حسین حقانی’’غریب مہاجر‘‘ کے بیٹے

پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ قرار دیتے ہوئے انتظار کا حکم سنایا گیا ہے،ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ یہ محفوظ فیصلہ کسے مایوس یا غیر محفوظ بنائے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں مطمئن ہیں کہ فیصلہ جو بھی آئے اسے تسلیم کیا جائے گا۔ نواز شریف نے تو فیصلے کے حوالے سے کہا ہے کہ چھوڑو کوئی اور سوال کرو، پھر بعد میں انہوں نے گلو کار محمد رفیع کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کے پسندیدہ گلو کار ہیں اور ان کی آواز ان سے ملتی ہے،اگر آپ لوگ دس سال پہلے مجھے سن لیتے تو آپ پہچان نہیں سکتے تھے کہ یہ نواز شریف ہے یا محمد رفیع۔۔۔بعض لوگوں نے بہت حیرانی کے ساتھ کہا ہے کہ کیا نواز شریف اتنے ’’سریلے‘‘ بھی ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے گزارش ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف سریلے ہی نہیں،باقاعدہ رسیلے بھی ہیں اور انہیں نہ صرف گانے کا شوق ہے،بلکہ اچھے بھلے ’’استاد‘‘ بھی ہیں یا کم از کم موسیقی کے حوالے سے اتنا کچھ جانتے ہیں کہ آج کل کے اچھے اچھے گلو کار بھی نہیں جانتے۔بات نکلی ہے تو پھر یہ بھی بتاتا چلوں کہ نواز شریف فیملی پوری پوری ’’لاہوری‘‘ ہے اور اپنی ذاتی خوشیوں میں اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار یوں ہوا کہ کسی ذاتی فیملی فنگشن میں انہوں نے معروف کامیڈین امان اللہ اور ببو برال کا وہ حال کِیا کہ دونوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا : ’’استاد جی سانوں معاف کر دیو‘‘۔۔۔مطلب یہ ہے کہ سیاست اپنی جگہ لیکن یہ فیملی بہت خوش مزاج اور ’’کلچرل‘‘ بھی ہے۔ اب اگر نواز شریف نے کہا ہے کہ محمد رفیع کی طرح گاتے ہیں تو اِس میں شک کی کوئی بات نہیں،مجھے یقین ہے کہ اگر یہ فیملی سیاست میں نہ آتی تو ممکن ہے نواز شریف موسیقی میں نام پیدا کرتے۔مجھے یاد آیا کہ پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ قرار دینے کے بعد سٹے بازوں کی خوب کمائی ہو رہی ہے،یہ لوگ ’’فیصلہ کب آئے گا اور کس کے حق میں آئے گا‘‘؟ کے عنوان کے ساتھ ’’جوا‘‘ کھیلنے میں مصروف ہیں،بہت سے لوگ اِس دھندے کے ذریعے اچھا خاصا کما کھا رہے ہیں۔ اس دھندے میں ملوث لوگ بہت بااثر اور طاقتور ہیں اور یہ لوگ کسی کے قابو میں آنے والے نہیں، ابھی پی ایس ایل کے میچز کے دوران بھی انہوں نے خوب کمائی کی ہے اور ایک بار پھر پاکستان کا نام بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ چار بہترین کھلاڑیوں کا کیریئر تباہ کر دیا ہے۔


یہ لوگ درحقیقت دولت کے پجاری ہیں، انہیں پاکستان یا اس کی عزت سے کوئی مطلب نہیں، یہ لوگ ہر حال میں دولت کمانا چاہتے ہیں اور کما رہے ہیں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسے لوگ ہر جگہ موجود ہیں ۔ آپ سیاست اور سفارت کو ہی لے لیجئے،اس میں کیسے کیسے لوگ موجود ہیں، جو صرف اپنی ذاتی خواہشات کے لئے کیا کیا کرتے پھرتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ حسین حقانی کے مضمون کی شکل میں سامنے آیا ہے، حسین حقانی جو بدقسمتی سے ایک ’’پُراسرار‘‘ کردار کے مالک ہیں،ان کے پاس نجانے کون سی ’’گوٹی‘‘ ہے کہ وہ نواز شریف کے ’’ناک کا بال‘‘ بھی رہے اور انہوں نے 1988ء میں پیپلزپارٹی کے حوالے سے ایسی ایسی داستانیں تخلیق کیں ، جو پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے بدنامی کا باعث بن گئیں۔۔۔ مگر حیرت انگیز طور پر 1988ء میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوئے حسین حقانی 1990ء میں بے نظیر بھٹو کے میڈیا مشیر بن گئے اور طویل عرصے تک پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے،پھر اچانک امریکہ چلے گئے اور جب محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کر کے واپس پاکستان آئیں تو حسین حقانی ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔واقعات و حالات بتاتے ہیں کہ حسین حقانی نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد حسین حقانی آصف علی زرداری کے دائیں بازو بن گئے اور ہر جگہ اُن کے ساتھ نظر آنے لگے، بعد میں آصف علی زرداری نے اُنہیں امریکہ میں پاکستان کا سفیر لگا دیا۔۔۔ اسی سفارت کے دوران حسین حقانی کے حوالے سے ایک کیس عدالت میں چلا،وہ پاکستان آئے، پھر عدالت کی اجازت سے واپس امریکہ چلے گئے، اُن پر بننے والے کیس کے حوالے سے پھر ایک رائے یہی تھی کہ وہ غدار ہیں اور انہیں سزا ضرور ملے گی، مگر نہ وہ کیس سامنے آیا اور نہ رپورٹ سامنے آئی اور حسین حقانی آسانی کے ساتھ فرار ہو گئے۔

اپنے حالیہ مضمون میں انہوں نے جہاں اسامہ بن لادن کے حوالے سے بات کی ہے،وہاں انہوں نے امریکہ کے حساس اداروں سے وابستہ اہلکاروں کے پاکستان میں داخلے کی اجازت کی بات بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ بغیر کسی ویزے کے پاکستان میں داخل ہوئے اور جہاں جہاں رسائی چاہتے تھے، انہیں رسائی دی گئی۔ان کا بیان ہے کہ جو لوگ امریکہ سے پاکستان میں داخل ہوئے،ان کے بارے میں نہ تو پاکستان کے حساس اداروں کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی پاکستانی فوج کو علم تھا۔۔۔ یہ سب کچھ امریکہ اور میری مرضی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوا۔۔۔ حسین حقانی کے اس مضمون کے جواب میں پیپلز پارٹی کچھ دیر کے لئے تو پریشان ضرور ہوئی اور قیادت نے حسین حقانی کو غدار قرار دے دیا، مگر بعد میں یہ بیان واپس لیتے ہوئے حسین حقانی کو ’’وفادار‘‘ قرار دے دیا۔اس حوالے سے قومی اسمبلی میں ایک کمیشن بھی مقرر کیا گیا ہے جو حسین حقانی کے بیان کے حوالے سے اپنی رپورٹ بنائے گا۔ادھر حسین حقانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے جو بیان یا مضمون لکھا ہے، وہ غداری کے زمرے میں نہیں آتا،تاہم انہوں نے اِس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ پاکستان آ کر اِس حوالے سے اپنی صفائی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے اِس حوالے سے یہ عجیب بات کی ہے کہ وہ ایک ’’غریب مہاجر‘‘ کے بیٹے ہیں اور اگر پاکستان آئے تو ان پر ہاتھ ڈالنا بہت آسان ہے۔ حسین حقانی نے اپنے اِس بیان کے ذریعے ’’مہاجر مظلومیت‘‘ کا سہارا لیا ہے،مگر اس مہاجر سے کوئی پوچھے کہ جب پہلے وہ پاکستان آئے تھے تو اُس وقت کسی ’’پاکستانی‘‘ نے اُن کا کیا بگاڑ لیا تھا کہ اب بگاڑ لے گا؟پاکستان کے سیاسی اور فوجی حکام کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کے گرد اپنا شکنجہ مضبوط کریں اور وہ لوگ جو بوقتِ ضرورت اپنے مُلک کے اداروں سے ہر طرح کے فائدے بھی اٹھاتے ہیں، پھر مختلف اداروں کی سربراہی حاصل کرتے ہوئے وزارت اور سفارت کے بڑے بڑے عہدے بھی حاصل کرتے ہیں،لیکن جب اپنے کسی ’’جرم‘‘ کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں تو پھر ’’مہاجر‘‘ بن جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ نرمی نہیں، بلکہ سختی کا رویہ رکھے اور یہ لوگ اگر پاکستان سے زیادہ ’’غیروں‘‘ کے مفادات کو پورا کرتے ہیں تو پھر انہیں پاکستانی کہلانے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت حسین حقانی کی شہریت منسوخ کرے تاکہ یہ مہاجر بچہ ’’امریکہ میں ایک مہاجر‘‘ کے طور پر باقی زندگی گزارے۔