15 سالہ لڑکی کی انٹرنیٹ پر لڑکے سے ملاقات ، ملنے پہنچی تو آگے سے کیا چیز لیے بیٹھا تھا؟ جان کر کوئی لڑکی کبھی کسی اجنبی سے بات ہی نہ کرے

ڈیلی بائیٹس

نیویارک (نیوز ڈیسک) آج کے جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دوستوں سے بات چیت ہو یا عزیز و اقارب سے رابطہ، ہر دو صورتوں میں لوگ سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال صرف ان مثبت مقاصد تک ہی محدود نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد نے بھی اسے اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ آئے روز ایسے روح فرسا واقعات سامنے آتے ہیں جن میں سوشل میڈیا کا بھی اہم ہاتھ نظر آتا ہے۔ ایک ایسا ہی اندوہناک واقعہ امریکا میں سامنے آیا ہے، جہاں ایک درندہ صفت نوجوان نے ایک نوعمر لڑکی کو فیس بک کے ذریعے دوستی کے جال میں پھنسایا اور پھر اسے اپنے گھر بلا کر خنجر سے اس کا جسم چیر پھاڑ ڈالا۔
ویب سائٹ ’ورلڈ وائڈ ویئرڈ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکی پر 80 بار خنجر سے وار کیے گئے جس کے بعد اس کی لاش کو جلا کر گھاس پھوس اور پتوں کے نیچے چُھپا دیا گیا ۔ فلاڈلفیا پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے قتل کے الزام میں 23 سالہ نوجوان کول فوارینگر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر لڑکی کے قتل ، اس کی لاش کو جلانے اور لاش کی بے حرمتی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فوارینگر کی سبریہ میکلین نامی لڑکی سے ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی۔ پیر کے روز ان کے درمیان پہلی ملاقات ہوئی تھی اور اسی ملاقات میں ملزم نے لڑکی کو قتل کر ڈالا۔ ملزم نے اپنے والدین کی عدم موجودگی میں لڑکی کو ملاقات کیلئے اپنے گھر پر بلایا تھا۔ اس نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد اپنے گھر کے عقبی صحن میں اس کی لاش کو آگ لگائی اور پھر لاش کے اوپر گھاس پھوس اور پتے پھینک کر اسے چھپانے کی کوشش کی۔ جب اس کے والدین گھر واپس آئے تو اس نے خوف اور بوکھلاہٹ کے عالم میں اپنے بھیانک جرم سے انہیں آگاہ کر دیا ۔ فوارینگر کے والدین اپنے بیٹے کے سفاکانہ جرم کے بارے میں جان کر ساکت رہ گئے۔ انہوں نے خود پولیس سے رابطہ کیا اور اپنے بیٹے کو ان کے حوالے کر دیا ۔ ملزم کے خلاف قانونی کاروائی کا سلسلہ جاری ہے۔