2018ءمیں کیا ہونے والا ہے؟ سینکڑوں سال پہلے 9/11 حملوں کی درست پیشنگوئی کرنے والے آدمی نوستراداموس نے سال 2018ءکے بارے میں کیا خطرناک پیشنگوئی کی تھی؟ جان کر آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے

ڈیلی بائیٹس

پیرس(نیوز ڈیسک) سولہویں صدے کے مشہور فرانسیسی کاہن نوستراداموس کی پیشگوئیوں کا تذکرہ گاہے بگاہے سننے کو ملتا رہتا ہے، کیونکہ اتفاق کچھ ایسا ہے کہ اکثر بڑے واقعات کے بارے میں اس کی کوئی نا کوئی پیش گوئی پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ نوستراداموس نے دنیا کے مستقبل کے بارے میں بے شمار پیشگوئیاں کررکھی ہیںا ور ان کے ماننے والے کہتے ہیں کہ شہزادی ڈیانا کی موت، جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی ڈکٹیٹر شپ، ایٹم بم کی ایجاد، دوسری جنگ عظیم اور 9/11 دہشتگردی کے متعلق اس کی پیشگوئیاں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہیں۔ اب نئے سال کی آمد آمد ہے تو ایک بارپھر ان پیشگوئیوں کا چرچا ہورہا ہے جو اس کاہن نے سال 2018ءکے بارے میں چار صدیاں قبل کی تھیں۔
ان میں سے پہلی پیشگوئی یہ ہے کہ سال 2018ءکے دوران کچھ بڑی قدرتی آفات دنیا کو نشانہ بنائیں گی اور ایک عظیم جنگ برپا ہوگی۔ نوستراداموس کے مطابق یہ جنگ دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ دو سمتوں کے درمیان ہوں گی، غالباً اس کا اشارہ مشرق اور مغرب کی جانب ہے۔ مشرق میں چین اور اس کے حمایتی، اور مغرب میں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک واقع ہیں، جن کے درمیان کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

داعش کے جنگجو سے شادی کیوں کی؟ نوجوان لڑکی نے ایسے راز سے پردہ اٹھادیا جسے سن کر مغربی ممالک شرمندہ ہوجائیں گے
نوستراداموس کے مطابق سال 2018ءمیں قتل و غارت کا ایسا بازار گرم ہوگا کہ کئی ممالک کے لوگ ایک دوسرے کی موت کا سامان کریں گے۔ اس کے مطابق آسمان سے آگ کے گولے برسیں گے جن کا نشانہ بے کس اور مجبور عوام بنیں گے۔
زلزلوں کے بارے میں بھی اس نے ایک خوفناک پیشگوئی کر رکھی ہے جس کے مطابق سب سے تباہ کن زلزلے کرہ ارض کے مشرقی حصے میں آئیں گے جبکہ مغربی ممالک میں خوفناک موسمیاتی تبدیلیاں آئیں گی۔
ایک اور پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ زمین جل اٹھے گی، جس کی تشریح کچھ اس طرح کی جا رہی ہے کہ اس کا اشارہ گلوبل وارمنگ کی جانب ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ پہلے ہی تشویشناک صورت اختیار کرچکا ہے لیکن خدشہ یہ ہے کہ سال 2018ءکے دوران اس کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گی۔
نوستراداموس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2018 سے شروع ہونے والا جنگ و جدل اگلے آٹھ سالوں کے دوران دنیا کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گا، اور پھر اس راکھ سے دوبارہ امن کا پرندہ نمودار ہوگا اور انسانیت ماضی کے دکھوں اور قتل و غارت کو بھلا کر پھر سے امن و آشتی کی جانب رواں ہوگی۔