کشمیر پر چین کا موقف

جس طرح پاکستان کا دفتر خارجہ ایک باقاعدگی کے ساتھ مختلف بین الاقوامی معاملات پر میڈیا کو بریفنگ دیتا رہتا ہے اسی طرح دُنیا کے سارے چھوٹے بڑے ممالک بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ایسا کرنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ایک تو اپنی ملکی آبادی کو اپنے موقف سے آگاہ کرنا اور دوسرے بین الاقوامی برادری کو ایسے موضوعات پر اپنے موقف پر بریف کرنا جن کی ضرورت ہوتی ہے۔


مثلاً اگلے روز (17مارچ) کو بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان مسز ہوا چُن ینگ (Hua Chunying) نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں چین کا موقف یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو1947ء کی تقسیمِ برصغیر کا ایک ادھورا تاریخی ایجنڈا سمجھتا ہے جس کا حتمی اور قطعی حل ہونا ابھی باقی ہے۔


پاکستان نے حال ہی میں گلگت بلتستان کو پاکستان کے پانچویں صوبے کا سٹیٹس دے دیا ہے۔ عملی طور پر تو یہ سٹیٹس پہلے ہی سے موجود تھا لیکن جب سے سی پیک (CPEC) شروع ہوا ہے، انڈیا نے شور مچایا ہوا ہے کہ یہ راہداری جن علاقوں سے گزر کر خنجراب کی راہ چین جاتی ہے وہ متنازعہ علاقے ہیں۔ اس لئے جب تک انڈیا اس کی ’’اجازت‘‘ نہیں دیتا تب تک (CPEC) کی تعمیر و توسیع وغیرہ بین الاقوامی قواعد و قوانین کی رو سے غلط اور بے جواز ہے۔
اس بریفنگ میں کسی صحافی نے چینی ترجمان سے یہ سوال بھی پوچھا کہ سی پیک کی تعمیر کے سلسلے میں انڈیا کے درج بالا اعتراض کا جواب کیا ہے۔ مسز ہُوا نے کہا کہ چین کا موقف وہی ہے جو سی پیک کے آغاز سے پہلے تھا۔ یعنی چین پاکستان کے ان شمالی علاقوں کو1947ء کے تنازعہ کشمیر کا ایک حل طلب ایجنڈا سمجھتا ہے۔یہ علاقے کسی طور بھی 1947ء والے کشمیر کا حصہ نہیں سمجھے جا سکتے کہ ہنزہ، نگر، غِذر، گلگت، یٰسین اور سکردو کے حکمرانوں نے نومبر 1947ء میں باقاعدہ پاکستان کے اُس وقت کے گورنر جنرل حضرت قائداعظم ؒ کو لکھ کر دے دیا تھا کہ ان علاقوں کی اکثریت چونکہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اس لئے یہ علاقے پاکستان کے ساتھ ملحق کئے جائیں۔اسی قسم کا اعلان اُس وقت کے مہاراجہ کشمیر سے بھی متوقع تھا۔ جموں اور کشمیر ریاست کی غالب آبادی مسلمان تھی اور مہاراجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر جو دستخط کئے وہ غلط، بے بنیاد، بلاجواز اور تقسیم برصغیر کی روح کے منافی تھے۔


حیدر آباد کی ریاست رقبے کے لحاظ سے انڈیا کی سب سے بڑی ریاست تھی اور اس پر مغل دور سے مسلمان حکمران(نظام) حکومت کرتے چلے آئے تھے۔لیکن ستمبر 1948ء میں انڈیا نے ملٹری ایکشن کے ذریعے حیدر آباد پر قبضہ کر لیا اور جواز یہ پیش کیا کہ وہاں کی آبادی کی اکثریت ہندو تھی۔ انڈیا کو یہی فارمولا کشمیر پر بھی لاگو کرنا چاہئے تھا جو نہ کیا گیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ اسی تناظر میںیہ بیان دے رہی تھی کہ چین پاکستان کے اس پانچویں صوبے کو کسی بھی طرح انڈیا کا حصہ نہیں سمجھتا۔ ہاں انڈیا اگر مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروا دے اور وہاں کی آبادی کشمیر کو انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے کا ووٹ دے دے تو پھر دیکھا جائے گا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے سلسلے میں کیا کرنا ہے۔


کہا جا سکتا ہے کہ چین کا یہ موقف کھل کر پاکستان کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ چینی رہنماؤں نے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے جن تین تنظیموں (القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ) کا ذکر کیا ہے ان میں موخر الذکر تنظیم چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں یوغر دہشت گردوں کی وہ تنظیم ہے جس کے محفوظ ٹھکانے شمالی وزیرستان اور فاٹا کے دوسرے علاقوں میں بتائے جاتے ہیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ چین، دہشت گردی کے کسی بھی مظہر کا مخالف ہے خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو۔ دوسرے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ چین کی جیو سٹرٹیجک پالیسی کا دارو مدار تصادم پر نہیں، تعاون پر ہے۔ مثلاً تائیوان ایک عرصے سے(69برس سے) چین سے الگ ہے، حالانکہ چین جب چاہے اس پر بزور قبضہ کر سکتا ہے۔یہی حال انڈیا کے ایک شمالی صوبے ارونا چل پردیش کا بھی ہے۔ چین اس صوبے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے کہ برطانوی قبضے سے پہلے یہ اُس تبت کا حصہ تھا جس کو 1948ء ہی میں چین کا حصہ بنا لیا گیا تھا اور جس کے دلائی لامہ کو انڈیا آج تک اپنی گود میں لئے پال رہا ہے۔ یہی وہ صوبہ ہے جس میں انڈیا کی انڈین ملٹری اکیڈمی (IMA) قائم ہے جہاں سے انڈیا کی ساری آرمی لیڈر شپ ابتدائی تربیت حاصل کرتی ہے۔ ۔۔۔ ڈیرہ دون، انڈیا کا گویا کاکول ہے!


انڈیا نے ارونا چل پردیش اور تبت (چین) کی سرحد پر سرحدی سڑکوں کا ایک جال بچھانا شروع کیا ہوا ہے تاکہ جب انڈین فورسز کو ہاں آپریٹ کرنا پڑے تو اس عمل میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔حال ہی میں (تقریباً4،5ماہ قبل) اسی علاقے میں انڈیا نے دنیا کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹ طیارہ دنیا کی سب سے بلند ائر فیلڈ پر لینڈ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا اور ساری دنیا کو بتایا تھاکہ وہ وقت پڑنے پر چین کے خلاف ان علاقوں میں اپنے ٹروپس، بھاری اور ہلکے ہتھیار،ان کا گولہ بارود، عسکری سازو سامان اور فوج کے لئے راشن وغیرہ کا ذخیرہ کرنے کی لاجسٹک اہلیت حاصل کر چکا ہے۔ لیکن ان بلند ارتفاعی (High Altitude) علاقوں میں افواج اور ان کا لاجسٹک سازو سامان اتارنا ایک محدود عرصے(اور موسم) میں تو شائد ممکن ہو لیکن یہ ائر فیلڈز ہمہ موسمی (All Weather) ائر فیلڈز نہیں ہیں جبکہ ان کے مقابل چین (تبت) کا علاقہ نہایت ہموار ہے اور وہاں چین نے نہ صرف یہ کہ مواصلاتی لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کر رکھا ہے بلکہ جنگی ضروریات کی تمام اشیاء (Stores) پہلے سے ذخیرہ ہیں۔


ایک اور بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انڈیا اور چین کے مابین انڈیا کی شمالی سرحد کا یہ حصہ چین کے لئے ’’خاص برائے بھارت‘‘(India Specific) ہے۔یعنی ان علاقوں میں تاحال کسی امریکی امدادی کارروائی کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ البتہ انڈیا کے شمال مشرقی صوبوں میں ایسی درجنوں ائر فیلڈز اب بھی موجود ہیں جو دوسری جنگِ عظیم میں اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا وغیرہ) نے برما جنگ کے دوران تعمیر کی تھیں۔ ان میں سے بعض ائر فیلڈز صرف ائر سٹرپس (Air Strips) ہیں اور جب سے اوباما دور میں امریکہ اور انڈیا کے مابین محبت کی پینگیں بڑھی ہیں، ان کی باقاعدہ مرمت اور بحالی کا ایک ارتقائی پروگرام شروع کر دیا گیا ہے۔ یعنی ہر سال انڈیا کے دفاعی بجٹ میں ان ائر فیلڈ کی تعمیر نو کا کام ہو رہا ہے۔ امریکہ کا پروگرام ہے کہ اگر مستقبل میں اسے چین کے خلاف خط�ۂ بحرالکاہل میں آپریٹ کرنا پڑے تو نہ صرف اُن جزائر کی ائر فیلڈ اس کو فراہم ہوں کہ جن پر اس کا قبضہ ہے بلکہ انڈیا کے ان شمال مشرقی علاقوں کے وہ ائر فیلڈز بھی ’’حاضر‘‘ ہوں جو اتحادیوں نے برما کی جنگ میں جاپانیوں کے خلاف فضائی آپریشنوں کے لئے تعمیر کی تھیں۔
تاہم ان ائر فیلڈ کا دائرہ ارونا چل پردیش تک پھیلا ہوا نہیں ہے۔انڈیا اگر کوئی ائر فیلڈ چین بھارت سرحد پر تعمیر بھی کر رہا ہے تو اس میں امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ کوئی مدد شامل نہیں۔ چین کو انڈیا کی ان سب ’’کرتوتوں‘‘ کا بخوبی علم ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ طیش میں نہیں آتا اور ہوش سے کام لیتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ ایک بار جب نقارۂ جنگ پر چوٹ پڑ جاتی ہے تو جدید جنگوں میں جانی،مادی، مالی اور انصرامی ضائعات (Wastages) کا سکیل ’’عظیم الشان‘‘ ہوتا ہے۔ امریکہ کو نہ صرف دُنیا کی دونوں عظیم جنگوں میں بھرپور حصہ لینے کا تجربہ حاصل ہے بلکہ ان جنگوں کے بعد بھی ایشیاء میں کئی جنگوں(کوریا، ویت نام، افغانستان، عراق اور شام وغیرہ) سے بھرپور سابقہ رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں چین کو صرف ایک کوریا میں براہِ راست جنگ کا تجربہ حاصل ہے۔ویت نام کی جنگ، چین اور سویت یونین کی پراکسی جنگ تھی۔ اصل جنگ ویت کانگ گوریلوں اور امریکی ٹروپس کے درمیان تھی جس میں امریکہ کو شرمناک شکست کا سامنا ہوا۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ چین، پاک بھارت مساوات میں کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو اس کو زبان و بیان کی نزاکتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
ایک طرف چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان میڈیا کو یہ بریفنگ دے رہی تھیں تو دوسرے طرف اُسی روز چین کے وزیر خارجہ اُس پاکستانی عسکری وفد سے مذاکرات کر رہے تھے جو تین روزہ دورے پر بیجنگ گیا تھا اور جس کی سربراہی پاکستانی آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں آئی ایس پی آر(ISPR) نے جو پریس ریلیز جاری کی اس میں کہا گیا کہ چین کے وزیر خارجہ نے پاکستانی آرمی چیف اور ان کے وفد کے دوسرے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین کو خوب معلوم ہے کہ پاکستان کو فی الوقت کس طرح کے جیو پولیٹیکل چیلنجوں کا سامنا ہے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان جس طرح ان مسائل و معاملات کا سامنا کر رہا ہے چین اس کا پورا پورا ادراک رکھتا ہے اور پاکستانی موقف کو سپورٹ کرتا ہے۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ پہلا دورۂ چین تھا۔ اس سہ روزہ دورے میں انہوں نے چین کے اعلیٰ سطحی سول اور ملٹری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جن میں چین کے ایگزیکٹو وائس پریمئر، وائس چیئرمین سنٹرل ملٹری کمیشن، چیف آف جوائنٹ سروسز ڈیپارٹمنٹ اور پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے کمانڈر شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں اوور آل دفاعی اور مشترکہ مفادات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے جن پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کا نقط�ۂ نظر یکساں تھا۔ پاکستان کی طرف سے اس خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے اور جو قربانیاں پیش کی گئیں، چینی رہنماؤں نے اُن کی کھل کر تعریف کی۔ خاص طور پر القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ (ETIM)جیسی دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنے کے لئے پاکستان آرمی نے جو دلیرانہ اقدامات اٹھائے ان کو سراہا گیا۔


میں قارئین کی توجہ ایک اور پہلو کی جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ اس بار 23 مارچ 2017ء کی پریڈ میں چین کی نہ صرف آرمی بلکہ اس کی بحری اور فضائی افواج کا دستہ بھی شامل ہو رہا ہے۔ ان کے علاوہ ترکی کا جینی سری ملٹری بینڈ(مہتران) بھی شامل ہو گا۔ جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو خبریں یہ بھی آ رہی ہیں کہ سعودی عرب کی سپیشل فورسز (کمانڈوز) کا ایک دستہ بھی یوم پاکستان پیریڈ میں شامل ہو گا۔


اسی ضمن ایک اور پہلو یہ بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس کی اہمیت اور حساسیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے میں پاکستان کو چند در چند اندرونی خدشات اور بیرونی خطرات کا سامنا بھی ہے۔ لیکن پاکستان نے جس جرأتِ رندانہ سے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے وہ ایک مثال ہے۔چین اور پاکستان کے دفاعی تعاون کے بہت سے پہلو ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ میں چین کے تعاون سے جو میری ٹائم سیکیورٹی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں، ان کی فہرست بہت طویل ہے۔ انشا اللہ اگلے کسی کالم میں ان کا ذکر کروں گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی ذہن میں رکھیں کہ بعض دفاعی انتظامات و اقدامات ایسے ہوتے ہیں جن کو کسی بھی فورم پر آشکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ راز ہائے درونِ خانہ سینے ہی میں پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ ہم جب دوممالک کے درمیان سٹرٹیجک دفاعی انتظامات کا ذکر کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ ان معاملات کی اکثریت ایسی ہوتی ہے جن کو میڈیا پر نہیں لایا جاتا۔ عین ممکن ہے جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے وفد کے اراکین کے پاس ایسے اقدامات کی فہرست ہو جو دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک نوعیت کے حامل ہونے کی وجہ سے ظاہر نہ کئے جا سکتے ہوں۔جب کوئی عسکری وفد اس سطح کا ہوتا ہے کہ اس کی سربراہی کوئی سروس چیف کر رہا ہو تو لامحالہ اس وزٹ میں ایسے موضوعات بھی ڈسکس ہوتے ہیں جن کو عوام کے سامنے لانا مناسب نہیں ہوتا۔۔۔آرمی چیف کے دورے کا یہ پہلو بھی قارئین کی نگاہوں میں رہنا چاہئے۔