جنوبی پنجاب میں انسانی سمگلنگ، عورتوں کی خرید و فروخت اور جسم فروشی کے ساتھ گردے نکالنے کا بھی انکشاف

جرم و انصاف

ملتان (ویب ڈیسک) انسانی سمگلنگ میں ملوث بااثر مافیا نے خواتین کی خرید و فروخت کا گھناﺅنا دھندہ عروج پر پہنچادیا، اغوا کی جانے والی اور خریدی گئی عورتوں کو فروخت کرنے کے ساتھ ان کے گردے نکال کر فروخت کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ اس وقت ڈیرہ غازی خان کے مضافاتی علاقے اس دھندے کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

تحصیل کوٹ چھٹہ کی چوکی خانپور منجوالا کے نزدیک واقع بستی سوجھیلی والا کے رہائشیوں یونس کچھیلا، نور کچھیلا، مالک کچھیلا،  نسرین مائی اور فوزیہ مائی وغیرہ نے گروہ تشکیل دے رکھا ہے جو عورتوں کو اغوا یا پھر خرید کر زیادہ تر بلوچستان میں فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لالوں سعید اللہ رند اور مہر خان کے ذریعے مقامی لوگوں کو بھی فروخت کی جارہی ہیں۔ ڈیرہ ڈویژن سے گزشتہ سال کے دوران 170 سے زائد خواتین کو دبئی سمگل کے جانے کی بھی ا طلاعات ہیں۔ تمام کو وزٹ ویزہ پر مختلف اوقات میں 10 افراد کے گروپ میں تین تین لڑکیوں کو شامل کرکے ملک سے باہر نکالا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ ان تمام لڑکیوں کو پہلے ابن جی اوز کے دفاتر میں ملازمتیں فراہم کی گئیں بعد ازاں انہیں فرضی ا شتہار دکھا کر دبئی بینک اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کا جھانسہ دیا گیا جبکہ دبئی کے فرضی اپارٹمنٹ سیٹرز بھئی دئیے گئے۔

لڑکیوں کو دبئی اور شارجہ میں رکھ کر ان سے زبردستی جسم فروشی کرائی جارہی ہے۔ لڑکیوں کے لواحقین نے ایف آئی اے حکام کو تحریری درخواستیں بھی دیں مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے یہ گھناﺅنا دھندہ دھڑلے سے جاری ہے جس میں زیادہ تر غریب گھرانوں کی لڑکیاں پھنس رہی ہیں جن کی تلاش بعد میں ناممکن ہوجاتی ہے۔