تلوار سے ڈرون تک (1)

آج سب سے پہلے میں قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ کل کے کالم میں ڈیرہ دون کو ارونا چل پردیش کا شہر لکھ دیا گیا حالانکہ یہ مشہور و معروف عسکری درسگاہ شمالی ہند کے صوبے اتر کھنڈ میں واقع ہے اور یہ وہ ملٹری اکیڈمی ہے جو تقسیم برصغیر سے پہلے قائم کی گئی تھی۔ اس ’’عظیم الشان سہو ‘‘کی طرف سب سے پہلے برادرم منیب حق نے توجہ دلائی اور اس کے بعد پانچ سات آرمی آفیسرز نے بھی فون کرکے مجھے شرمسار کیا۔ ویسے کمال یہ بھی ہے کہ میرے ذہن میں اتر کھنڈ ہی تھا لیکن تحت الشعور اور شعور کی کارفرمائیاں اور غلط بخشیاں تو مشور ہیں۔علاوہ ازیں انڈیا کی (اور دنیا کی بھی) بلندترین ائرفیلڈ بھی اروناچل پردیش میں نہیں لداخ میں ہے اور دولت بیگ اولدی میں واقع ہے اور 16ہزار فٹ سے زیادہ بلند ہے۔۔۔ اپنی ندامت کو مزید واضح کرنے کے لئے شمالی ہند کا نقشہ ذیل میں دیا جا رہا ہے جس میں ارونا چل پردیش، اتر کھنڈ اور ہماچل پردیش کی نشاندہی کی گئی ہے ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آج کا کالم شروع کرتے ہیں۔ اس کی شائد ایک دو اقساط اور بھی ہو جائیں کیونکہ اس کا موضوع ایسا ہے کہ اختصار نویسی کی کوشش کے باوجود پھیل سکتا ہے۔


زمانی اعتبار سے جس طرح ہم ماضی، حال اور مستقبل کو تقسیم کرکے گزرے ہوئے، گزر رہے اور آنے والے وقت کا تعین کرتے ہیں اسی طرح تاریخ دانوں نے تاریخی عہد کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ جن کو بالترتیب عہد قدیم، عہد وسطیٰ اور عہد جدید کا نام دیا جاتا ہے۔ عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو عہد قدیم وہ عہد ہے جس میں تیر، تلوار اور نیزہ بھالا تو استعمال کئے جاتے تھے لیکن کوئی مشین یا مشینی آلہ ایسا ایجاد نہیں ہوا تھاجو فن جنگ پر اثر انداز ہوتا ۔ اس کے بعد از منہ وسطی جو ساتویں صدی عیسوی سے لے کر پندرہویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے، ابتدائی مشینوں اور ایجادوں کا دور ہے۔ اس دور میں فوجی لوگ مشینوں کے استعمال سے گریز کرتے رہے۔ وہ جسمانی قوت کو مشینی قوت پر ترجیح دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ زورِ بازو کے بل بوتے پر لڑائی جیتنا عینِ مردانگی ہے جبکہ مشینوں کے زور پر فتح حاصل کرنا مشینوں کی فتح تو کہلا سکتی ہے، انسانی دلیری کا نام نہیں پا سکتی۔ بلکہ بعض انتہا پسند تو مشینوں کے میدان جنگ میں استعمال تک کو بزدلی خیال کیا کرتے تھے۔۔۔پھر سولہویں صدی میں جب مشین نے اپنا لوہا منوانا شروع کیا تو عہد جدید کا آغاز ہوا۔


اب اکیسویں صدی شروع ہے اور لوگ قوت بازو کو بھول کر دماغی صلاحیتوں پر زیادہ تکیہ کرنے لگے ہیں۔ فوج میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو اس قدر بار مل چکا ہے کہ عہدِ وسطیٰ کے معرکے اب فرسودہ نظر آنے لگے ہیں۔ پہلے انسانی خون بہانے کو ’’عسکری شرف‘‘ گردانا جاتا تھا جبکہ آج عہدِ جدید میں سپاہی کی جان بچانے کے لئے ہزار حیلے اور لاکھ بہانے ایجاد ہوچکے ہیں۔ آج کسی ملک کی کوئی فوج جدید ٹیکنالوجی سے لاتعلق نہیں رہ سکتی اور اگر رہے گی تو اس کا انجام نوشتہء دیوار ہوگا۔


کہا جاتا ہے کہ جنگ اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ یونان کے مشہور شاعر اور فلاسفر ہومر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’انسان شاعری، موسیقی، سنگ تراشی اور دوسرے تمام فنونِ لطیفہ سے بہت جلد اکتا جاتا ہے۔ لے دے کے جنگ و جدال ایک ایسا فن ہے جس سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ وہ اسے جی بھر کر انجوائے کرتا ہے‘‘۔۔۔ دیکھا جائے تو ہومر کی بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ دنیا کے تمام علوم و فنون میں سب سے زیادہ رنگارنگ اور دلچسپ فن صرف اور صرف جنگ کا فن ہے۔ انسان کالا ہو یا گورا، مشرق کا باسی ہو کہ مغرب کا، شمال کا باشندہ ہو کہ جنوب میں رہنے والا ہو اور زبان، مذہب اور معاشرت اس کی کوئی سی بھی ہو، مرنے مارنے اور لڑنے بھڑنے میں ’’مضمون واحد‘‘ والا حساب ہے!


اس تمہید کے بعد آیئے دیکھتے ہیں کہ عہد قدیم میں انسان کا جنگی مزاج کیسا تھا اور اس نے میدانِ جنگ میں ابتدائی سائنس کو کتنا اور کس طرح استعمال کیا۔
اس بات پر تو دو رائیں کبھی نہیں ہوئیں کہ یونانی لوگ تہذیب و تمدن اور دیگر علوم و فنون میں بنی نوع انسان کے پیش رو تھے اور فن جنگ میں بھی ان کا یہی حال تھا۔ سکندر اعظم سے بھی ڈیڑھ سو سال پہلے کا ذکر ہے۔ یونانی ان دنوں دنیا کی دوسری سپرپاور تھے۔ ایرانی ان کے رقیب تھے۔ کہتے ہیں ایک یونانی انجینئر ہرپالس (Harpalus) کسی وجہ سے حکومت سے ناراض ہو کر ایران بھاگ گیا تھا جسے اس زمانے میں پرشیا کہا جاتا تھا۔ اس نے پرشیا کے حکمران، کو روش کبیر کورائے دی کہ در دانیال کے سمندری پانی پراگر بحری جہازوں کا پل بنا دیا جائے تو اس طرح ایرانی افواج یونان میں داخل ہو سکتی ہیں۔ ایرانی شہنشاہ کو یہ سکیم پسند آ گئی اور اس نے ہرپالس کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا۔ جہازوں کا دہراپل بنایا گیا۔ ایک طرف 360جہاز اور دوسری طرف 320جہاز ایک دوسرے کے ساتھ متوازی باندھ کر ایک قسم کی دو رویہ موٹروے تعمیر کر دی گئی جس پر پرشیا کا عسکری ٹریفک رواں دواں ہو کر یونان میں داخل ہو گیا اور یونانیوں کو عبرناک شکست ہوئی۔۔۔ ایک انسان کے ذہنی اور سائنسی امکانات کا یہ ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جو آج کے معیاروں کے اعتبار سے بھی خاصا مرعوب کرنے والا ہے۔


سینکڑوں سالوں تک تلوار اور ڈھال قدیم دور کے سپاہی کا ہتھیار رہے۔ تیر کمان کا زمانہ بہت بعد میں شروع ہوا اور یہ بھی شاید ایک دلچسپ اتفاق ہو کہ انفرادی تیر کمان بہت بعد میں ایجاد ہوا، اس کی ایک اجتماعی شکل جسے منجنیق اور بیلستا (Ballista) کہا جاتا تھا بہت پہلے ایجاد ہوئی اور برسوں استعمال میں رہی۔۔۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔۔۔ یہ کریڈٹ بھی یونانیوں ہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے آگ کو بطور ایک فوجی ہتھیار کے استعمال کیا۔ یونانیوں نے گندھک، رال، قلمی شورہ اور پٹرولیم کو ملا کر ایک ایسا مرکب تیار کر لیا تھا جو بیلستا کے ذریعے دشمن کے شہروں، قلعوں اور بحری جہازوں پر پھینکا جاتا تھا۔ یہ پانی سے نہیں بجھتا تھا بلکہ اور بھڑکتا تھا ۔اسی لئے مورخین اسے عہدِ قدیم کا ’’نیپام بم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ فن یونانیوں سے شامیوں اور پھر ایرانیوں نے سیکھا۔ ایرانی اسے ’’نفت‘‘ کا نام دیتے تھے۔ ایرانیوں کا یہی نام بعد میں عربوں نے بھی استعمال کیا۔ رومی شہنشاہ کا نسٹنٹائن نے جب 673ء میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا تو اس نے اپنے بحری جہازوں سے اسی قسم کے نیپام بم، قسطنطنیہ کی محصور فوج پر گرائے تھے۔


مسلمانوں نے اس فن میں مزید نکھار پیدا کیا اور مسلم افواج نے آگ کے اس میزائل کو متعدد لڑائیوں میں استعمال کیا۔ محمد بن قاسم کی فتح دیبل (712ء) سے لے کر عکرہ کی فتح (1190ء) تک اس ہتھیار کا چرچا رہا۔ صلیبی جنگوں میں بھی اسلامی فوجوں نے اسے خوب خوب استعمال کیا۔ ایک عیسائی مورخ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’یہ میزائل ایک بڑے نیزے کے سائز جتنا ہوتا تھا۔ جب یہ ہوا میں تیرتا نظر آتا تو اس کی دہشت بہت زیادہ ہوتی۔ اس کی آواز بھی ڈرانے والی ہوتی تھی: ہم لوگ اپنے خیموں میں بیٹھے اس میزائل سے خوفزدہ ہوتے رہتے لیکن کچھ کرنہ سکتے۔ یہ جہاں گرتا وہاں آگ بھڑک اٹھتی جو کوشش کے باوجود بجھائی نہ جا سکتی۔۔۔‘‘


اس قسم کے ہتھیار اور اس نوع کی ایجادات اور بھی ہوں گی جو دشمن کے خلاف خاصی موثر ثابت ہوتی تھیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پرمزید تحقیق و جستجو کرکے اسے آگے کیوں ترقی نہ دی جا سکی۔ تاریخ دان اس باب میں خاموش ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔


ایک تو یہ کہ عہد قدیم اور عہد وسطیٰ دونوں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا وہ انداز جو بعد میں(اور آج بھی) ایک معیار بن کر سامنے آیا، مفقود تھا اور ہتھیاروں کی معیار بندی کا طریقہ تو عہد جدید کی پیداوار ہے۔۔۔۔


دوم یہ کہ اس قسم کی ایجادیں نہایت خفیہ رکھی جاتی تھیں۔ جس طرح پرانے حکیم اپنے تیر بہدف نسخے سینوں ہی میں لے کر قبر میں اتر جایا کرتے تھے اسی طرح عسکری موجد بھی اپنی ایجادات کو ہوا نہیں لگاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ اپنے خاندان کے چند لوگوں کو ضرور بتایا کرتے جو یا تو اندھی تقلید کی وجہ سے اصل ’’ورشن‘‘ پر کوئی اضافہ نہ کرسکتے یا ذہنی رجحان نہ ہونے کے سبب یہ فن بجائے آگے نکلنے کے فراموشی کی طرف سفر کر جاتا۔


سوم یہ کہ ذرائعِ مواصلات کی محدودیت بھی آڑے آئی۔ علوم و فنون کاباہمی تبادلہ یا تقلید اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب رسل و رسائل اور مواصلات کی سہولتیں بکثرت موجود ہوں۔ آج کی طرح اس دور میں دنیا سکڑی نہ تھی اور اس لئے ایک خطے کا فن دوسرے خطہء ارض میں پہنچتے پہنچتے برسوں لگ جاتے۔ مثلاً بابر سے پہلے تیمور نے بھی ہندوستان پر حملے میں اپنا توپخانہ استعمال کیا تھا۔ لیکن اس استعمال کا سکیل چونکہ محدود تھا اس لئے مورخین نے بابرکا حوالہ یاد رکھا اور تیمور کو بھلا دیا۔ لیکن اہل ہند نے بابر کے بعد بھی سینکڑوں سالوں تک توپ سازی کے فن میں جو پیش رفت کی وہ اُس پیش رفت کے مقابلے میں عشرِ عشیر بھی نہ تھی جو اہلِ یورپ نے اسی مدت میں کی اور جس کے صدقے میں سفید فام اقوام دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا پر چھا گئیں۔ بہرحال یہ موضوع دوسرا ہے۔۔۔


ہم عہد قدیم میں عسکری ہتھیاروں پر سائنسی اثرات کا ذکر کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ اثرات اتنے سست گام تھے کہ ایک ہتھیار کا اثر و نفوذ دوسرے خطہ ء ارض میں سینکڑوں سالوں کے بعد پہنچتا تھا۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ چینیوں نے سب سے پہلے بارود ایجاد کیا۔ اہل چین کے دو بڑے اور حیرت انگیز کارنامے ہیں اور دونوں تاتاریوں کے مسلسل حملوں کو روکنے کے لئے ایجاد ہوئے۔ تاہم چینیوں نے بارود کا جو فارمولا 1232ء میں بنایا تھا وہ 1600ء میں یورپ میں پہنچ سکا اور 1860ء میں امریکہ تک میں وہی فارمولا رائج رہا۔تھوڑی بہت پیش رفت ضرور کی گئی جو چنداں قابل ذکر نہیں۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کیمسٹری (علم کیمیاء) کا علم یا اس کی سائنس اتنی آہستہ رو تھی کہ پانچ سات سو سالوں کے بعد جا کرکہیں لوگ اس فن کی باریکیوں اور نزاکتوں سے آگاہی حاصل کر سکے اور اسے آگے بڑھا سکے۔(جاری ہے)