انسانی جانوں کا ضیاع

وطن عزیز میں رہتے ہوئے شاید ہم لوگ دکھ درد برداشت کرنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب بڑے سے بڑے سانحات بھی برداشت کرکے بڑی جلدی انہیں بھول جاتے ہیں ، آئے روز کوئی نیا سانحہ وطن عزیز کے باسیوں کو آنسوؤں کے سمندر میں ڈبوجاتا ہے، ابھی ایک سانحے کے اثرات ذہن سے محو نہیں ہو پاتے کہ دوسرا اپنی تمام تر قہر سامانیوں کے ساتھ دل کو گھائل کر جاتا ہے۔ ایک آفت کے نتیجے میں بہنے والے آنسوتھمتے نہیں کہ دوسرا حادثہ خون میں لت پت لاشیں دے کر آنسوؤں کو لہو میں بدل دیتا ہے کہ غم میں مبتلا کر دینے والے المناک واقعات بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ کہیں ٹارگٹ کلنگ میں موت، کہیں ڈکیتیوں میں موت، کہیں بم دھماکوں و خودکش حملوں میں موت اور کہیں ٹریفک حادثات میں موت، ان حالات میں حضرت علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار یاد آتے ہیں :


کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت
موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں
گزشتہ ماہ مال روڈ پر ہونے والے خود کش حملے میں شہید ہونے والے پولیس ملازمین اور دوسرے شہریوں کا غم بالکل تازہ تھا کہ کوئٹہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ابھی اس کی خبریں ٹی وی چینلوں پر چل رہی تھیں کہ حضرت سخی شہباز قلندرؒ کے مزار کے احاطے میں دہشت گردی کا سانحہ رونما ہوگیا۔ شہید ہونے والے تو سفاک درندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں، لیکن ان کے زندہ رہنے والے والدین بہن، بھائی، بیوی، بچے، رشتہ دار ساری عمر دکھ سہنے کے لئے جیتے ہیں، ان سانحات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کی خبروں نے ہر دردمند پاکستانی کا دل رنجیدہ اور بے چین کردیا ہے۔ پوری پاکستانی قوم کو افسردگی میں ڈبودیا ہے، حکومت و انتظامی اداروں کے سربراہوں کی جانب سے تحقیقات کرکے قصور وار عناصر کو منظر عام لانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں، حالانکہ یہ اندوہناک سانحے کوئی پہلی بار نہیں، بلکہ وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ اکثر ہم واقعہ رونما ہونے کے بعد حرکت میں آتے ہیں، حالانکہ کچھ عرصہ قبل ہی گڈانی کے مقام پر جہاز کو توڑتے ہوئے کچھ لوگ آگ میں جل گئے، بڑا شور ہوا تمام لوگوں کے کاروبار بند ہوگئے ، جہاز توڑنے پر پابندی لگائی گئی ، بڑے بڑے اعلان ہوئے لیکن چند روز بعد دوبارہ اسی طرح کا واقعہ ہوگیا۔


پاک آرمی ملک سے ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے، ہر دکھ سکھ میں پاک آرمی اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے۔ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ ہوائی جہازوں کے حادثات ہوتے ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں کس حادثے کی انکوائری مکمل ہوئی اور کس ذمہ دار کو سزاملی۔ تمام انکوائریاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ ملک میں متعدد مقامات پر اسی قسم کے بڑے ٹریفک حادثات رونما ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے اعلانات ہوتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ہر ٹریفک حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے ٹریفک حادثات پر قابو پانے کی باتیں ہوتی ہیں، لیکن اس کے بعد کچھ نہیں کیا جاتا اور چند روز بعد کوئی دوسرا حادثہ رونما ہو جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے مرنے والوں کے لواحقین اور زخمی لوگوں کی حکومتی خزانے سے مالی امداد کی جاتی ہے ، مجھے اس مالی امداد پر اعتراض نہیں۔ اعتراض یہ ہے کہ حکومت نااہل اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائیاں کیوں نہیں کرتی، آئے روز ملک کے مختلف حصوں میں ٹریفک حادثات ہوتے رہتے ہیں، جن میں بیک وقت کئی لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان بھر میں اوسطاً بیس سے تیس افراد روزانہ ٹریفک حادثات کا شکار ہو کر مرتے ہیں اور کئی افراد ہمیشہ کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ ہونے والے ٹریفک حادثات کی تعداد تقریباً تین ہزار بتائی جاتی ہے، جن میں سالانہ پندرہ ہزار افراد موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور پچاس ہزار سے زیادہ زخمی ہوجاتے ہیں۔


پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ٹریفک حادثات بہت زیادہ ہوتے ہیں، ان حادثات کی عمومی وجوہات مخدوش سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت، ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا بتائی جاتی ہے اور ذمہ دار اداروں کی نا اہلی کے سبب حادثات میں اضافے کا سبب بنتا ہے، موٹروے کے علاوہ ملک کی تمام سڑکوں پر خاص طور پر دیہاتی علاقوں کی طرف چلنے والی ٹرانسپورٹ سے ٹریفک پولیس بہت رشوت لیتی ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سے منسلک لوگ ٹریفک قوانین کی پروا نہیں کرتے، چونکہ وہ اس لاپرواہی کا معاوضہ ان علاقوں کی ٹریفک پولیس کو ادا کرتے ہیں ان حادثات کے ذمہ دار ان علاقوں کی ٹریفک پولیس کے اہل کار ہوتے ہیں۔پاکستان میں ٹریفک کے اصولوں کی پابندی کی نگرانی کا کوئی جامع اور موثر نظام موجود نہیں روڈ سیفٹی کا قانون موجود ہے،لیکن اس پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا، گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے ڈرائیوروں کی مہارت و اہلیت کو دیکھنے اور سڑکوں پر ٹریفک کے اصولوں پر عمل درآمد کروانے کا اہتمام بہت کم ہے، بدقسمتی سے بہت زیادہ رشوت ستانی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہوتی ہے، عشروں پرانی گاڑیاں ہماری شاہراہوں پر موت بانٹتی پھررہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، جبکہ ہماری عام سڑکیں تو درکنار قومی شاہرا ہیں بھی تعمیر و مرمت کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اتر تیں، سڑکوں کی تعمیر کے لئے مختص اربوں روپے کے فنڈز بد عنوانی اور کمیشن مافیا کی نذر ہو جاتے ہیں،مہذب معاشروں میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لئے نہ صر ف سخت قوانین موجود ہیں، بلکہ عوامی شعور کی بیداری کے لئے مختلف ادارے قائم ہیں۔


معاشرے کی اخلاقی ترقی میں انسانی شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں اموات کی شرح نہایت کم ہے۔ یورپ میں متعدد بار ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں، جن میں بیک وقت کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں ، لیکن ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم ہوتیہے جبکہ ہمارے ملک میں ہونے والے حادثات کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں، یہاں ایک ایک حادثے میں 60-50انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے، گاڑیوں کی اوورلوڈنگ پر سخت پابندی ہے، ہمارے ہاں اوور لوڈنگ کی فیس ٹریفک پولیس کو ادا کردی جاتی ہے، دوسرے ملکوں میں گاڑیوں کو اس وقت تک سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہوتی ، جب تک ان کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کردیا جائے اور گاڑی میں سفر کے دوران بیلٹ باندھنے کی پابندی کی وجہ سے حادثات میں نقصانات کم ہوتے ہیں، لیکن ہمارے یہاں معاملہ ہی الٹ ہے، ٹریفک قوانین پر نہ انتظامیہ سختی سے عمل درآمد کرواتی ہے۔ اور نہ ہی ڈرائیور قوانین کی پروا کرتے ہیں، ٹریفک کے زیادہ تر حادثات ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اس لئے ہمارے پورے نظام مواصلات پر از سر نو غور کرنے اور اس میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ پورے ملک میں ایسے اداروں کے قیام کی ضرورت ہے، جہاں ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی مناسب تربیت ہو سکے، ایسے اداروں کے سرٹیفکیٹ کے بعد ہی ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کئے جائیں، حادثات پر قابو پانے کے لئے ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری پر لازم ہے، جب تک بحیثیت قوم سب ٹریفک قوانین پر عمل نہیں کریں گے اس وقت تک ان سانحات میں کمی ہونا انتہائی مشکل ہے۔