لوٹ پیچھے کی طرف:پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) صف آرا!

سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ’’فرزند راولپنڈی‘‘ شیخ رشید تو کہتے ہیں کہ سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی گرفتاری اور رہائی ٹوپی ڈرامہ ہے اور یہ ملی بھگت ہے، لیکن حالات جس طرح پیش آئے اور جورخ اختیار کررہے ہیں وہ اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مفاہمت بتدریج محاذ آرائی میں تبدیل ہو رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر 90والی دہائی میں واپس جارہے ہیں کہ اس سے قومی سیاست کوتو نقصان ہوگا لیکن بزعم خود دونوں پارٹیاں شاید یہ سمجھتی ہیں کہ ہر دو کو فائدہ ہوگا کہ عمران خان حکومت کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہمارے نزدیک یہ صورت حال قطعاً خوشگوار اور جمہوریت کے لئے بہترنہیں ہے کہ برداشت کا وصف کہیں کھو گیا ہے۔


ملکی سیاست کی بدقسمتی ہے کہ یہاں جمہوریت کا تسلسل بوجوہ قائم نہیں رہا اور بقول نصراللہ خان(مرحوم) سیاست دان اور عوام دونوں ہی جمہوری کلچر کو اپنا نہیں سکے، کہ جمہوریت تو برداشت کا نام ہے، یہ بات درست بھی ہے کہ قیام پاکستان سے 1958ء تک سیاسی محاذ آرائی ہی نے نقصان پہنچایا کہ رات بھر میں حکومتیں بدلتی رہیں، اس سلسلے میں ری پبلیکن پارٹی کا قیام اور محترم ولی خان (مرحوم) کے بھائی ڈاکٹر خان مغربی پاکستان(موجودہ پاکستان) کے وزیر اعلیٰ بن جانا ایک مثال ہے۔ یوں بھی یہاں وفاقی حکومت بھی تبدیل ہوتی رہی اور وزیر اعظم بدل جاتے رہے، تاآنکہ اکتوبر 1958ء میں سول حکومت کا تختہ الٹ کر فوج نے اقتدار سنبھال لیا اور جنرل ایوب خان برسر اقتدار آگئے جو دس سال تک صدر رہے اور جشن دس سالہ مناتے ہوئے رخصت ہوگئے اور یحییٰ خان نے قبضہ کرلیا، بتایا تو یہ گیا کہ ایوب خان نے رضا کارانہ طور پر اقتدار سے علیحدگی اختیار کی، لیکن حقیقت میں یحییٰ خان نے سازش کرکے سبکدوش کیا اور پھر یحییٰ خان کا دور ایک ملک کے دو ملک بنا کر ہی اختتام پذیر ہوا اس دور میں بھی بڑے بڑے جغادری اطاعت کرتے پائے گئے، حتیٰ کہ ’’قومی ضرورت‘‘ نے ذوالفقار علی بھٹو کو نائب وزیر اعظم بننے پر مجبور کردیا، اس کے بعد کا قصہ تو تاریخ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آئے، ان کے دور میں اپوزیشن سے اچھے تعلقات استوار نہ ہوئے اور وہ پریشان ہوتے رہے، حتیٰ کہ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے ان کو معزول کرکے قبضہ کرلیا اور یہ ان کی وفات تک چلا جو 17اگست 1988ء کو طیارے کے حادثے میں ہوئی۔


یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ فوجی حاکم ہمیشہ لوکل باڈیز پر انحصار کرتے چلے آئے ہیں ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا ٹوٹکا استعمال کیا تھا اور پھر محترم جنرل ضیا ء الحق نے بلدیاتی نظام نافذ کرکے روایت پوری کی بہر حال وہ جمہوری نظام کی طرف لوٹے تو انہوں نے 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرادیئے، اپوزیشن پارٹیوں نے ان کا بائیکاٹ کیا اور یوں ایک نیا دور شروع ہوا جس میں محمد خان جو نیجو وزیر اعظم ہوئے اور ان کے زیر قیادت1973ء کے آئین کا نفاذ آٹھویں ترمیم منظور کرا کے کیا گیا اور یوں جمہوری نظام بحال ہوگیا، یہ حکومت اس وقت تک چلی جب تک جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو سے پالیسی اختلاف کے باعث حکومت ختم نہیں کردی، پھر وقت 1988ء کے انتخابات کا آیا یہ عدالتی حکم کی بنا پر جماعتی بنیادوں پر ہوئے، اس عرصہ میں جہاز کا حادثہ پیش آیا اور جنرل ضیاء الحق متعدد سنیئر فوجی افسروں اور امریکی سفیر رافیل سمیت جاں بحق ہوگئے۔


بہر حال عدالتی حکم کے تحت عام انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے، ان میں بھی وزیر اعظم محمد نواز شریف صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر بیک وقت کا میاب ہوئے اور انہوں نے صوبائی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور گورنر غلام جیلانی خان کے تعاون سے وہ 1985ئسے 1988ء تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے تھے اور اس بار وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ہی جیتے تھے، فیصلے کا وقت آیا تو انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور وزیر اعلیٰ بنے، اس سے پہلے وفاق میں حکومت بنانے کی بھرپور کوششیں ہوئیں، لیکن قرعہ فال محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام نکل آیا تھا ایسا ہو تو گیا وہ وزیر اعظم بن گئیں لیکن بوجوہ محاذ آرائی شروع ہوگئی، محترمہ لاہور آئیں تو وزیر اعظم محمد نواز شریف ان سے جہاز میں جا کر ملے، باہر جیالوں نے مخالفانہ نعرے لگائے، یہ پہلی اور آخری ملاقات رہی کہ اس کے بعد باقاعدہ محاذ آرائی شروع ہوگئی حتیٰ کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کے تبادلے پر پھڈا ہوا اور بے نظیر بھٹو کو پنجاب میں پروٹوکول تک نہیں ملتا تھا، اسی دور میں تحریک عدم اعتمادجیسے واقعات بھی سامنے اور تاریخ کا حصہ بن چکے ہوئے ہیں۔


اب پھر حالات مفاہمت سے نکل کر محاذ آرائی کی طرف جارہے ہیں کہ شرجیل میمن کے ساتھ نیب کے سلوک نے آگ بھڑکادی، حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی افسروں کے حوالے سے دھمکی لگا دی ہے اور یوں الفاظ کی جنگ شروع ہوچکی ہے، سیاست پر مہرے الگ چلائے جارہے ہیں کہ وزیر اعظم اب سندھ میں بھی اپنا جماعتی تشخص بحال کرنے جارہے ہیں اور آصف علی زرداری پنجاب میں پوزیشن بہتر بنانے کی فکر میں جوڑ توڑ کررہے ہیں، وہ خود اور وزیر اعظم محمد نواز شریف تو نہیں بولے لیکن ان کی جماعتوں کے راہنما تندو تیز حملے کررہے ہیں یوں واپس 88 اور 90 والا دور نظر آنے لگا ہے، ویسے ’’ کرپشن‘‘ کا ذکر اتنا زیادہ ہے کہ ہم سب ذہنی طور پر سیاست ہی سے بے زار ہونے لگے ہیں جو قومی سطح پر کچھ اچھی بات نہیں، ضرورت ہے کہ ادارے بہتر اور اتنے مضبوط کردیئے جائیں کہ کسی کو شکایت نہ ہو اور کوئی ناجائز فائدہ بھی نہ اٹھا سکے شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی گئی اب ان کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، خوشی سے جائیں، سوال پھر پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا شرجیل میمن کی آمد پر ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ یہ ’’سلوک‘‘ مناسب تھا؟ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔