’خفیہ ادارے کے میجر علی پہاڑوں میں دہشت گردوں کا پیچھا کررہے تھے، پوزیشن کا پتہ چلا تو ان کے ٹھکانے میں داخل ہوگئے اور خود کش جیکٹ پہنے دہشت گرد کو پکڑلیا لیکن پھر اتنی دیر میں۔۔۔‘ پاک فوج کے میجر نے بہادری کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے، قوم کا سرفخر سے بلند کردیا

ڈیلی بائیٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قوم کی حیات شہداءکی قربانیوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔وطن عزیز پر مرمٹنے والے جری جوانوں کی فہرست بہت طویل ہے جنہوں نے اپنا لہو دے کر بہادری کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ دنیا میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ دھرتی کے انہی بیٹوں میں سے ایک میجر علی ہیں جنہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور ایسی جرا¿ت مندی کا مظاہرہ کیا کہ قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
ویب سائٹ ’پڑھ لو‘کی رپورٹ کے مطابق حساس ادارے کے افسر میجر علی مالاکنڈ کی پہاڑیوں میں رات کے اندھیرے میں دہشت گردوں کا سراغ لگانے نکلے تھے۔ انہوں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہ کا پتہ چلا لیا اور اپنی ٹیم کے ساتھ ان کی پناہ گاہ میں داخل ہو گئے۔ انہیں اطلاع تھی کہ دہشت گردوں کے پاس خودکش جیکٹس ہیں، اس کے باوجود جونہی وہ پناہ گاہ میں داخل ہوئے تو میجر علی نے لپک کر ایک دہشت گرد کو دبوچ لیا۔ ان کی ٹیم کے باقی اراکین نے بھی ایک ایک دہشت گرد کو پکڑ لیا۔
پکڑے جانے پر ایک دہشت گرد، جس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی، نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ میجر علی اور ان کی ٹیم کے اراکین وطن کی مٹی پر اپنی جان وار گئے۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے بیوی بچوں اوربوڑھے ماں باپ کا نہیں سوچا۔ میجر علی نے اس آپریشن پر روانہ ہونے سے پہلے اپنی اہلیہ سے فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کے متعلق پوچھا، اور جلد گھر آنے کا وعدہ کیا.... اور وعدہ ایفاءکر دیا.... اگلے ہی روز ان کا جسدِ خاکی سبز پرچم میں لپٹا گھر پہنچ چکا تھا۔