مفتی کے سینے میں دل نہیں کیا

مفتی کے سینے میں دل نہیں کیا
 مفتی کے سینے میں دل نہیں کیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کیا شیخ کی تلخ زندگانی گزری
اک شب نہ بے چارے کی سہانی گزری
دوزخ کے تصور میں بڑھاپا بیتا
حوروں کے تخیل میں جوانی گزری
ہائے ہائے! یعنی مفتی کے سینے میں دل نہیں کیا؟ وہ کیوں تخیل اور تصور کے بیچ جوانی اور بڑھاپے کا ستیا ناس فرمائیں؟ مفتی انسان نہیں ہوتے کیا؟ وہ بھی تو کسی زلف کے اسیر ہو سکتے ہیں، ان کی ٹوپی بھی حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے کسی سروقامت کے سر پر سکونت اختیار کر سکتی ہے۔ حد ہے! کیا ہوا جو قندیل بلوچ اس عنایت کی تاب نہ لا سکی۔ برا ہوا جو نجی محفل کے مناظر منظرِعام پر آگئے، وگرنہ ایسی بھی کیا بات تھی کہ یہ فلم کئی دن تک نیوز چینلز پر چلتی۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ جب دماغ اندھا ہو تو پھر آنکھوں کا کیا فائدہ۔ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ ہمارے دماغ چل چکے ہیں، ہم شاک پروف جو ہو چکے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم بارہ مصالحوں والی خبریں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ بھاڑ میں گئی تحقیق اور سنجیدہ بحث۔ بارہ مصالحے پورے کرو، جنتا بھی خوش، سیٹھ بھی خوش۔ دیہاڑی کھری، جیب ہری۔


ہاں یاد آیا۔۔ تو ہم’آئین‘پر بات کر رہے تھے۔ تو ذیلی شق 'چار سو بیس 'کے تحت چرچا مفتی قوی کی قندیل بلوچ سے ملاقات کی تھی۔ بیچ اس مسئلے کے علمائے دین تو سخت نالاں ہیں، ایسے میں ان سے رائے لینا درکنار اس مدعے کا ذکر تک گناہ کبیرہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ لے دے جو ہوئی سو ہوئی، رویت ہلال کمیٹی نے تو مفتی قوی کوعید کے چاند سے پہلے ’چاند‘ دیکھنے پر کڑی سزا سناتے ہوئے ان کی رکنیت ہی معطل کر دی ہے۔ وزیر مذہبی امور نے علماء مشائخ کونسل کو تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے(نہیں معلوم علما مشائخ کونسل تحقیق و تفتیش کس نقطے پر کرے گی) صرف یہی نہیں بلکہ علما ء مشائخ کونسل نے مفتی صاحب کی رکنیت بھی معطل کر دی۔ اب مفتی قوی علماء مشائخ کونسل کو بتائیں گے کہ قندیل پر جادو تھا یا قندیل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا؟ اور تو اور سینیٹ کی کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے اجلاس میں بھی یہی مدعا زیر بحث رہا۔ اس کمیٹی کے سربراہ حافظ حمداللہ ہیں جو ماروی سرمد کیس میں عبوری ضمانت پر ہیں۔ ایجنڈے میں رویت ہلال کمیٹی کو قانونی حیثیت دینا سر فہرست تھا۔ جب رویت کمیٹی کے اراکین کے نام پکارے گئے تو حافظ حمداللہ مفتی قوی کے نام پر چونک اٹھے، کہا یہ وہی مفتی ہیں جن کی قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں؟ حکام کی جانب سے اثبات میں سر ہلا تو حافظ صاحب نے فرمایا: ’’تصاویر میں قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کی ٹوپی اپنے سر پر رکھی ہوئی ہے تو اس لیے بہتر ہوگا کہ انہیں بھی رویت ہلال کمیٹی میں شامل کر لیا جائے‘‘اس تجویز کا ظاہر ہے قہقہوں کے ساتھ لطف لیا گیا، لیکن حافظ صاحب کی تجویز کو خدارا محض مزاح نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اک حسینہ کے ساتھ ’رازونیاز‘کرنے والوں پر پھبتیاں وہ کس رہے ہیں جو اک عورت کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتے پھرتے ہیں۔ حیف صد حیف۔


رہی تحریک انصاف سے مفتی قوی کی وابستگی تو ہمارے پسندیدہ ترین ترجمان نعیم الحق صاحب اینڈ کمپنی انہیں ’دیس نکالا‘ دے چکے۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، ہر سْو مفتی صاحب کی بینڈ بجائی جا رہی ہے۔
منصور آفاق نے شاید اسی موقعے کے لیے کہا تھا:
فتوی دو میرے قتل کا فوراً جناب شیخ
مَیں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
ملاقات کا پس منظر کیا ہے، ملاقات کن حالات میں ہوئی، اور ملاقات کے محرکات کیا ہیں، غالباً یہ سوالات اب جزوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اہم معاملہ یہ ہے کہ قوی صاحب قندیل بلوچ نامی خاتون سے ملے کیوں؟ بنیادی اعتراض اب یہی ہے۔
اچھا! ملے تو تنہائی میں کیوں ملے؟
کیوں میاں! بیچ چوراہے مل لیتے کیا؟
مفتی صاحب کی ٹوپی قندیل بلوچ نے کیوں پہنی؟
کیوں بھیا! آپ نے پہننی تھی کیا؟
مفتی صاحب کی واسکٹ کیوں اتری ہوئی تھی؟
بندہ پوچھے ، قبلہ! آپ نے ان کی جیب میں رومال سجانا تھا کیا؟
ویسے ایک بات عرض کرتے چلیں، اس ملاقات میں کس نے کسے ٹوپی پہنائی، یہ کہانی ادھوری ہی رہے تو زیادہ لطف ہے۔ آپ کون ہیں گتھی سلجھانے والے ؟ کیا آپ ٹوپی پہنانا چاہتے تھے یا پہننا؟ پہلے اپنا دامن جھاڑ لیجئے پھر کسی اور پر انگلی اٹھائیے گا! ایک نجی ٹی وی نے تو مفتی صاحب کی جعلی آواز بھی نشر کر دی جس میں مفتی صاحب فرما رہے تھے کہ وہ نکاح کا پیغام لے کر موصوفہ سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ ایک اور ٹاک شو میں دونوں آمنے سامنے بٹھا دیئے گئے اور بحث بدستور وہی تھی کہ ملاقات کا مقصد کیا تھا؟ یہ ملاقات برسرراہ تھی یا راہ و رسم کی صورت نکالنے کو، یہ معاملہ بھی ان کہا ہی بھلا۔
جب کچھ نہ بن پایا تو توپوں کا رخ معصومہ قندیل بلوچ کی جانب موڑ دیا گیا کہ جناب اس خاتون کی تو حرکتیں ہی ایسی ہیں، یہ تو ہمیشہ سے ’توجہ ‘چاہتی ہے اور یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر اور ویڈیوز موصوفہ کی شخصیات اور ان کے عزائم کی نشاندہی کو کافی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے حاجی ثنا اللہ صاحبان موصوفہ کی تصاویر انتہائی انہماک اور لگن کے ساتھ دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک کا ساماں کرتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو قندیل بلوچ کی انسٹا گرام پر پوسٹ کی گئی تصاویر پر ’ لائکس‘ کی تعداد ضرور دیکھئے۔ بآسانی اندازہ ہو گا کہ ان صاحبانِ قوم و ملت کے دیدے کس قدر ترسے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تھوڑی سی مزید محنت سے انہی تصاویر کے نیچے درج ’کمنٹس‘ بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ بظاہر غیرت مند اور پکے سچے مسلمان حضرات اپنے تبصروں میں مذکورہ خاتون سے کس نوعیت کے مطالبے کرتے ہیں، کوئی بھی صحیح الدماغ شخص پڑھ کر چکرا جائے۔


قندیل بلوچ کے ان سائبر عشاق کے تبصرے اور مطالبے ایک تحقیقی مقالے کے متقاضی ہیں، ضمانت لے لیجئے کہ سماجی و نفسیاتی علوم کے ماہرین دلچسپ نتائج سامنے لائیں گے۔ویسے مفتی صاحب صالح ارادوں کے ساتھ اگر موصوفہ کو نکاح کی پیشکش کرنے گئے تھے تو اس میں برا ہی کیا ہے؟ اور اگر مفتی صاحب ’سوشلائزیشن‘ کے ذریعے محترمہ کو دین اسلام کا پیغام دینے گئے تھے توکون سا کبیرہ گناہ سر زد ہو گیا؟ ہاں ! ہوٹل کے کمرے میں اس طرح کسی نا محرم سے ملنا یقیناسوالیہ نشانات کا باعث بنے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مفتی صاحب نے زبردستی محترمہ کو کمرے میں بلایا؟ یا محترمہ نے مفتی صاحب کو کنپٹی پر بندوق رکھ کر کمرے تک منتقل کیا؟ اگر ایسا نہیں تو پھر۔۔۔کیا کرے قاضی؟ اور اگر معصومہ قندیل بلوچ خود ہی مفتی صاحب سے اسلام کی روشنی میں ہدایت پانے آئی تھیں تو اس میں ناک چڑھانے اور منہ چڑانے کی کیا ضرورت؟ یعنی حد ہے!


اب آپ سو چ رہے ہوں گے کہ کیسا صحافی ہے جو خوامخواہ وقت ضائع کئے جا رہا ہے ، تو لیجئے بہت اندر کی خبر پیش کیئے دیتے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پانامہ لیکس کے ہنگام بڑھتے ہوئے سیاسی اور عوامی دباو کو کم کرنے کے لئے تحریک انصاف کے سنجیدہ حلقوں کو بدنام کرنے کی انتہائی مہیب، کریہہ، اور خوفناک سازش رچا ئی گئی ہے، مفتی قوی کو پھانسنا اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

مزید :

کالم -