”قیامت کب آئے گی۔۔۔؟“ لاہوریوں کی پسندیدہ چیز کا اسلام آباد میں ایسا حال کیا گیا کہ معروف صحافی بھی خود پر قابو نہ رکھ سکا، سوشل میڈیا پر تصویر اپ لوڈ کی تو لاہوریوں کا ”ہاسہ“ نکل گیا، یہ کیا ہے؟ جان کر آپ کی ہنسی نہیں رکے گی

ڈیلی بائیٹس

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور، لاہوری اور لاہوری کھابے پوری دنیا میں مشہور ہیں جن کا دور دور تک کوئی مقابل نہیں اور جب کھانے کے بعد میٹھے کی بات ہو تو رال ایک بار پھر ٹپکنے لگ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان پہلا میچ آج کتنے بجے شروع ہو گا اور کن ممالک میں کون کونسے چینل پر دکھایا جائے گا؟ صحیح وقت اور معلومات جانئے

لاہوری ناصرف میٹھے سے ”عشق“ کرتے ہیں بلکہ اس کے بارے میں اتنے جذباتی ہیں کہ اگر کسی چیز کی حالت ہی بگاڑ دی جائے تو ان کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے اور بالخصوص جب فالودہ کی بات آتی ہے تو پھر معاملہ اور بھی بگڑ جاتا ہے اس لئے یہ جان لیں کہ کبھی بھی ”فالودہ“ کی توہین مت کریں، ورنہ انجام اچھا نہ ہو گا۔

معروف صحافی و اینکر پرسن اجمل جامی کو بھی  اس وقت شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا جب وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد گئے اور ”فالودہ“ کا آرڈر دے بیٹھے لیکن جیسے ہی اسلام آباد کا ”ممی ڈیڈی فالودہ“ ان کے سامنے آئے تو وہ تقریباً اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور احتجاجاً اس کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اپنے مداحوں کو بھی اس ”صدمے“ سے آگاہ کیا جو انہیں انتہائی ”محترم فالودہ“ کی توہین ہوتے دیکھ کر اٹھانا پڑا۔
انہوں نے اس نام نہاد ”فالودہ“ بلکہ اسلام آبادیوں کے ہاتھوں فالودہ کے بننے والے ’فالودے‘ کی تصویر بنائی اور اسے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا ”بوجھیں تو ذرا کہ یہ کیا ہے۔۔۔؟ اسلام آباد میں اسے فالودہ کہا جاتا ہے!! قیامت کب آئے گی۔۔۔؟“

ان کی طرف سے یہ تصویر اپ لوڈ کئے جانے کی دیر تھی کہ ان کے مداحوں اور ’فالودہ‘ کے عاشقوں پر ایک ’قیامت‘ ٹوٹ پڑی اور وہ اپنی من پسند غذا کی یہ حالت دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکے اور حسب توفیق اس کی یہ حالت کرنے والوں کی ایسی درگت بنائی کہ فالودہ سے ’محبت‘ کا حق ادا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”پچھلے 24 گھنٹوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے۔۔۔“ ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی کی تو ”دنیا“ ہی بدل گئی، پاکستان آ کر انہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ جواب جان کر آپ کیلئے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا

ایک صارف طاہر چیمہ نے لکھا ”اس بندے نوں مارو 10 جوتیاں، تے گنوں اک،جیڑا فالودہ دی بے عزتی کر ریا اے۔“

انیس احمد بھی خاصے غصے میں دکھائی دئیے اور لکھا ”لا لو چھتر“

یہ لاہوری فالودہ تو ہرگز نہیں ہے اسی لئے شاہاب نے اندازہ لگاتے ہوئے لکھا ”چینی فالودہ ہو گا“

سید میسم عباس نے تو اسے فالودہ ماننے سے یکسر انکار کر دیا اور لکھا ”بھائی مجھے تو یہ کلیجی سویاں لگ رہی ہیں۔“

سُرور نے بھی اسے فالودہ ماننے سے انکاری نظر آئیں اور لکھا ”اس کو آئس کریم سمجھیں اور اس کا نیا نام دال چاول کر دیں۔“

شیراز اعظم نے ایک اور حیران کن انکشاف کرتے ہوئے لکھا” میں نے تقریباً 10 کے قریب ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو فالودہ کے قریب تر بھی نہیں، لیکن یہ ان سب میں سے بہتر ہے۔ مگر متحدہ عرب امارات میں بیچ رہا ہوں اور مزے لے رہا ہوں۔“

احمر نے تو لاہوریوں پر جیسے بجلی ہی گرا دی اور لکھا ”برطانیہ میں تو مائع سی چیز کو فالودہ کہہ کر بیچتے ہیں۔آپ کو کم از کم چند سخت ٹکڑے تو نظر آ رہے ہیں، یہاں تو دودھ میں آئس کریم ہی ڈالتے ہیں۔“