پولیس ایکٹ 1861 ء اور سندھ

گزشتہ ماہ حیدرآباد رینج پولیس نے خواتین کی سہولت کی خاطر ایک شکایتی مرکز قائم کیا ۔ سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ سے اس کا افتتاح کرایا گیا۔ ہمارے ہاں مروج طریقہ ہے کہ کسی بھی منصوبے کا آغاز دھوم دھڑکے سے کیا جاتا ہے۔ اب تو ملٹی میڈیا کے ذریعہ بریفنگ دی جاتی ہے ۔ اس میں بھی وہ دی گئی، ڈی آئی جی خادم حسین رند اور آئی جی اے ڈی خواجہ نے تقاریر کیں۔ ڈی آئی جی نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ مل کر یہ شکایتی مرکز قائم کیا ہے ۔ غیر سرکاری تنظیم نے اس عنوان کے تحت پروجیکٹ حاصل کیا ہے۔ جب تک پروجیکٹ کی مدت ہوگی یہ مرکز کام کررہا ہوگا۔ اس کے بعد اس منصوبہ کا انجام بھی وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں غیر سرکاری تنظیموں کے منصوبے کا ہوتا رہتا ہے۔ کیا کوئی نشان دہی کر سکتا ہے کہ کسی غیر سرکاری تنظیم کے تحت شروع کیا ہوا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کا یہ کام ہر گز نہیں ہوتا جو پاکستان میں اکثر غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔ اپنی تقریر میں منصوبے کو سراہتے ہوئے اے ڈی خواجہ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبہ سندھ میں انگریز کے زمانے کا نافذ کیا جانے والا پولیس ایکٹ 1861ء تبدیل ہونا چاہئے کیوں کہ آج کے دور میں وہ ایکٹ مقاصد پورے نہیں کرتا۔ چائے پر میں نے ان سے کہا کہ خواتین پولیس مرکز بس ایک تماشہ ہوگا اس سے کوئی فرق نہیں آسکتا۔ انہوں نے مجھے جواب دیا کہ کیا پھر ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے طنز کیا کہ پھر آپ سے انقلاب لانے کا سبق لینا چاہئے۔ جس طرح اکثر لوگ جب اپنی سرکاری یونیفارم میں ہوتے ہیں تو ان کے مزاج آسمان پر ہوتے ہیں۔ رویہ میں رعونت ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں وہی درست ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اے ڈی خواجہ بھی ان سے مختلف نہیں رہے۔


سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور میں بعض ا ضلاع میں خواتین کے لئے مخصوص پولیس تھانے قائم کرائے تھے۔ ان تھانوں کا جو حشر ہوا اس کی طرف کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ اب تو ان تھانوں پر متاثرہ خواتین اپنی رپورٹ بھی درج نہیں کراسکتی ہیں۔ صوبہ کا پولیس سربراہ یہ تو کر سکتا ہے کہ ان تھانوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق لے کر آئے۔ اگر ان تھانوں کو ہی بااختیار بنادیا جائے اور خواتین کی شکایات کا بر وقت ازالہ ہوجائے تو کسی غیر سرکاری تنظیم کی بے ساکھی پر خواتین کے شکایتی مرکز قائم کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے ۔ غیر سرکاری تنظیم کو فراہم کردہ رقم جب ختم ہوگی تو منصوبہ بھی سمیٹ دیا جائے گا۔ پاکستان بھر میں اس قسم کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔


پولیس افسران میں بعض اس خیال کے حامی ہیں کہ پولیس ایکٹ کو تبدیل کرنا چاہئے ۔ پولیس ایکٹ میں کیا خرابی ہے؟ ۔ کیا انگریز قانون سازی اسی طرح کرتا تھا جس طرح ہمارے ہاں ہونے لگا ہے۔ کوئی بھی قانون اٹھا کر دیکھیں ، قانون بننے کے بعد اس میں بار بار ترامیم کی جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری توجہ، تن دہی کے ساتھ قانون سازی نہیں کرائی جاتی۔ انگریز قانون سازی سے قبل کافی وقت تیاری میں لگاتا تھا۔ تجربات، مشاہدات کو جمع کرنے پر وقت صرف کیا جاتا تھا پھر قانون بنایا جاتا تھا ۔ قانون میں ایک ایک شق پر بہت غور و خوض کیا جاتا تھا پھر کہیں جا کر قانون نافذ کیا جاتا تھا۔ آج کے افسران سے پوچھا جائے کہ پولیس ایکٹ 1861ء میں کیا خرابی ہے یا کیا کمی ہے جس کی وجہ سے پولیس اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے ؟ آئی جی اعتراف کرتے ہیں کہ پولیس کو سیاست دانوں کا ملازم نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بات وہ اپنی تقاریر میں کرتے رہے ہیں۔ جب تھانے دار سیاست دانوں ، اراکین اسمبلی کی سفارش پر لگائے جائیں گے تو پولیس رشوت لینے میں دیدہ دلیر ہو جائے گی۔ کھلے عام ہونے والی قانون کی خلاف ورزی پر آ نکھیں بند رکھے گی۔ بے اثر غریب لوگوں کی داد رسی نہیں کرے گی۔ سپاہی تک تو سیاست دانوں کی سفارش پر بھرتی ہوتے ہیں اور پھر ان کی تھانے میں تقرری بھی وہی لوگ کرواتے ہیں۔ کیا 1861ء کے پولیس ایکٹ میں کہیں درج ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بھرتی سفارش پر ہوا کرے گی۔


ساری حکمت قانون اور اختیارات پر عمل در آمد میں پنہاں ہے۔ جب افسران اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ تھانے دار، ان کے گھر والوں کو گھڑیاں دکھائیں، زیورات پسند کروائیں اور جب وہ گھر والوں کو دکھائے جائیں تو گھر والوں کو سب ہی پسند آ جائیں اور وہ ان اشیاء کو رکھ لیں تو تھانے دار اس کے پیسے کہاں سے ادا کریگا۔ اسی ملک میں ماضی بعید میں جو وزیر داخلہ ہوا کرتے تھے۔ پولیس افسران ہوا کرتے تھے وہ اسی قانون کے تحت اپنا محکمہ چلاتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان ادوار میں پولیس اہل کار یا افسران رشوت نہیں لیا کرتے تھے لیکن اگر کسی کا چرچا ہوجایا کرتا تھا تو اسے بھگتنا پڑتا تھا۔ آج تو رشوت لینے کو ہی قانون کا استعمال تصور کیا جاتا ہے۔ ایس ایس پی کیا بلکہ اس سے اعلیٰ عہدیداروں پر فائز ہونے کے لئے بااختیار سیاست دانوں کی خوشامد کی کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ ایک سابق پولیس افسر راؤ رشید نے اپنی کتاب ’’ جو میں نے دیکھا ‘‘ میں پولیس افسران کے خوشامدانہ رویہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ راؤ رشیدپنجاب کے انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ وہ بعد میں شہید بھٹو گروپ کے جنرل سیکریٹری بھی مقرر ہوئے تھے۔ ایسے سیکڑوں واقعات موجود ہیں جن سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قانون میں خواہ کتنی ہی تبدیلی کر لیں جب تک ذہن سازی نہیں ہوگی ، مملکت کے عمال وہی کچھ کر رہے ہوں گے جو پاکستان میں ہو رہا ہے۔


کیا اس تماش گاہ میں پولیس کے لئے کسی نئے قانون کے نفاذ کے بعد یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ذہن سازی کے بغیر پولیس کے رویہ میں تبدیلی آ جائے گی۔ پولیس کے تربیتی مراکز کو درست کریں ، ان کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ اپنے آپ کو حکومت یا سیاستدانو ں کا ملازم سمجھنے کی بجائے مملکت کا ملازم سمجھیں اور پولیس اہلکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تو یقیناًصورتحال میں بہتری آسکے گی جس کے بعد خواتین کے لئے علیحدہ تھانے یا شکایتی مراکز قائم کرنے اور پولیس ایکٹ 1861ء کو ختم کرنے کی ضرورت اور خواہش ختم ہوسکے گی ۔