پنجاب یونیورسٹی کی قتل ہونیوالی خاتون پروفیسر کی صاحبزادی کی قاتل سے ملاقات، اس نے آگے سے ایسی دردناک بات کہہ دی کہ سن کر ہی انسان کی روح بھی کانپ اٹھے

جرم و انصاف

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب یونیورسٹی کی ریٹائرڈ پروفیسر طاہرہ ملک کے قتل کے شبہ میں یونیورسٹی کے الیکٹریشن ساجد علی کو حراست میں لیا تھا جس نے اپنے ابتدائی بیان میں قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ اسے سی ٹی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کیا گیاتھا جبکہ اس کا مقتولہ کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ مقتولہ پروفیسر کی کراچی میں مقیم صاحبزادی اور اداکارہ علینہ نے انکشاف کیا کہ ٹیلی فون کال اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے یونیورسٹی کا ہی الیکٹریشن اور قاتل پکڑاگیا، اس سے ملاقات کی تووہ بولا کہ یہ توا ٓٹھ منٹ کی کہانی تھی، وہ تڑپی نہیں ہیں ۔
اے آروائے زندگی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علینہ نے بتایاکہ ’والدہ اکیلی رہتی تھیں ، قتل کی شام سے ان کا فون بند ہوگیا اور گھر کا نمبر بھی کوئی نہیں سن رہاتھا،رات بھر رابطہ نہ ہونے پر وہاں پڑوسی آنٹیوں کو فون کیاتواُنہوں نے بتایاکہ گھر پر نہیں ہیں، باہر سے تالالگا ہے ، ان کی زیادہ لوگوں سے سلام دعا بھی نہیں تھی، گھر اور یونیورسٹی تک ہی صرف آناجانااور کتابوں تک محدود تھیں، رشتہ داروں سے بھی کم ملتی تھی، اپنی ہی ایک دنیا بنائی ہوئی تھی۔اپنی دوست کے ذریعے ایک بندے کو وہاں بھجوایاتواس نے فون پر بتایاکہ تالالگا ہے ،یہ سنتے ہی کچھ تسلی ہوئی کہ شکر ہے کہ گھر پر نہیں ہیں، واقعی باہر ہیں، اسی لیے فون نہیں سناجارہا۔دیوار پھلانگ کر اندر جانے کی ہدایت کی تو وہ چلاگیا اور بتایاکہ اندر بھی دروازہ بند ہے تو میں نے کہاکہ آنٹی آنٹی پکارو، اس نے آوازدیناشروع کی تو پڑوسی آگئے اور سیکیورٹی کو بلالیا، میں نے بتایاکہ ان کی بیٹی ہوں ۔ میرے سے بات کرنے کے بعد پولیس نے تالاتوڑا تو اندر ٹی وی چل رہاتھا ، شکر کیا کیونکہ اکیلے پن سے چھٹکارے کے لیے وہ ٹی وی چلا کر ہی سوجایا کرتی تھیں۔
اندر کمرے کو بھی تالا لگا ہوا تھا جس کے بعد بھیجاگیالڑکا باہرآیا اور کہاکہ باجی کمرے کو تالالگاہے لیکن اسی دوران پیچھے سے آواز آئی کہ وہ مر گئی ہیں اور فون بند ہوجاتاہے، میں کراچی میں ہوں ، کچھ نہیں پتہ چل رہاتھا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوگئی لیکن دوست موجود تھیں۔جب لاہور پہنچی تو گھر پر سو سے زائد لوگ تھے ، ہرایجنسی تھی ، اندر گئی توتب تک انہیں ڈیڈ ہاؤس شفٹ کیا جاچکا تھا، کمرے میں ایسامنظر تھا جیسے کوئی بکرا ذبح کرکے گیا ہو،میں نے اپنی ماں کا خون ہاتھوں کو لگالیا ، سردخانے گئی تو روکنے کی کوشش کی گئی کیونکہ چہرہ دیکھنے کے قابل نہیں تھیں، میرے جانے سے پہلے کچھ ٹانکے لگائے گئے ،ان کا پورا چہرہ اور گلا کاٹ دیاگیاتھا۔ میں بعد میں قاتل سے ملی تو اسے کہاکہ ’مجھے بھی مار دو،اب میرا یہاں کون ہے تو وہ بولا کہ غلطی ہوگئی، میں رورہی تھی تو اس آدمی نے بولا کہ زخموں میں انگلیاں گھسادی تھیں، اوروہ مرگئیں ۔میں نے چیختے ہوئے کہاکہ آپ اتنے آرام سے کسی کو کیسے مار سکتے ہیں جس نے آپ کا کچھ بگاڑا بھی نہیں تھا تو بولا کہ یہ توآٹھ منٹ کی کہانی تھی، وہ بالکل بھی تڑپی نہیں ۔