ونی، ڈھائی سالہ بچی کا نکاح، 10سالہ بچے سے پڑھا دیا گیا

جرم و انصاف

آٹھ مقام (ویب ڈیسک) نیلم میں ایک معصوم بچی کو ونی کی بھینٹ چڑھادیاگ یا۔ نام نہاد جرگہ نے کٹن لنڈی نکہ سے تعلق رکھنے والی ایک بچی کو ونی کی نذر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع نیلم کے علاقہ کٹن میں اڑھائی سال کی معصوم بچی علیزہ دختر اورنگیزب ساکنہ لونڈی نکہ کا نکاح نام نہاد معززین علاقہ نے دس سالہ محمد عباس کے ساتھ پڑھادیا اور ساتھ یہ طے پایا کہ بچی کے بالغ ہونے پر رخصتی نہ کرنے پر والد کو مبلغ 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

بچی کے والد کو سٹی تھانہ آٹھ مقام میں بند کرواکر بچی کے دادا سے بندوق کی نوک پر تحریر لکھوائی اوربچی کا نکاح کردیا جرگہ کی جانب سے لکھی جانے والی تحریر کو دبانے کی کوش کی گئی جس کے بعد بچی کا والد اور دادا پولیس کے پاس پہنچ گئے۔ ورثاءنے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف جسٹس آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی تنظیموں سے انصاف کی اپیل کی ہے جبکہ انصاف نہ ملنے پر بچی کے خاندان نے اجتماعی خود سوزی کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے دونوں فریقین کو دو دن کی مہلت دی لیکن معاملات نہ سلجھ سکے۔ جرگہ میں لکھی جانے والی تحریر جو کہ معلم محکمہ تعلیم کے مدرس قمر دین کی تحریر کردہ ہے پر 15 افراد کے نام اور جعلی دستخط موجود ہیں جبکہ تحریر کے مطابق 11 دسمبر 2016ءکو تنازعہ توہین عزت پر برادری جرگہ ہوا جس میں توہین عزت کی بناءپر اورنگزیب کی معصوم تین سالہ بچی کا نکاح محمد عباس ولد محمد یعقوب کے ساتھ پڑھادیا گیا۔ نکاح خواں مولانا عبدالحادی جن کا تعلق کٹن کالنی سے بتایا جاتا ہے کو مکمل دھوکے میں رکھ کر اور یرغمال بنا کر یہ نکاح پڑھایا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ محکمہ پولیس کے کچھ اہلکار لڑکے والوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔