یہ تحقیقاتی کمیٹی کیوں؟

کسی بھی عدالتی فیصلے کو درخواست گزار کی طرف سے کی گئی اپیل کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کی اپیل کی تھی، انہوں نے وزیراعظم پر لگائے گئے الزا مات کی تحقیقات کے لئے کسی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی بھی مخالفت کی تھی، میں نے اسی اپیل کی روشنی میں فیصلے کو دیکھا تو دو کے مقابلے میں تین ججوں نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کی اپیل مسترد کر دی او ر یوں یہ فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کے حق میں ٹھہرا مگراس کے ساتھ ہی پانچوں ججوں نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا جو عمران خان اور ان کی جماعت کے ابتدائی موقف کی نفی بھی تھی کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے ججوں سے ایک ایسا فیصلہ چاہتے تھے جو پانچوں میں سے ایک جج نے ان کے موقف کے عین مطابق دیا، یہ جج جسٹس آصف سعید کھوسہ ہیں، جج صاحب نے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کرتے ہوئے قرار دیا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے، یہ الگ سوال ہے کہ جو صاحب، وزیراعظم کو نااہل کرنے کی سب سے بڑی تحریک چلا رہے ہیں وہ کس حد تک صادق اور امین ہیں مگر انہیں تحفظ ہے کہ ان کے پیچھے کوئی سیاسی جماعت جنونیوں کی طرح نہیں پڑی ہوئی لہذایہاں بات صرف وزیر اعظم کی ہوگی، صرف انہیں ہی کٹہرے میں لایاجائے گا ۔


جسٹس کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ وزیراعظم محمد نواز شریف کو بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ سے بھی نااہل قرار پا جائیں، صدر مملکت سے کہا کہ وہ وزیراعظم کی نااہلی کے بعد ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کریں۔انہوں نے نیب کو بھی حکم جاری کیا کہ وہ میاں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے قوانین کے تحت کارروائی کرے۔ جج صاحب نے تحریر کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ نواز شریف کے خلاف اپنے سابق ڈائریکٹر جنرل رحمان ملک ،جو پیپلزپارٹی حکومت کے سابق وزیر داخلہ اور اس وقت سینٹ کے رکن ہیں، کی جانب تئیس برس پہلے درج کئے گئے مقدمات کی تفتیش، شواہداور تفصیل بھی نیب کو فراہم کرے۔ جسٹس کھوسہ نے نیب کو مزید ہدایت کی کہ وہ میاں نواز شریف کے بچوں کے نام پر قائم تمام جائیدادوں اور کاروباروں کا بھی جائزہ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ بچے اپنے والد کے لئے یہ جائیدادیں اور کاروبار تو نہیں چلا رہے۔ انہوں نے مزید برآں نہ صرف نیب کے سربراہ قمر الزماں چودھری کے اس معاملے میں تمام اختیارات سلب کرنے بلکہ نیب کو اسحاق ڈار کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے منی لانڈرنگ فیصلے میں کارروائی کا بھی حکم دیا ۔ مجھے اسی اختلافی نوٹ کو بیان کرنا ہے اور میرے خیال میں میری طرف سے اس پر کسی قسم کا تبصرہ انتہائی غیر ضروری ہو گا کہ یہ فیصلہ اپنے بارے میں خود چیخ چیخ کر بیان کر رہا ہے۔ یہ نوٹ اس کے باوجود لکھا گیا کہ ابھی ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم ہونی ہے جس نے اصل الزام یعنی منی ٹریل کا پتا چلانا ہے۔


اگر آپ پاکستان کی تاریخ کے طالب علم ہیں تو آپ کو اچھی طرح علم ہو گاکہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی سیاسی عدم استحکام رہا ہے۔ جب بھی جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کے خلاف سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ ان سازشوں کے مرکزی کردار سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ عمران خان، شیخ رشید احمد اور سراج الحق کی موجودہ کوشش ایک پرانی مگر ناکام ہو جانے والی سازش کا تسلسل ہے جس کے تحت دھرنے دئیے گئے۔ سراج الحق نے اس وقت سازشیوں کے ان ساتھیوں کا کردار ادا کیا جو ہیرو کے دوست کا روپ دھار کر اس کی پشت میں خنجر گھونپنا چاہتا ہے مگر پہچان لیا جاتا ہے۔ میں نے اس عدالتی فیصلے کو دوسرے پاکستانیوں کی طرح اپنی خواہشات کی روشنی میں دیکھا۔میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت اور نظام مضبوط ہو اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ منتخب حکومتوں کو عوام کی خدمت کرنے دی جائے جبکہ سیاسی جماعتوں کے احتساب کا سب سے بہترین ادارہ عوام کا ادارہ ہے ورنہ اگر عدالتی فیصلوں پرجائیں تو پیپلزپارٹی آج سے چالیس سال پہلے اسی پھانسی کے پھندے پر لٹک چکی ہوتی جس پراس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ نے لٹکادیا تھا اور مسلم لیگ نون اسی طرح جلاوطن ہو چکی ہوتی جس طرح پرویز مشرف نامی آمر نے میاں محمد نواز شریف کو کر دیا تھا۔ پاناما لیکس کا ڈرامہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہونے والے دس ضمنی انتخابات میں سے آٹھ مسلم لیگ نون نے جیتے ہیں جو عوامی عدالت میں پاناما کے الزامات کی کمزور ترین حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔


میں نے کہا، میری خواہش اس ملک میں استحکام اور ترقی ہے مگر میرے خیال میں ابھی اس کے لئے جمہوری قوتوں کو ایک اور دریا عبورکرنا ہو گا۔ یقینی طور پر فیصلے کی تفصیلات بہت سارے ابہام دور کریں گی مگر معزز جج صاحبان کی طرف سے تحقیقاتی کمیٹی پر اتفاق ناقابل فہم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تین، دو کی اکثریت سے فیصلہ آنے کے باوجود کچھ نادیدہ قوتیں حکومت پر دباؤ برقرار کھنا چاہتی ہیں جو انتہائی تشویش ناک امر ہے۔ اسی فیصلے کے ساتھ ہی ڈان لیکس کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور اورنج لائن کا فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا جو اپنی جگہ معنی خیز ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب ایک معزز جج نے اس حد تک جا کر اپنا فیصلہ دے دیا کہ الیکشن کمیشن، ایوان صدر ،قومی احتساب بیورو سمیت تمام اداروں کونیا وزیراعظم چننے کی ہدایات جار ی کر دیں تووہ اس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی سے کیا جاننا چاہتے ہیں۔ میں خود سے پوچھ رہا ہوں کہ جب جسٹس گلزار نے بھی وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر سزا دے ڈالی تو اس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کیا ثابت کرے گی ؟ جن تین معزز جج صاحبان نے وزیراعظم کو نااہل نہیں کیا مگر اس کے باوجود تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی حمایت کی ہے تو یہ بات سمجھنے اور سمجھانے والی ہے کہ کیا یہ منتخب حکومت پر فیصلہ آنے کے باوجود ایک دباو نہیں اور کیا ان میں سے کوئی ایک بھی جج اپنا فیصلہ اس کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں تبدیل کر سکتا ہے اور اگر ایسی صورتحال ہے تو کیا ہم اسے تفصیلی فیصلہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ تفصیلی فیصلہ تو اس وقت جاری ہوتا ہے جب مقدمہ ختم ہوجاتا ہے۔ مجھے تھوڑی سی رجائیت پسندی کی اجازت دیجئے تاکہ سوال کر سکوں کہ اگر تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعظم کو بے گناہ قرار دے دیا تو کیا یہ دونوں معزز جج اپنا فیصلہ واپس لے لیں گے۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر ہمارے ایک معزز جج نے اتنی سختی کے ساتھ یہ فیصلہ تحریر کرنا تھا تو وہ جن کی قسمت کا فیصلہ کر رہے تھے کیا انہیں طلب کرنا ، ان کا موقف سننا اور ان پر جرح کرنا ضروری نہیں تھا۔ یہ امر درست ہے کہ معزز عدالت میں ان کے ’’ مجرم‘‘ کے بہت ہی تجربہ کار وکیل ہمہ وقت موجود تھے مگر کیا قانون میں یہ کہیں لکھا ہوا نہیں کہ جب کسی کی قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا ہو تو اسے وکالتاً ہی نہیں بلکہ اصالتاً بھی طلب کر کے اس کا موقف سن لیا جائے۔


جب میں یہ سوال کرتا ہوں کہ یہ تحقیقاتی کمیٹی کیوں بنائی گئی ہے تو میرے سامنے حقائق ہوتے ہیں کہ معزز جج صاحبان کے سامنے سارے ثبوت پیش کئے جا چکے، دلائل اور جوابی دلائل ہو چکے،کیا ہمارے اٹھارہ، انیس یا بیس گریڈ کے کچھ افسران اس قابل ہوں گے کہ وہ ہمارے معزز جج صاحبان سے بہتر معاملے کوسمجھ سکیں۔ میں یہاں سابق صدر آصف علی زرداری کے موقف کے ساتھ نہیں جانا چاہتا کیونکہ ان کی بات کا انداز اور سیاق و سبا ق مختلف ہے ۔ پیپلزپارٹی ایک سے زیادہ مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈسی ہوئی جماعت ہے لہذا اس کی زبان سے زہر زیادہ ٹپک رہا ہے ۔تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا سوال دوبارہ اٹھایا جائے تو یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ ایک تحقیقاتی ادارہ یا ٹرائیل کورٹ نہیں ہوتی مگر سپریم کورٹ نے شروع میں تحقیقاتی کمیشن قائم نہ کرنے کی( عمران خان کی) رائے کے ساتھ جا کر اپنا یہ کردار خود تشکیل وترتیب دیا تھا اور اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی ہی قائم کرنا تھی تو پھر اتنے مہینے ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ میں اپنے تمام قومی اداروں کے بارے میں ہمیشہ سے خوش گمان رہا ہوں مگر یہ خیال بھی پختہ ہو رہا ہے کہ آئین، قانون اور جمہوریت کی راہ پر ابھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے تاکہ ہماری عادتیں اور روئیے پختہ ہو سکیں۔