اکادمی ادبیات کے ملتان دفتر کا افتتاح اور بلند بانگ دعوے

جو بات لاہور یا اسلام آباد میں کسی شمار قطار میں نہیں سمجھی جاتی، وہ ملتان میں وقوع پذیر ہو تو ایک بڑے احسان کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔ ارباب اختیار اس کے ڈونگرے برساتے ہیں اور اپنے کارنامے کا ذکر کرتے نہیں تھکتے، جس طرح پیاسے کو منرل واٹر کی جگہ صرف پانی بھی دے دیا جائے تو احسان عظیم سمجھا جاتا ہے، اسی طرح جنوبی پنجاب کے لئے چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑھاچڑھا کر پیش کی جاتی ہیں۔ تقریب تھی، ملتان میں اکادمی ادبیات کے علاقائی دفتر کے افتتاح کی، صدارت کررہے تھے گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ، ان کے ہمراہ مہمان خصوصی تھے مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی، جبکہ اکادمی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو بطور میزبان موجود تھے۔ ہم بھی یہ تماشہ دیکھنے چلے گئے اور وہاں بیٹھ کر اس علاقائی دفتر کے قیام کی جو کہانیاں سننے کو ملیں، ان سے اندازہ ہوا کہ جنوبی پنجاب حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا خطہ ہے، جہاں پاکستانی نہیں بستے، بلکہ محروم لوگوں کی آماجگاہ ہے، جنہیں حقوق بھی خیرات میں دیئے جاتے ہیں۔مجھے اس وقت بہت شرمندگی محسوس ہوئی،جب گورنر ملک رفیق رجوانہ، مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی اور ڈاکٹر قاسم بگھیو اس دفتر کے قیام کی روداد سناتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی کرم فرمائی کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے اور ساتھ ہی اس صنعت کارکی تعریف وثناء بھی کررہے تھے، جو سٹیج پر بیٹھا تھا اور جس نے اس علاقائی دفتر میں فرنیچر کی فر اہمی اور دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ اس تقریب کے اخراجات بھی اُٹھائے تھے۔ ایک طرف کہا جارہا تھا کہ حکومت جنوبی پنجاب کا احساس محرومی دور کرنے کے لئے پورے وسائل مختص کررہی ہے اور ساتھ ہی صنعت کار سے یہ درخواستبھی کیجارہی تھی کہ وہ اکادمی کے تیسری منزل پر واقع دفتر تک بزرگ ادیبوں وشاعروں کی بآسانی رسائی کے لئے لفٹ لگوا دیں۔ حیرت ہے کہ گورنر پنجاب اور مشیر وزیر اعظم کی موجودگی میں اکادمی کے لئے مدد واعانت کی درخواست کی جارہی تھی۔ اس پر یہ دعویٰ بھی کیا جارہا تھا کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کے اہل قلم کی محرومیوں کا ازالہ کردیا ہے۔


سب سے دلچسپ باتیں عرفان صدیقی نے کیں۔ نجم سیٹھی کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ غیب کی خبر لانے والی چڑیا رکھتے ہیں، تاہم عرفان صدیقی نے جادوگری کا ایک اور نسخہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی فلاحی کام کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، وہاں سانپ سیڑھی کا کھیل جاری رہتا ہے، جو فائل آپ بڑی مشکل سے اوپر پہچاتے ہیں، وہ آخری مرحلے سے پھر نیچے لوٹا دی جاتی ہے۔ بقول ان کے اس کا توڑ انہوں نے یہ ڈھونڈا ہے کہ کسی بھی کام کی فائل بغل میں دبا کر وزیر اعظم نوازشریف کے پاس چلے جاتے ہیں اور منظوری لے آتے ہیں، اگر وہ مروجہ طریقہ اختیار کریں تو شاید کوئی کام بھی نہ کراسکیں۔ اب پتہ نہیں انہوں نے یہ بات وزیر اعظم کی تعریف میں کہی یا اس کے وہ معانی لئے جائیں جو ایسی بات سن کر منطقی طور پر ذہن میں آتے ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت میں ضابطہ کارنام کی کوئی چیز نہیں، جو وزیر اعظم تک رسائی رکھتا ہو اس کا کام ہو جاتا ہے۔ اس انکشاف سے تو وزیر اعظم کے مشیر نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ اسلام آباد میں بادشاہت قائم ہے اور جو بادشاہ تک پہنچ جائے، اس کا کام ہو جاتا ہے، باقی اقتدار کی غلام گردشوں میں دیواروں سے سر ٹکرا کر واپس آ جاتے ہیں۔ اکادمی ادبیات ملتان کا دفتر پچھلے تقریباً چھ ماہ سے فعال ہے، اس میں درجن بھر سے زیادہ ادبی تقریبات بھی ہو چکی ہیں۔ اس دفتر کا افتتاح تین بار ملتوی ہوا، کیونکہ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کی مصروفیات آڑے آ جاتی تھیں۔ اب حیرت اس بات پر ہے کہ جب دفتر نے چھ ماہ پہلے کام شروع کردیا تھا تو اب اس کے افتتاح کی کیا ضرورت تھی؟ غرض وغایت صرف یہی نظر آئی کہ محرومیوں کے شکار خطے کے لوگوں کو ایک اور احسان عظیم کے نیچے دبایا جائے۔ اب ذرا اس دفتر کے بارے میں بھی کچھ سن لیجئے۔ یہ دفتر ریڈیو پاکستان ملتان کی تیسری منزل پر بنایا گیا ہے۔ اکادمی نے دو افراد کا سٹاف تعینات کیا ہے، اب آپ مجھے بتائیں کہ اس پیمانے کا کام لاہور، اسلام آباد یا کراچی میں ہوتا تو کیا اس کا افتتاح کرنے بھی گورنر اور مشیر وزیر اعظم جاتے؟ ایک صنعت کارسپانسر سے تقریب کے لئے لاکھوں روپے لے کر اسے سٹیج پر بٹھایا گیا، علم دوست اور ادب دوست کے خطابات دیئے گئے، یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ اس کے بارے میں محکمہ سوئی گیس اور محکمہ ایف بی آرکی کیا رائے ہے؟


افتتاحی تقریب کو سیاسی جلسہ بنانے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔پنڈال میں ایک بڑی تقریب کا تاثر دینے کے لئے زیادہ کرسیاں تو لگا دی گئیں، مگر زیادہ ادیب شاعر اکٹھے نہ کئے جاسکے۔ غیر ادبی اور سیاسی لوگوں کی ایک بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔ عرفان صدیقی اور اسلم انصاری کے سوا سٹیج پر تقریر کرنے والا ہر شخص اپنے لب و لہجے سے اُردو کی ایسی تیسی کرتا پایا گیا۔ ادبی تقریب میں تلفظ اور غلط لفظوں کی بھرمارنے ثابت کردیا کہ ایک مافیا نے جوہر جگہ قابض ہو جاتا ہے، اس تقریب کوبھی ہائی جیک کرلیا۔ پنڈال میں موجود اہل قلم کو شدید حیرت اور کوفت اس وقت ہوئی، جب بزرگ ترین شاعر و ادیب اور اقبالیات کے عالمی شہرت یافتہ شارع و محقق ڈاکٹر اسلم انصاری کے بعد مزاحیہ شاعر خالد مسعود خان کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔ اس وقت ملتان تو کیا پورے پاکستان میں ڈاکٹر اسلم انصاری سے سینئر کوئی ادیب یا شاعر موجود نہیں۔ ان کے بعد ایک معمولی ادبی حیثیت رکھنے والے کو تقریر کے لئے بلانا ڈاکٹر اسلم انصاری کے مرتبے کی صریحاً توہین تھی، جسے پنڈال میں موجود تمام اہل قلم نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا۔ ممتاز اطہر ملتان کے ایک معروف شاعر ہیں۔ وہ اکادمی ادبیات ملتان دفتر کی گورننگ باڈی کے ممبر بھی ہیں، انہوں نے درجنوں ادبی تنظیموں کے ہمراہ اس تقریب کا اس لئے بائیکاٹ کیا کہ اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے ایسے لوگوں کو اکادمی کے دفتر پر مسلط کردیا ہے، جن کا ادب میں کوئی حصہ نہیں۔ ادارے بناکر دوست نوازی اور اقربا پروری کا مظاہرہ کرنا اس سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ آپ بنائیں ہی ناں۔ عرفان صدیقی جب اپنے خطاب میں یہ اعلان کررہے تھے کہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے اہل قلم کی کتابیں بھی اکادمی ادبیات شائع کرے گی اور اس کے لئے ملتان میں ادبیوں کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی تو اہل قلم یہ کہہ رہے تھے کہ اگر وہ کمیٹی بھی ایسی ہی بنانی ہے، جو اکادمی کے بورڈ آف گورنرز کے افراد جیسی ہوئی تو حقیقی ادیبوں وشاعروں کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ حیرت ہے کہ اکادمی کو پورے ملتان میں چند سینئر اور غیر جانبدار اہل قلم نہیں ملے، اس نے اپنے قدم جمانے کے لئے ان لوگوں کا سہارا لیا جو اداروں پر قبضے کی خواہش رکھتے ہیں اور حقیقی لوگوں کو سامنے نہیں آنے دیتے۔
گورنر رفیق رجوانہ اس دفتر کے قیام کا کریڈٹ لیتے ہوئے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ انہوں نے اس خالصتاً ادبی تقریب میں بھی سیاست کا تڑکا لگا دیا اور کہا کہ دھرنے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ ہم جنوبی پنجاب کے لئے کتنا کام کررہے ہیں۔ اہل قلم کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہمارے اچھے کاموں کی تعریف کریں، مگر ساتھ ہی انہوں نے حکومت کے کم وسائل کا ذکر شروع کردیا۔ یہ وہ بات ہے جو جنوبی پنجاب کے ادیبوں ، دانشوروں اور عام آدمی کے دل پر تیر بن کر لگتی ہے۔ لاہور کے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے والے جنوبی پنجاب کے لئے چند کروڑ دیتے ہوئے بھی وسائل کی کمی کا رونا رونے لگتے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری دفتر میں فرنیچر اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے بھی کسی مخیر سپانسر کو ڈھونڈتے ہیں۔ گورنر کے پاس کروڑوں کے صوابدیدی فنڈز ہوتے ہیں، ان میں سے اکادمی کے دفتر کے لئے چند لاکھ مختص کرنے کی بجائے جب ایک سرمایہ دار سے تعاون کی خیرات مانگی جاتی ہے، تو کم از کم مجھ جیسے لکھنے والے کو یوں لگتا ہے جیسے میں سرمایہ دارانہ کلچر کا غلام ہوں اور میری حرمتِ قلم کو چند ٹکوں کی خاطر اربابِ اختیار نے بیچڈالا ہے۔ سنگ و خشت کے جہان آباد کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک جنوبی پنجاب کے بارے میں اشرافیہ کی سوچ میں تبدیلی نہیں آتی ۔ اکادمی ادبیات نے حال ہی میں اہل قلم کی جو بین الاقوامی کانفرنس کرائی تھی، اس میں جنوبی پنجاب سے چار لوگ بھی نہیں بلائے گئے تھے،مگر چیئرمین اکادمی ادیبات اپنے خطاب میں انہیں ہرفورم میں نمائندگی دینے کے بلند بانگ دعوے کررہے تھے۔ ہر نوع کے چھوٹے بڑے حکمرانوں کو نجانے اس بات کی سمجھ کب آئے گی کہ اب زمانہ بدل گیا ہے، جنوبی پنجاب کے لوگوں کو بے وقوف بنانا اور سمجھنا اب بند کردیا جائے۔ مومن کو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاسکتا، یہاں تو ستر برس ہوگئے ہیں، امتیازی سلوک جاری ہے، چھوٹے چھوٹے کاموں کو احسانِ عظیم بنا کر پیش کرنے سے اب بات نہیں بنے گی، اس خطے کے لوگ اپنا پورا حق چاہتے ہیں، اب اس مطالبے کو مزید چکنی چیڑی باتوں سے ٹالا نہیں جاسکتا۔