اللہ اکبر۔۔۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے مل کر انٹرنیٹ پر ایسی تحریک شروع کردی کہ جان کر آپ بھی فوراً اس کا حصہ بن جائیں گے

ڈیلی بائیٹس

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق ہو یا شام، ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ دہشت گردوں نے ہمارے ممالک اور شہروں پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ انہوں نے ہم مسلمانوں کا تشخص بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔ ’اللہ اکبر‘ ایسی تسبیح ہے جو ہر مسلمان کی زبان سے ہر روز ادا ہوتی ہے لیکن اسے دہشت گردوں سے اس قدر منسوب کیا جا چکا ہے کہ مغربی دنیا یہ الفاظ ادا کرنے والے کو دہشت گرد سمجھنے لگتی ہے اور اللہ اکبر کہنے پر جہازوں سے مسافروں کو اتارے جانے اور گرفتار کیے جانے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ اب دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس تسبیح کو دہشت گردوں سے واگزار کرانے کے لیے انٹرنیٹ پر ایسی مہم شروع کر دی ہے کہ آپ کو بھی فوری طور پر اس کا حصہ بن جانا چاہیے۔

یہ دراصل وہ جگہ ہے جہاں بنی اسرائیل نے 40دن اور 40 راتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انتظار کیا تھا آثار قدیمہ کے ماہر نے اہم جگہ کی نشاندہی کردی
دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق مسلم مردوخواتین فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ’اللہ اکبر‘ کے بارے میں غیرمسلم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ رابعہ چوہدری نامی ایک پاکستانی نژاد امریکی لڑکی نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر لکھا ہے کہ ”ریکارڈ کی درستی کے لیے، اللہ اکبر کا سیاست یا کسی طرح کی شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی مسلمان کے منہ سے یہ لفظ سن کر اسے دہشت گرد سمجھ لینا سراسر غلط ہے۔ میں دن میں 20بار اللہ اکبر کہتی ہوں۔“
سارہ نامی خاتون نے لکھا کہ ”اللہ اکبر کے معنی ’خدا سب سے بڑا ہے‘ کے ہیں۔ یہ لفظ نماز میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور خوبصورت چیزوں کی تعریف کے لیے بولا جاتا ہے۔“ رویدہ عبدالعزیز نامی سعودی خاتون نے سی این این کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”اللہ اکبر کو دہشت گردوں سے جوڑا جاتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہر مسلمان روزانہ نماز میں یہ الفاظ ادا کرتا ہے۔“آپ بھی اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر آئیے اوران مقدس الفاظ کو دہشت گردوں سے واگزار کرانے کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیے۔