’’ اس لڑکی سے شادی کریں اور اڑھائی لاکھ روپے پائیں‘‘ نوجوانوں کیلئے انتہائی حیران کن اعلان ہوگیا

ڈیلی بائیٹس

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا کی مرکزی حکومت نے کسی دلت سے شادی کرنے پر ڈھائی لاکھ روپے کی امداد پر پانچ لاکھ سالانہ آمدن کی حد ختم کر دی ہے،مختلف برادریوں کے مابین شادیوں کی سکیم انڈیا کی پسماندہ ذات کو سماج میں برابری دلانے، مرکزی دھارے میں شامل کرنے اور ذات پات کی دیوار کو ختم کرنے کے لیے 2013 ء میں شروع کی گئی تھی،سکیم میں ایسی شادی جس میں کوئی ایک (لڑکا یا لڑکی) اگر دلت یعنی سماجی طور پر پسماندہ طبقے سے آتے ہوں انھیں ان کے 'بولڈ قدم لینے' اور 'نیا گھر بسانے' کے لیے امداد کے طور پر حکومت کی جانب سے ڈھائی لاکھ روپے دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔
لیکن پہلے اس میں ایک شرط سالانہ آمدنی کی تھی کہ یہ امداد اسی کو ملے گی جن کی آمدنی پانچ لاکھ روپے سالانہ سے کم ہو۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


بی بی سی کے مطابق رواں سال سے یہ حد ختم کر دی گئی ہے اور اب اس کے لیے ہر وہ جوڑا امداد کا حقدار ہو گا جس میں ایک فریق دلت سماج سے آتا ہو تاہم سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت نے کہا ہے کہ اس امداد کو حاصل کرنے کے لیے شادی کے ایک سال کے اندر انھیں آدھار کارڈ سے منسلک اپنے مشترکہ بینک اکاؤنٹ کے ساتھ درخواست جمع کرانا ہو گی۔  انڈین ایکسپریس کے مطابق مرکزی وزارت نے کئی ریاست میں جاری اسی قسم کی سکیم کے سبب یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ ریاستی سکیم میں سالانہ آمدنی کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔اس سکیم کے تحت ملک بھر سے ہر سال 500 ایسے جوڑوں کی مدد کرنے کا ہدف رکھا ہے لیکن اپنے ہدف کے حصول میں ابھی یہ بہت پیچھے ہے۔

مزید پڑھیں۔ ۔ ۔۔ ’ یہاں پر ہم لڑکیوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ کس طرح مردوں کو ۔۔۔‘ دنیا کا متنازع ترین سکول، کیا کام سکھایا جا رہا تھا؟ جان کر مرد بھی ہکے بکے رہ جائیں