وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی آنکھوں سے پکڑے گئے،مزار قائد پر دعا کے وقت ایسی حرکت کردی کہ ........

ڈیلی بائیٹس

لاہور(نظام الدولہ)انسان لاکھ چھپانا چاہے مگر اسکی آنکھیں اسکے جذ بات کو عیاں کردیتی ہیں،البتہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنے جذبات پر قابو ہوتا اور کوئی ان کے چہرے یا آنکھوں سے انکے دل کی چوری نہیں پکڑ سکتا ۔قیافہ شناسوں کا کہنا ہے کہ انسان کی آنکھیں آئینہ ہوتی ہیں لہذا جب کوئی انسان بول رہا ہوتا ہے یا خاموشی سے کوئی کام کررہا ہوتاہے تو ماہرین اسکی آنکھوں سے اسکے حقیقی جذبات کی بے قراری کا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔ایسی آنکھوں سے انکے جذبات کی چوری پکڑی جاتی ہے۔اسکی ایک مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی مزار قائد پر حاضری دینے پہنچے اور دعا کے دوران انکی آنکھوں نے انکی یکسوئی کو توڑ کر کسی بے قراری کو عیاں کردیا ۔ٹی وی چینلز پر جب کیمرہ انکے دست دعا اور چہرہ پر فوکس تھا تو نظر کی عینک کے پیچھے  دائیں بائیں بے قراری سے گھومتی انکی آنکھیں دیکھ کر قیافہ شناسوں کی طرف رجوع کرنے کو دل چاہتا ہے کہ ان سے پوچھا جائے اس لمحہ پاکستان کے وزیر اعظم کی آنکھیں کیا کہہ رہی تھیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دعا کی ان ساعتوں میں وزیر اعلی سندھ جو وزیر اعظم کے عقب میں کھڑے دعا کررہے تھے ،انکی آنکھیں بھی متحرک تھیں۔
قیافہ شناسی کی رو سے دیکھا جائے تو کسی سے بات کرتے ہوئے جب کسی انسان کی آنکھیں خاص زاویئے سے حرکت کرتی ہیں تو اس کو مخلص نہیں سمجھا جاتا نہ وہ دل سے بات سن رہا ہوتا ہے ،ان آنکھوں میں تشکیک کا مادہ ہوتا ہے۔خاص طور پر جب انسان کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوں تو اسکی آنکھیں دائیں بائیں گھوم رہی ہوں تو اس کو دعا میں عدم دلچسپی سمجھاجاسکتا ہے ۔