فیروزوالا: اے ایس آئی کی 11 سالہ بچی سے زیادتی، حاملہ کردیا

جرم و انصاف

فیروزوالا (ویب ڈیسک) تھانہ فیروزوالا کا اے ایس آئی اوباش خواتین کے ساتھ مل کر ایک سال تک 11 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا جس سے بچی حاملہ ہوگئی جبکہ پولیس تھانہ شاہدرہ نے مقدمہ درج کرلیا لیکن اپنے پیٹی بھائی کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے جس پر بچی کے ورثا نے احتجاجی مظاہرہ کرتے وہئے سڑک بلاک کردی۔

شاہدرہ کے رہائشی سلمان نے بتایا کہ اس کی 11 سالہ بہن بڑے بھائی عبدالرﺅف کے پاس مقیم تھی جس کی ساس اور بیوی کا کردار درست نہیں اور وہ دونوں تھانہ فیروزوالا کے اے ایس آئی شوکت کو گھر بلا کر معصوم سے زبردستی زیادتی کرواتیں یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا جس کے بعد بچی نے تنگ آکر اپنے بھائی کو بتانے کا کہا تو دونوں خواتین نے اسے گھر سے نکال دیا جہاں سے وہ دوسرے بھائی سلمان کے پاس گئی، جس کے ایک ماہ بعد اس کے پیٹ میں درد ہوا تو ہسپتال لیجانے پر انکشاف ہوا کہ بچی ایک ماہ کی حاملہ ہے پوچھنے پر بچی نے سارا واقعہ بیان کردیا۔

سلمان نے بتایا کہ ماڈل تھانہ شاہدرہ میں اے ایس آئی شوکت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے لیکن پولیس ملزم کو گرفتار کرنے پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ بچی کے ورثا اور اہل علاقہ نے جی ٹی روڈ بلاک کرکے ایس پی انویسٹی گیشن کرار حسین کےخلاف شدید احتجاج کیا اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔بچی کے ورثاءکے احتجاج پر ڈی پی او شیخوپورہف راز ورک نے نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی چھان بین کیلئے انکوائیری کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ طلب کرلی۔