کیا آپ نے کبھی سوچا۔۔۔؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر سب سے زیادہ کوریج کراچی ہی کی کیوں کی جاتی ہے۔۔۔کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ کتنے اور کون سے چینلوں کے ہیڈکوارٹر کراچی میں ہیں، کس چینل کی کتنی ٹیمیں ہمہ وقت، دن ہو کہ رات، کراچی شہر کے چپے چپے کی خبریں آن ائر کرکے آپ کو بظاہر دانا اور بباطن بے وقوف بنائے رکھتی ہیں؟۔۔۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جن مسائل کی کوریج کراچی اس کے بازاروں اور گلی کوچوں کو دکھا کر کی جاتی ہے، وہ مسائل تو سارے پاکستان کو ’’لاحق‘‘ ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا کبھی آپ کا دھیان کراچی سے ہٹ کر ملک کے دوسرے سینکڑوں اضلاع، ہزاروں قصبات اور لاکھوں دیہات کے مسائل کی طرف بھی گیا ہے، جن کا کوئی چینل نام تک نہیں لیتا؟ کیا کراچی ہی صرف پاکستان ہے؟ آئے روز کراچی میں ہر پانچ چھ گھنٹوں بعد کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی دھرنا دیتی ہے، اس کے لیڈر اپنی طلاقتِ لسانی اور چرب زبانی سے ملک کے کروڑوں ناظرین و حاضرین سے خطاب کرتے نظر آتے ہیں، لیکن کیا پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ انہی چند لوگوں سے عبارت ہے؟کراچی میں کوئی چھوٹا موٹا واقعہ رونما ہو جائے،کہیں آگ لگ جائے، کہیں چوری چکاری ہو جائے، کہیں ڈاکہ پڑ جائے، کہیں کوئی اغوا ہو جائے تو درجنوں چینل اس کی تفصیلی کوریج میں اپنی جانیں گھلانے لگتے ہیں۔ خواتین اینکرز کو معلوم ہی نہیں کہ آواز کی پچ (Pitch) بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ وہ چیخ و پکار کو ’’نیوز ریڈنگ‘‘ سمجھتی ہیں۔ زیادہ چِلّانے اور چیخنے والی خاتون اینکر کو شاید ٹی وی مالکان زیادہ مشاہرہ پیش کرتے ہیں۔ اگر کبھی اس موضوع پر کوئی ٹاک شو منعقد ہو تو آپ توبہ توبہ کرنے لگیں گے۔


۔۔۔چلو مان لیتے ہیں کہ کراچی پاکستانی درآمدات و برآمدات کا گڑھ ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ صرف کراچی کے طول و عرض اور حدود اربعہ کی کوریج دکھانے کی سزا سارے پاکستان کو کیوں دی جاتی ہے؟کیا آپ نے ابھی تک یہ اندازہ نہیں لگایا کہ کراچی اگر ملک کا تجارتی گڑھ ہے تو دہشت گردی کا گڑھ بھی تو یہی شہر ہے؟ کیا کراچی کی بعض آبادیاں (نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کے نام سن سن کر ہم سب کے کان پک چکے ہیں) دہشت گردوں کے اسلحہ خانے نہیں بن چکے اور ہر روز رینجرز کی طرف سے زیرِ زمین، بالائے زمین، زیرِ گٹر، بالائے گٹر، زیرِ جھونپڑی، زیرِ کٹیا، زیرِ قبرستان، زیرِ تالاب، زیر بدرو اور زیرِ مکانات و تعمیراتِ شکستہ و خستہ، جدید اسلحہ جات اور سامان دہشت گردی ٹی وی چینلوں پر ’’باجماعت‘‘ نہیں دکھایا جاتا؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ مختلف اقسام کے اسلحہ کو کس خوبصورت ترتیب سے تزئین کرکے ٹی وی کوریج کے لئے تیار کیا جاتا ہے تاکہ ناظرین و سامعین پر دہشت گردوں کی دھاک بیٹھ جائے؟۔۔۔ کیاکبھی آپ کو خیال آیا کہ یہ سب نمائشیں صرف کراچی ہی میں لگتی ہیں، جبکہ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے صوبائی دارالحکومت اور شہروں کا بھی یہی عالم ہے ۔۔۔ کیا آپ کے ذہن میں یہ خیال بھی کبھی آیا کہ ہم نے یہ کیوں جان رکھا ہے کہ دہشت گرد صرف شہروں ہی میں اسلحہ چھپانا جانتے ہیں؟ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ایسا کرنے کے لئے پاکستانی دیہات کی کمی نہیں؟ ان دیہات میں صرف وہاں کے نمبرداروں، وڈیروں اور چودھریوں کو ’’تھوڑا بہت‘‘ لالچ دے کر خریدا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ان دیہات کی پولیس فورس کی ’’کارکردگی‘‘ اور قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کے 70برسوں میں ان کی جزا و سزا کا سارا ریکارڈ کیا ہمارے سامنے نہیں؟


کیا آپ کے دماغ میں یہ بات بھی کبھی آئی کہ کراچی کے علاوہ پاکستان کے ایک دو شہر اور بھی ہیں جن پر ٹی وی کوریج فوکس کی جاتی ہے مثلاً اسلام آباد، لاہور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ بس، اس سے آگے جائیں گے تو آپ کے پَر جلنے لگیں گے۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ملک کے بعض شہروں کی وجہ شہرت کیا ہے؟۔۔۔ کیا جھنگ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، راجن پور، مریدکے، اکوڑہ خٹک، لنڈی کوتل، مردان، کوئٹہ، تربت، بھکر، بہاولپور وغیرہ کے نام سن کر آپ کے ذہن میں کسی خاص شخصیت یا خاص پارٹی کا نام آتا ہے؟ اگر آتا ہے تو آپ اس کی ایک فہرست کیوں نہیں بنا لیتے اور اس شخصیت کے شب و روز اور ماہ و سال کی ٹی وی کوریج پر نگاہِ اولین و واپسیں کیوں نہیں ڈالتے؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ٹی وی چینلوں کی گریڈنگ اور ریٹنگ کس بلا کا نام ہے اور کیسے کی جاتی ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا ان کے مالکان کی کوئی فہرست آپ کے ذہن میں آتی ہے۔ پرنٹ میڈیا کا تو نام آتے ہی فوراً آپ جان جاتے ہیں کہ کون سا اخبار کس مالک کا ہے۔ ہر اخبار پر اس کے چیف ایڈیٹر کا نام لکھا ہوتا ہے، جسے آپ ہر روز دیکھتے اور پڑھتے ہیں، لیکن کیا کبھی دماغ شریف نے یہ بھی سوچا کہ درجنوں ٹی وی چینل بے نام کیوں ہیں؟۔۔۔ کیا آ پ کی مقدس اور محترم پارلیمنٹ یہ قانون پاس نہیں کر سکتی کہ ہر چینل کی سکرین پر چینل مالک (یا مالکان) کا نام لکھا ہونا چاہیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بین الاقوامی ٹی وی چینل کس کس کی ملکیت اور کس کس پارٹی / حکومت کے زیرِ انتظام و انصرام ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، روس، انڈیا، چین، فرانس، جرمنی اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے ٹیلی ویژن چینل دن رات آپ دیکھتے ہیں۔ کیا ان کی کوریج، ان کے پروگرام، ان کی اخباری گسترش (Layout) اور ان کی سکرینوں کی زیریں پٹیاں جو چل رہی ہوتی ہیں، ان کے موضوعات اور ان کی زبان آپ کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتی ہے؟ کیا ان کے ٹاک شوز ہمیشہ زندہ (Live) آ رہے ہوتے ہیں یا ان کو ایڈٹ کرکے چلایا اور دکھایا جاتا ہے؟ اگر وہ تمام جدید اور ترقی یافتہ ممالک کُتربیونت سسٹم کی پیروی کرتے ہیں تو ہم ’’غریب غربا‘‘ آخر ان سے زیادہ جدید اور ترقی یافتہ کیوں بن جاتے ہیں؟


کسی کو معلوم نہیں کہ اشتہاروں کے بغیر کوئی میڈیا ’’آن ائر‘‘ یا ’’اِن پریس‘‘ نہیں جا سکتا؟ ۔۔۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مُلک کی ہر ’’لمحہ‘‘ پھیلتی اور بڑھتی مہنگائی میں میڈیا کی ہر ’’لمحہ‘‘ کوریج کا بھی ایک نمایاں حصہ ہے؟ کسی چینل کے ایک گھنٹے کا پروگرام دیکھئے اور نوٹ کرنا شروع کیجئے کہ موضوعِ زیر بحث کے بارے میں60منٹوں میں کتنے ’’منٹ‘‘ بات چیت کی جاتی ہے اور کتنے منٹوں کے اشتہار چلتے ہیں اور ذرا یہ بھی سوچئے کہ ہر ٹی وی چینل نے اشتہاری پروگراموں کو یکجا کر کے ایک CD یا USB میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ ہر دس منٹ کے بعدUSB چینل پر لگا دی جاتی ہے۔ ہر پروگرام میں یہ ’’چھوٹے چھوٹے‘‘ وقفے بار بار آتے ہیں اور جو اشتہار اس وقفے میں دکھائے اور آن ائر کئے جاتے ہیں، ان کی ترتیب سٹیریو ٹائپ ہوتی ہے، کیونکہ ایک ہی USBمیں مقید کر کے جو چلائے جاتے ہیں۔ہمارا ہر چینل ہر گھنٹے بعد ملکی خبریں آپ کے کانوں میں انڈیلتا اور آپ کی آنکھوں میں بساتا ہے،لیکن ہر نیوز بلیٹن سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد جو اشتہاری بلیٹن آپ کے کانوں کو سنایا اور آپ کی آنکھوں میں بسایا جاتا ہے، وہ تو رہا ایک طرف، عین خبریں سنانے اور دکھانے سے ’’چند لمحے‘‘ پہلے کسی ایسے اشتہار کو چلایا جاتا ہے، جس کا معاوضہ سُن کر آپ ششدر نہیں، بلکہ ’’دہ در‘‘ رہ جائیں گے!۔۔۔ کیاکبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ ان چینلوں کے اینکر صاحبان اور خواتین کے مشاہرے کیا ہیں؟۔۔۔ چلو یہ مان لیتے ہیں کہ یہ سارے حضرات و خواتین حد درجہ پڑھے لکھے، باخبر، فصیح و بلیغ اور مطلوبہ ڈکشن سے آشنا اور مسلح ہوں گے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی معلومات کا گراف، ان کا اظہاریہ، ان کو دیئے گئے موضوع کے ساتھ وابستہ رہنے کے احکامات، ان کی کیمروں کی آنکھوں کے سامنے بیباک نگاہی اور ان کے ہر روز نت نئے ملبوساتِ حریری ملک کی بیشتر آبادی کی نوجوان خواتین اور حضرات کو سادگی اور پُرکاری کا درس دے رہے ہیں یا ان کو بے جا اسراف کی طرف لے جا رہے ہیں؟


اور اب ایک آخری سوال ایسا بھی کرنے لگا ہوں جو شائد آپ کو ٹیلی ویژن بینی کے خواب گراں سے جھنجھوڑ کر بیدار کر دے۔ ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ یہ ٹیلی ویژن بینی آپ کو کیا فائدہ پہنچاتی ہے؟ کیا آپ کی معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کی توقعات اور امنگوں کا جواب بھی بنتی ہے؟ کیا ہماری معاشرتی اقدار روبہ عروج ہیں یا روبہ انحطاط ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس’’دورِ آگہی‘‘ سے پہلے والا آپ کا ’’دورِ ناآگہی‘‘ ہی بہتر تھا؟ کیا ہماری اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی اقدار کی تہذیب ہوئی ہے یا ایسی اقدار جنم لینے لگی ہیں جو انسانیت کے لئے باعثِ شرم ہیں؟ کیا ہم ایسے مادر پدر آزاد میڈیا کو ڈسپلن کر سکتے ہیں؟ کون ہے جو یہ کام کرے؟ ان موضوعات پر آپ نے کبھی سوچا؟ کبھی قلم فرسائی کی؟ کبھی کسی چینل پر آ کر یہ ’’کھرا سچ‘‘ آن ائر کیا ؟۔۔۔ کیا آپ کو یہ احساس ہے کہ اس بے ہنگم میڈیائی یلغار نے قوم سے وہ متاعِ گراں بہا ہی چھین لی ہے جس کو ’’وقت‘‘ کہتے ہیں اور جس کی نہ کوئی قیمت ہے، نہ بدل!۔۔۔ خدارا یہ نہ سمجھئے کہ میں ’’تحریکِ آگہی‘‘ کا مخالف ہوں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ میں تو اُس بے لگام سیلابِ آگہی کا مخالف ہوں جس میں ہماری بچی کھچی متاعِ آگہی بھی بہہ کر نجانے کہاں چلی گئی ہے۔۔۔ ہاں ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ میڈیا نے سیاسی آگہی کی تربیت ضرور کی ہے، لیکن اس کا ثبوت تو آنے والے انتخابات ہی دے سکیں گے، جو یہ بتائیں گے کہ عوامی سطح پر سیاسی آگہی نے ہمیں کوئی فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان۔۔۔ یا ہم جیسے تھے ،ویسے ہی رہ گئے ہیں!