پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت گھروں کی تعمیر کی شرح انتہائی کم ہے

کامرس

لاہور (کامرس رپورٹر)ماہرین تعمیرات نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو 2025 ء تک 24 کروڑ تک پہنچ جائے گی لیکن یہاں دیگر ایشیائی ملکوں کی طرح گھروں کی تعمیر کی شرح انتہائی کم ہے جس کے باعث 2025 ء تک ملک کو 2 کروڑ گھروں کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فرنیچر کونسل اور چن ون بلڈرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے ماہرین تعمیرات اور سرمایہ کاروں کے ایک 7 رکنی وفد سے تفصیلی ملاقات کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ ملک میں نئے مکانات کی تعمیر کی شرح بڑھتی آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے اگر صورتحال برقرار رہی تو 2025 ء تک ملک کو رہائشی بحران کا سامنا کرنا ہوگا جس سے بچنے کیلئے مستحکم اور صحیح اقدامات کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی آبادی کے تناسب سے سالانہ 10 لاکھ مکانات کی تعمیر لازمی ہے جس کے مقابلے میں صرف 1,50,000-2,00,000 مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ بھارت نے سات سال میں 2 ٹریلین امریکی ڈالر سے 2 کروڑ گھروں کی تعمیر کا اولوالعزم منصوبہ بنایا جس پر بہت سا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشرے کے نچلے درمیانے اور غریب طبقات کیلئے قابل رسائی ہاؤسنگ فنانس کے حوالے سے سکیمیں متعارف کرائے ۔ان کا کہنا تھا کہ 10000-25000 روپے ماہانہ آمدنی کے حامل لوئر مڈل طبقے کیلئے شاید ہی کوئی قرضہ سکیم موجود ہو۔پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کی شرح مجموعی قومی پیداوار کی صرف 1 فیصد ہے اس کے مقابلے میں بھارت میں 7 فیصد جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں 50 فیصد کے برابر ہے۔میاں کاشف نے حکومت سے کہا کہ وہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی طرح ہاؤسنگ کے شعبے کے منصوبوں کا دائرہ وسیع کرے۔اس کے علاوہ ایسے افراد جو گھروں کی تعمیر کیلئے زمین خریدنے کی سکت نہیں رکھتے انھیں بلا معاوضہ زمین فراہم کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو حقیقی آبادی اور گھروں کی اصل تعداد سے آگاہی کیلئے فوری طور پر ایک شماریاتی جائزہ کرانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے ماہرین تعمیرات اور سرمایہ کاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ان کا کہنا تھا کہ چن ون بلڈرز نے ہاؤسنگ کے شعبے میں 38 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد میں 2350 گھر اور رہائشی یونٹ تعمیر کیے جائیں گے جہاں 5 سٹار سہولیات فراہم کی جائیں گی۔