وہ آدمی جس نے 29 لڑکیوں کی لاشوں کو ان کی قبروں سے نکال ڈالا، ان کے ساتھ کیا کرتا تھا؟ جان کر ہی آپ کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے

ڈیلی بائیٹس

ماسکو (نیوز ڈیسک) بسا اوقات قبروں سے لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرنے کے واقعات سننے کو ملتے ہیں لیکن روس میں ایک اعلٰی تعلیمافتہ شخص قبروں سے لڑکیوں کی لاشیں نکال کر ان کے ساتھ ایسا عجیب و غریب کام کرتا ہوا پکڑا گیا ہے کہ جس کی مثال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 45 سالہ اناتولی موسکوین تاریخ دان ہے اور گزشتہ کئی سال سے قبروں پر تحقیقات کے کام میں مصروف تھا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے گھر سے درجنوں لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں، جہاں وہ ان لاشوں کے ساتھ تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ وہ لاشوں کو قبر سے نکال کر رنگ برنگے ملبوسات پہناتا تھا اور ان کا گڑیا جیسا میک اپ کر کے اپنے بیڈروم اور دوسرے کمروں میں رکھ چھوڑتا تھا۔ اس کے گھر کے اندرونی حصے اور گیراج سے کل 29 لاشیں ملی ہیں۔

موت کے بعد انسان کو سب سے پہلے کس کا چہرہ نظر آتا ہے، موت کے منہ سے واپس آنے والے متعدد لوگوں نے ایک ہی جیسا انکشاف کردیا، جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے
پولیس کے مطابق مقامی قبرستانوں سے نوعمر لڑکیوں اور بچیوں کی لاشیں بڑی تعداد میں چوری ہوئی ہیں۔ یہ واقعات ایک عرصے سے نیزنی نووگوڈ کے علاقے میں پیش آرہے تھے۔ اناتولی نے ان لاشوں کو گڑیاﺅں میں تبدیل کرکے اپنے صوفوں پر بٹھایا ہوا تھا، کچھ لاشیں بیڈ پر ملیں جبکہ کچھ لاشیں گیراج میں موجود تھیں۔ اس کے گھر سے مختلف قبرستانوں کے نقشے، گڑیا بنانے کے طریقوں پر مبنی کتابیں اور قبروں و کتبوں کی تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں۔
مقامی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اس نے جن بیشتر قبروں کو نشانہ بنایا ان میں مسلم لڑکیوں اور بچیوں کو دفن کیا گیا تھا۔ ملزم مقامی تعلیمی حلقوں میں اچھی طرح جانا پہچانا جاتا ہے۔ وہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور کئی کتابوں کا مصنف بھی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبروں پر تحقیقات کر رہا تھا۔ اسے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر اکیلا قبرستانوں میں بھٹکتا رہتا تھا اور اکثر راتیں بھی ویران قبرستانوں میں گزارتا تھا۔