے بلا تعطل بجلی کی ترسیل ممکن بناسکتے ہیں۔


خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ سولہ اضلاع میں ’’خادم پنجاب زیور تعلیم پروگرام‘‘شروع کیا ہے، جس کے تحت ہر سال چھ ارب روپے کے وظائف طالبات میں تقسیم کئے جائیں گے اور اس پروگرام سے چھٹی سے دسویں جماعت کی چار لاکھ60ہزار سے زائد طالبات مستفید ہوں گی ۔اس پروگرام کی سو فیصد شفافیت یقینی بنانے کے لئے طالبات کو وظائف کی ادائیگی خدمت کارڈ کے ذریعے کی جارہی ہے اور یہ وظائف طالبات کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے 80فیصد سکول حاضری سے مشروط ہیں ۔خدمت کارڈ کے ذریعے طالبات کو ماہانہ ایک ہزار روپے فی کس کے حساب سے وظائف دیئے جارہے ہیں ۔اس طرح طالبات کے لئے ماہانہ وظیفے کی شرح میں پانچ گنا اضافہ کیاگیا ہے ۔زیور تعلیم پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب کے سولہ اضلاع میں قوم کی بیٹیوں کی تعلیم کے لئے ماہانہ وظیفہ200 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کیا گیا ہے ۔خادم پنجاب زیور تعلیم کے تحت خدمت کارڈ کی تقسیم کے لئے 200 سے زائد مراکز قائم کئے گئے ہیں، جبکہ160 موبائل مراکز بھی تشکیل دیئے گئے ہیں ۔بچوں کو وظائف کی فراہمی ایک انقلابی پروگرام ہے ۔خادم پنجاب نے ناخواندگی کے خاتمے کے لئے کئی انقلابی پروگرام شروع کئے ہیں ۔پنجاب حکومت نے تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع میں بچوں کو تعلیم دینے کے لئے وظائف کی فراہمی ایک انقلابی پروگرام ہے ۔ اب کسی ماں کو یہ خوف نہیں ہو گا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے اس کی بیٹی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے ۔اس پروگرام کے ذریعے ہر ماں اپنی بیٹی کو عزت و وقار کے ساتھ تعلیم کے لئے سکول بھجوا سکتی ہے ۔اس پروگرام سے جہاں غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی،وہاں زیادہ سے زیادہ بچیاں تعلیم سے آراستہ ہو جائیں گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد بچے سکول سے باہر ہیں، اس پروگرام سے نہ صرف مزید لاکھوں بچے سکول میں داخل ہو جائیں گے، بلکہ ہزاروں بچیاں بھی سکولوں میں داخلہ لیں گی، جس کی بدولت ان کے خاندان کو ہزاروں روپے ملیں گے، بلکہ بچیوں کو لانے اور لے جانے کے لئے والدین پر جو اضافی بوجھ تھا، وہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ دیہاتوں میں اکثر سکول دور ہونے اور ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث زیادہ تر بچیاں یاتو سکول نہیں جاتیں یا پانچویں کے بعد سکول چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ دیہاتوں کے رسم و رواج کی وجہ سے بچیوں کو جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں، اکیلے سکول نہیں جانے دیا جاتا ۔چونکہ ٹرانسپورٹ کی استطاعت نہیں ہوتی اس لئے بچیوں کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ اب دسویں جماعت تک کم سے کم خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے غریب والدین کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ تاہم والدین کو چاہئے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں ۔