سفر کے دوران ساتھ بیٹھی مسافر کو اگر یہ بات کہی جائے تو وہ آپ کی دوست بن جائے گی، ماہر نفسیات نے ایسا مشورہ دے دیا کہ آپ بھی آزمانے پر مجبور ہوجائیں گے

ڈیلی بائیٹس

لندن(نیوزڈیسک) اگر آپ سفر کرنے جارہے ہیں تو یقیناًآپ اس بات پر متفکر بھی ہوں گے کہ آپ کا ساتھی مسافر کیسا ہوگا۔اب ایک ماہر نفسیات جوڈی جیمز نے کچھ ایسے طریقے بتائے ہیں کہ آپ اپنے ساتھی مسافر کے بارے میں کافی کچھ جان سکیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ساتھی مسافر بالکل سپاٹ چہرہ لے کر بیٹھا ہوتو اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے تنگ نہ کرے اور نہ ہی وہ کسی کو تنگ کرنا چاہتے ہے۔ ایسا چہرہ عموماًلوگ اس وقت بناتے ہیں جب انہیں کسی سے بات نہیں کرنی ہوتی۔اس کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جو دوسروں سے بات نہیں کرناچاہتے وہ ہیڈ فونز کا استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب ہوتاہے کہ اپنا کام کرو اور مجھے تنگ نہ کرو۔ جوڈی کا کہنا ہے کہ جو لوگ موبائل استعمال کرتے رہتے ہیں اس کا مقصد بھی دوسروں سے بات چیت سے گریز ہے۔ ”کچھ لوگ اس طرح ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ آپ کو دیکھ ہی نہیں رہے اور یہ بھی دوسروں سے بات چیت سے بچنے کا طریقہ ہوتا ہے۔موبائل کا استعمال بھی دوسروں کو نظر انداز کرنے کا ایک طریق ہے۔“


جوڈی کاکہنا ہے کہ اگر آپ اپنے ساتھی مسافر سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو ایسی بات سے آغاز کریں جس میں آپ کا مشترکہ مفاد وابستہ ہو۔”کھانے کی کوالٹی، ایئرکنڈیشنرکا معیاراور سفری مشکلات پر بات شروع کرنا ایک اچھی عادت ہوسکتی ہے۔“ اس کا کہنا ہے کہ ایک اور اچھا طریقہ باتھ روم جانا ہے کہ اس طرح اردگرد بیٹھے لوگوں کو آپ کو دیکھنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے اور بات چیت کا آغاز کرنے میں پہل ہوسکتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساتھی مسافر کی طرف ایک سیکنڈ کے لئے دیکھا جائے اور اگر آپ کو مثبت اشارہ مل جائے تو بات چیت کا آغازکریں ۔اس کا کہنا ہے کہ بات بڑھانے کا سب سے اچھا طریقہ سلجھے ہوئے لطیفے سنانا اور دوسرے کی بات توجہ سے سننا ہے، ایسا کرنے سے وہ آپ کی دوست بن سکتی ہے۔ ”ایک بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ پہلی بار بہت زیادہ نہ دیکھیں بلکہ ایسا تاثر دیں کہ آپ اچانک دیکھ رہے ہیں اور کبھی بھی زبردستی چھونے کی کوشش نہ کریں۔“