رشتہ توڑنے پر لیڈی کانسٹیبل کے دباؤ پر خاندان علاقہ بدر ہونے پر مجبور ہوگیا

جرم و انصاف

کھیوڑہ (ویب ڈیسک)  رشتہ دینے سے انکار پر پنڈ دادنخان کے نواحی علاقہ کسلیاں کی لیڈی پولیس کانسٹیبل فرزانہ سجاد اور اس کے بھائی محمد شفاعت کی مقامی پولیس کی پشت پناہی میں ہونیوالی غنڈہ گردی کا ستایا غریب خاندان گھر بدرہونے پر مجبور ہوگیا۔
پنڈ دادنخان کے نواحی گاﺅں کسلیاں کی رہائشی ظہوراں بی بی زوجہ عبدالستار نے بتایاکہ اس کے خاوند اور دو بیٹے مزدوری کے سلسلہ میں لاہور ہوتے ہیں، پولیس  ملازم فرزانہ سجاد کے بھائی کے غلط کرتوتوں کی وجہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ توڑ دیا تھا جس کے بعد ان لوگوں نے ہماری زندگی ا جیرن کردی ہے۔ گزشتہ ماہ فرزانہ کے بھائی شفاعت نے ہماری دیوار پھلانگ کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میری بیٹی، بیٹے اور مجھے وحشیانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی خبریں شائع ہونے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی۔ کچھ دن تھانہ پنڈ دادنخان میں  رہنے کے بعد شفاعت جب ضمانت پر رہا ہوکر آیا تو پولیس نے ہمیں انکوائری کے لئے تھانہ پنڈدادنخان بلوایا اور دھمکاتے رہے۔بعدازاں  شفاعت نے ہمارا دروازہ توڑ کر ہماری تمام قیمتی اشیاءچوری کرکے لے گیا، ہم نے واپس آکر پولیس کو درخواست بھی دی تو پھر بھی پولیس نے نہ تو ایف آئی آر درج کی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔
ہم نے سول کورٹ پنڈ دادنخان میں مقدمہ کیا جس پر معزز عدالت نے زیر دفعہ A2-L2 337 بروز منگل 25-10-2017 شفاعت کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جس کی کاپی ایس ایچ او تھانہ پنڈ دادنخان ملک نثا رکو دئیے لیکن ابھی تک نہ تو شفاعت کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کی۔ ایس ایچ او نثار ہمیں ڈراتا دھمکاتا ہے اور ہماری بات سننے کے لئے تیار، نہ ہی ہمیں ملتا ہے۔ فرزانہ ہمارے خلاف جھوٹی درخوست بھی دے تو پولیس کی بھاری نفری ہمارے گھر آکر ہمیں ڈراتے دھمکاتے ہیں جبکہ ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم پر پولیس کوئی کارروائی نہیں کرتی۔
شفاعت ہمیں دھمکیاں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میرے خلاف قانونی کارروائی بند نہ کی تو تمہارا جینا محال کردوں گا جس کی وجہ سے ہمیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے اور ہم کسلیاں سے لاہور شفٹ ہوگئے ہیں۔