’پہلے میں بہت موٹی ہوا کرتی تھی لیکن پھر آدھی رات کو اُٹھ کر یہ کام کرنا شروع کردیا اور کچھ ہی عرصے میں 47 کلو وزن کم کر ڈالا‘

ڈیلی بائیٹس

سڈنی (نیوز ڈیسک) موٹاپہ حد سے بڑھ جائے تو بڑے بڑے باہمت لوگ اس کے سامنے ہتھیار ڈال کر دوبارہ سمارٹ ہونے کی امید چھوڑ بیٹھتے ہے، لیکن تین بچوں کی ماں ایک آسٹریلوی خاتون نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جب انسان موٹاپے کو شکست دینے کے لئے کمر باندھ لے تو کامیابی کچھ ایسی مشکل بھی نہیں۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 33 سالہ بیلا ورونڈوس کا کہنا ہے کہ ایک وقت پر ان کا وزن 115کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔ سڈنی سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بتایا کہ ان دنوں وہ کثرت سے برگر کھایا کرتی تھیں اور ہر وقت آرام کرتی رہتی تھیں۔ وہ جب بھی سوشل میڈیا پر خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر دیکھتیں تو مزید احساس کمتری کا شکار ہوجاتی تھیں۔ وہ اپنے موٹاپے سے اس قدر پریشان ہو چکی تھیں کہ گھر سے باہر نکلنا ہی چھوڑدیا تھا۔ ایسے مایوس کن حالات کے باوجود ایک دن انہوں نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا اور پھر اس پر عمل بھی کر دکھایا۔

225کلو وزنی یہ خاتون اپنے وزن کے باعث گھر بیٹھے بیٹھے ایک گھنٹے میں 2 لاکھ روپے کمالیتی ہے، ایسا کیا کام کرتی ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا فوری اپنی نوکری چھوڑدیں
بیلا نے اپنی کامیابی کی حیرتناک داستان سناتے ہوئے بتایا ”مجھے اپنی خوراک پر قابو نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کبھی ورزش کی تھی لیکن میرے دل میں یہ احساس ضرور موجود تھا کہ مجھے خود کو تبدیل کرنا چاہیے۔ میری زندگی میں تبدیلی کا آغاز اس وقت ہوا جب میں نے ورزش کیلئے جم جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنے موٹاپے کی وجہ سے اس قدر شرمندگی محسوس کرتی تھی کہ دن کے وقت جم نہیں جاتی تھی بلکہ نصف شب کے قریب جم جاکر ورزش کرتی تھی۔ میں تقریباً ایک سال تک اسی طرح آدھی رات کے وقت جم جاکر ورزش کرتی رہی۔


میں نے میٹھی اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بھی بند کردیا تھا۔ اب میں پھلوں، سبزیوں اور مچھلی جیسی غذاﺅں کو زیادہ اہمیت دیتی تھی۔ خاص طور پر میں نے برگر اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور دوسری غذاﺅں کا استعمال بند کردیا تھا۔ ایک سال کی محنت کے بعد میرے وزن میں 47کلوگرام کی کمی ہوچکی تھی۔


اب میں اس قدر سمارٹ ہوچکی ہوں کہ ماڈلنگ کر رہی ہوں۔ میں جب بھی باہر جاتی ہوں تو میرے دلکش جسم کو دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں اور بعض لوگ تو مجھے ہیجان انگیز قرار دے کر چھیڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اب میں اپنے بچوں کو بھی صحت بخش خوراک کھانے اور ورزش کرنے کی تلقین کرتی ہوں۔ میں انہیں وہ سب کچھ بتاتی ہوں جو میں نے اپنے تجربے سے سیکھا ہے۔ میں دوسری خواتین کو بھی بتاتی ہوں کہ آپ جتنی بھی موٹی ہوں اگر آپ چکنائی اور کاربوہائیڈریٹ والی غذاﺅں سے پرہیز کریں اور باقاعدگی سے ورزش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ میری طرح سلم اور سمارٹ نہ ہو سکیں۔“