’ائیرپورٹ پر میرے رنگ کی وجہ سے صرف مجھے تمام مسافروں سے الگ کیا گیا اور پھر کپڑے اتارنے کا کہا گیا، پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو۔۔۔‘ یورپی ملک پہنچتے ہی بھارتی لڑکی کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی ایسی شرمناک ترین حرکت کہ ایشیائی خواتین وہاں جانے سے ہی گھبرانے لگیں

ڈیلی بائیٹس

فرینکفرٹ (نیوز ڈیسک) بھارت سے آئس لینڈ کا سفرکرنے والی ایک بھارتی خاتون کو راستے میں جرمنی کے فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر سکیورٹی اہلکاروں نے چیکنگ کی آڑ میں برہنہ کرنے کی بیہودہ کوشش کر کے نسلی تعصب کی نئی مثال قائم کردی۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق شروتی بساپہ نامی خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تفصیلات فیس بک پر بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ”ہم بھارت سے براستہ جرمنی فرینکفرٹ جارہے تھے اور ہمارے ساتھ چار سالہ بیٹی بھی تھی۔ صرف مجھے فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر خصوصی چیکنگ کے لئے علیحدہ کرلیا گیا۔ وہ مجھے ایک الگ کمرے میں لے گئے اور لباس اتارنے کو کہا تاکہ دیکھا جاسکے میں نے لباس کے نیچے تو کچھ نہیں چھپارکھا تھا۔ یہ تمام ماجرا میری چار سالہ بیٹی کے سامنے پیش آیا۔“

’اگلی مرتبہ جب میں ہوائی سفر کروں گی تو جہاز میں برہنہ جاﺅں گی کیونکہ۔۔۔‘ معروف ماڈل نے اعلان کردیا، کھلبلی مچادی
شروتی کا مزید کہنا تھا ”میں نے لباس اتارنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ جب اسی دوران میرے خاوند، جو کہ آئس لینڈ کے شہری ہیں، اس کمرے میں آئے تو انہیں دیکھتے ہی اہلکاروں کا رویہ بدل گیا۔ میں نسلی امتیاز کی بات نہیں کرنا چاہتی لیکن مجھے کہنا پڑے گا کہ اہلکاروں نے صرف اس بناءپر اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا کہ میرا خاوند آئس لینڈ کا شہری ہے۔“
شروتی کہتی ہیں کہ کیا یہی کافی نہیں کہ ہر بار انہیں ہی خصوصی تلاشی کے لئے الگ کرلیا جاتا ہے کہ اب انہیں اس بات کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا کہ کسی بھی وقت لباس اتارنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے فرینکفرٹ ائیرپورٹ کے حکام کو شکایت بھی کی ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور جرمنی میں بھارتی قونصلیٹ کو حکم دیا ہے کہ انہیں اس معاملے کی رپورٹ جلد پیش کی جائے۔