نیو ایشین ٹائیگر اور بہار کے پھول

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ان دنوں بہت شاداں ہیں۔ وہ اپنی آواز کو برصغیر کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع سے مشابہ قرار دیتے ہیں، وہ بہاروں کا گیت گانا چاہتے ہیں:
بہارو پھول برساؤ ، میرا محبوب آیا ہے
ہماری نظر میں سی پیک منصوبہ اور گوادر پورٹ ان دنو ں وزیر اعظم کے محبوب ترین منصوبے ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ گوادر اور سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان کا جاہ و جلال کیا ہوگا؟ دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر کہاں ’’ سٹینڈ‘‘ کریں گے؟ چیف آف آرمی سٹاف بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ سی پیک منصوبے کے سامنے آنے والی ہر دیوار ڈھادی جائے گی، اس تاریخی منصوبے کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم خوشخبری سنارہے ہیں کہ 54سے زیادہ ممالک سی پیک منصوبے میں شمولیت چاہتے ہیں، اگر یہ سب ممکن ہو جاتا ہے تو وطن عزیز کن بلندیوں کو چھو رہا ہوگا؟ یہ سچ ہے کہ آج تک کی ہماری حکومتیں ہمیں اپنے وسائل تک لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکیں، نہ ہم اپنے خزانوں تک پہنچ پائے اور نہ ہی ہمارے کسان ، مزدور کومحنت کا پورا صلہ ملا۔۔۔ ہمیں اپنی ایک پنجابی ’’بولی‘‘ یاد آرہی ہے۔
اوہ سی آپ بہاراں ورگی
مَیں ویکھی جہڑی پھُل ویچدی
کوئی شک نہیں کہ لاکھوں سوہنے مکھڑے بے بہا محنتوں ، مزدوریوں اور کاشتکاریوں کے باوجود بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مارے گئے۔ مگر لگتا ہے کہ اب ایسا نہیں ہونے والا، اب محنتوں کا پورا پورا ثمر ملنے والا ہے۔ سی پیک اور گوادر پورٹ سے ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے۔زمانہ گواہ ہے ، ہم گہری ساز شوں کا شکار ہیں، ہمیں اندر باہر سے نہتا اور بے سروسامان کیا جاتا رہا ہے۔ہمیں ہر میدان میں پچھاڑنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اب ہماری سنی گئی ہے۔ ایک اور پنجابی ’’بولی‘‘ یاد آرہی ہے:
جتھے وڈھ کے کسے نے مینوں دبیا
مَیں اوتھوں فیر جڑ پھڑ لئی
بے شک ہمیں بار بار کاٹ کاٹ کر دبانے کی کوششیں ہوئی ہیں، مگر ہم پھر سے ’’پونگر نے‘‘ کی جرأت اور قوت سے روشناس ہیں:
ظالم جتھوں ٹہنی وڈھی
اوتھوں نویں کرومبل پھُٹی
یقیناًیہ نئی بہار ہے ، نیا موسم ہے، نئے شگوفے، نئے پھول کھل اُٹھے ہیں، نئی رُت ہے، نیا زمانہ ہے اور نیا چاند نکلتا دکھائی دے رہا ہے، اِسی لئے وزیر اعظم مسرور ہیں اور لافانی گیت گا رہے ہیں:
بہارو پھول برساؤ، میرا محبوب آیا ہے
لیجئے ہمیں ایک اور اردو شعر بھی یاد آیا ہے:
کسی نے شاخ کاٹی تھی جہاں سے
شگوفہ پھر وہیں پھوٹا ہوا ہے
جی ہاں!ہم نیا شگوفہ بن کے پھوٹے ہیں،ہم نے پھر سے جڑ پکڑلی ہے، ہمیں وہ دن یاد ہیں جب کہاجارہا تھا کہ دہشت گرد اسلام آباد سے صرف 50کلومیٹر دور رہ گئے ہیں ، وہ دن دور نہیں جب ان کا اسلام آباد پر قبضہ ہوگا۔ہم وہ لمحے بھی نہیں بھولے جب آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے ہمارے مستقبل کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ہمیں وہ ادوار بھی لمحہ لمحہ یاد ہیں جب پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی من گھڑت کہانیاں اچھالی جاتی تھیں، جب گھوڑوں کے مربوں کا ذکر زبانِ زدِ عام تھا، جب کک بیکس، کرپشن پر مبنی ’’فلموں‘‘ کی سپرہٹ نمائش جاری تھی، ہم کل کی ان ’’بادشاہتوں‘‘ کو بھی بھلا نہیں پائے جب ایک سیاسی پارٹی اقتدار میں ہوتی تو دوسری کو انتقام کی نذر کردیا جاتا تھا۔ کچھ لوگ حکومت کے مزے لیتے تھے اور مخالفین جیلوں میں ڈال دیئے جاتے تھے۔ صدشکر کہ اس نئے پاکستان میں آج کوئی سیاسی قیدی نہیں، کوئی پارٹی انتقامی کارروائیوں کا شکار نہیں، یہ وہی پاکستان ہے جہاں آئے دن حکومتوں کو توڑنا ہماری عادت ہوگئی تھی۔اب ایک جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرچکی اور دوسری جمہوری حکومت کی 5سالہ مدت پوری ہونے میں صرف ایک سال باقی ہے۔ ہمارے دیہات میں کہا جاتا ہے کہ 12سال بعد ’’رُوڑی‘‘کی بھی سنی جاتی ہے۔ رانجھا 12سال ’’مجھیں‘‘چروا کر اپنی ہیر کی قربتوں میں چلا گیا تھا، مگر افسوس کہ ہمارا جوگ، ہمارا روگ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔۔۔اب 70سال کے بعد ہماری سنی گئی ہے۔

ہمیں یاد ہے ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اپنے سابقہ ادوار میں پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کا خواب دیکھتے رہے ہیں،اس حوالے سے بیانات بھی دیتے رہے ہیں۔اب لگتا ہے کہ ان کا یہ خواب پورا ہونے والا ہے، پاکستان واقعی ’’ٹائیگر آف ایشیا‘‘ بننے جارہا ہے۔ وزیراعظم نے چند ’’پھٹیچر‘‘ سوچوں کے مالکوں کو نظر انداز کرکے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کو بحال کرایا ہے۔ وہ اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار بن کر سامنے آئے ہیں ۔ صلح پسند، روشن خیال وزیر اعظم کے طور اُبھرے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کو امن، محبت اور بھائی چارے پر اکساتے ہیں، مسائل کو جنگ یا فساد نہیں بلکہ ڈائیلاگ سے حل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم اس خواہش کا بھی بارہا اظہار کر چکے ہیں کہ ملک کے اندر موجود تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے بات چیت کا عمل شروع رہے، دھرنے کی بجائے میز پر بات کرنے کا رجحان ہو۔ پاکستان بدل گیا ہے، روشن خیالی کی اعلیٰ مثالیں قائم ہو رہی ہیں، حجاب کی تلقین کا ذکر ہوتا ہے تو ساتھ سختی سے تردید بھی سامنے آتی ہے، اس بدلتے پاکستان میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا جدید طرز حکومت بھی کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ میاں محمد شہباز شریف نے پنجاب میں جدت اور معیار کی نئی تحریک کو جنم دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر صوبا ئی حکومتوں کو بھی ’’خواب خرگوش‘‘ اور ’’سستی کاہلی‘‘ کے مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اور پاکستان کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ بنانے میں وزیر اعظم کے ہم قدم ہونا چاہیے۔ آخر میں ایک شعر:
موسم بدلا، رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے
فصلِ بہار کے آتے آتے، کتنے گریباں چاک ہوئے