بڑے مسلمان ملک میں ہنستے کھیلتے ان تمام بچوں کے ساتھ چند لمحوں بعد کیا دردناک کام کیا جائے گا؟ وہ کام جس سے انسان کی عمر جتنی زیادہ ہو اتنا ہی زیادہ ڈر لگتا ہے

ڈیلی بائیٹس

کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) بچہ جتنا زیادہ عمر کا ہو، ختنے کروانے کا عمل اس کے لیے اتنا ہی خوفناک کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں والدین انفرادی طور پر اپنے بچوں کے ختنے کرواتے ہیں لیکن ملائیشیاءمیں یہ کام اجتماعی طور پر کیا جاتا ہے جہاں ہر سال ایک تہوار منایا جاتا ہے۔ اس روز 5سے 12سال کی عمر کے بچوں کو دریا میں نہلا کر باری باری ختنوں کے لیے ڈاکٹروں کے سامنے لایا جاتا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ بچے دریا میں نہاتے ہوئے بہت خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا ہے اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

سگے بہن بھائی کی شادی کروادی گئی، دونوں کی عمر کتنی ہے؟ جان کر کوئی بھی کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبورہوجائے
رپورٹ کے مطابق ملائیشیاءثقافتی طور پر بہت متنوع ملک ہے لیکن یہاں 60فیصد آبادی مسلمان ہے۔ رواں سال اس تہوار کے دوران دارالحکومت کوالالمپور کے قریبی شہر سنگئی پینگسن سے منظرعام پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے ایک جگہ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اور ان پر اوپر سے پانی کے پائپوں کے ذریعے بارش برسائی جا رہی ہوتی ہے جس میں وہ نہا رہے ہوتے ہیں ا ور کھیل رہے ہوتے ہیں۔ملائیشیاءمیں ختنوں سے قبل بچوں کو نہلانے کا مطلب انہیں سرجری سے قبل صاف ستھرا کرنا ہوتا ہے۔