’سکول پرنسپل کی وجہ سے میرا حمل ضائع ہوگیا کیونکہ۔۔۔‘ لاہور کے مہنگے ترین سکول میں پڑھانے والی اُستانی نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کو بے حد دکھ ہوگا

ڈیلی بائیٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ملک کے بڑے انگلش میڈیم سکولوں میں کام کرنے والے اکثر اساتذہ کی زندگی دن، رات کی مشقت سے کس طرح ایک مسلسل عذاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے ، اس کا اندازہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں کر سکتا جسے کسی ایسے سکول میں کام کرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ عام طور پر میڈیا میں بھی اس موضوع کر چھیڑا نہیں جاتا، لیکن سوشل میڈیا پر ایک خاتون ٹیچر نے اپنے ساتھ پیش آنے والا انتہائی دردناک واقعہ بیان کر کے ہمیں اس ظلم کی ایک جھلک ضرور دکھا دی ہے جو ان نا م نہاد تعلیمی اداروں کی شناخت بن چکا ہے۔
ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کی رپورٹ کے مطابق اس خاتون ٹیچر کا نام الشبا اخونزادہ ہے، جو لاہور کے ایک ممتاز انگلش میڈیم سکول میں پڑھاتی تھیں۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے سفاکانہ معاملے کی تفصیلات انہوں نے ایک ویڈیو میں کچھ یوں بیان کی ہیں:

’میں نے اپنی بیگم کو غیر شخص کے ساتھ سوتے رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور اب مجھے جیل میں ڈالا جارہا ہے کیونکہ۔۔۔‘
میرا نام الشبا اخونزادہ ہے۔ میں لاہور کے ’ایل جی ایس پیراگون‘ سکول میں پرائمری ٹیچر تھی۔ سکول میں میر اکام بہت پرمشقت تھا، جیسا کہ اس طرح کے سکولوں میں ہوتا ہے لیکن میں پوری تندہی سے اپنے فرائض سر انجام دیتی تھی۔ مجھے ملازمت شروع کئے ایک سال ہوا تھا کہ جب ایک روز میری طبیعت سخت خراب ہوئی اور مجھے چھٹی کی ضرورت پیش آ گئی۔ یہ دسمبر 2015 کی بات ہے اور میں اس وقت اپنے دوسرے بچے کے ساتھ چھ ماہ کی حاملہ تھی۔
میں نے علی الصبح اپنی پرنسپل کو ٹیکسٹ میسج کیا اور بتایا کہ میرے لئے طبیعت کی سخت خرابی کے باعث بستر سے نکلنا بھی ممکن نہیں لہٰذا براہ کرم مجھے ایک دن کی چھٹی دی جائے۔ مجھے جواب ملا کہ چھٹی نہیں دی جا سکتی کیونکہ چھٹی کی صورت میں سارا ٹائم ٹیبل گڑبڑ ہوجاتا ہے اور اس لئے بھی کہ میں گزشتہ ماہ دو چھٹیاں لے چکی تھی۔ میری اشد ضرورت کے باوجود میری درخواست کو رد کرتے ہوئے مجھے سکول پہنچنے کو کہا گیا۔
اس روز میرے لئے خود کو بستر سے نکالنا واقعی بہت مشکل تھا لیکن میں نے تمام تر تکلیف کے باوجود خود کو بستر سے کھینچا اور کسی نہ کسی طرح سکول جانے کی تیاری کی۔ جب میں سکول کے دروازے کے عین سامنے تھی، اور میرے سامنے بہت سے والدین اپنے بچوں کو گاڑیوں سے اتار رہے تھے اور سکول کے ملازمین بچوں کو اندر لے جا رہے تھے، تو مجھے محسوس کے میرے جسم میں کچھ ہوا تھا۔ پھر سب کے سامنے ہی میرے جسم سے خارج ہونے والا خون زمین پر ٹپکنے لگا اور میرے لئے ایک قدم بھی اٹھانا ممکن نہ رہا۔ اس سے پہلے کہ میں بے ہوش ہو جاتی ایک ملازمہ نے مجھے تھاما اور کھینچتی ہوئی مردانہ واش روم کی جانب لے گئی۔ وہاں اس نے مجھے بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔

امریکہ میں مقیم بھارتی شخص نے والدین کو فون کر کے اپنی بیوی کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ دونوں فوراً امریکہ جا پہنچے اور پھر۔۔۔ فون پر کیا بات ہوئی اور والدین نے امریکہ پہنچ کر کیا کیا؟ آج کی سب سے انوکھی اور دلچسپ خبر آ گئی
مجھے وہاں سے فاطمہ میموریل ہسپتال لے جایا گیا۔ اسی دوران میں نے اپنی والدہ اور خاوند کو بھی اطلاع کی اوروہ فوری میرے پاس آن پہنچے۔ میرے خاوند مجھے اتفاق ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کی فوری پیدائش کے لئے آپریشن کرنا پڑے گا۔ میرے ہاں بچے نے جنم تو لیا لیکن اس میں زندگی کے آثار نہیں تھے۔ اگلے روز میرا خاوند میرے مردہ بچے کو بانہوں میں اٹھائے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں اسے دیکھنا چاہوں گی، لیکن میرے اندر اسے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
اس واقعے نے میری زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ اس روز مجھے چھٹی دے دی جاتی تو شاید صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ میں نے اپنا بچہ بھی کھو دیا اور بعد ازاں اسی واقعے کی وجہ سے میری شادی بھی اختتام پزیر ہوئی۔ میرا شوہر اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا کہ اگر میری طبیعت اس قدر خراب تھی تو میں نے اس روز چھٹی کیوں نہ لے لی۔میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا، میں اسے کیا بتاتی کہ میں نے چھٹی کیوں نہ لی۔ میں ایک پیشہ ور اور دیانتدار استاد تھی، لیکن مجھے اس کا کیا صلہ ملا، یہی کہ میں نے اپنا بچہ بھی کھو دیا اور اپنا گھر بھی؟