مصر میں معروف ماڈل نے اُونٹ کے ساتھ ایسی شرمناک تصویر بنوالی کہ جیل پہنچادیا گیا

ڈیلی بائیٹس

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی ممالک میں فحاشی و عریانی کا کھلے عام مظاہرہ کرنے پر ہرگز کوئی پابندی نہیں لیکن اسلامی ممالک میں ایسی بے حیائی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اس کے باجود یورپی ملک بیلجئیم سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایک ایسی جگہ برہنہ فوٹوشوٹ کے لئے جا پہنچی کہ جو نہ صرف ایک اسلامی ملک کا اہم مقام ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی منزل بھی ہے۔


دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق مریسا پاپن نامی ماڈل مصری حکام سے اجازت لئے بغیر گیزا کے اہم تاریخی مقامات پر برہنہ ماڈلنگ کیلئے پہنچ گئی۔ یہ ماڈل اس سے پہلے بھی 50 دیگر ممالک میں بھی برہنہ ماڈلنگ کرچکی ہے۔ اس بار وہ مصر پہنچی اور اہرام مصر کے عین سامنے ایک اونٹ کے پاس برہنہ لیٹ کر تصاویر بنواتی رہی۔

نوجوان لڑکی نے اپنا کنوارہ پن نیلام کرنے کا اعلان کردیا لیکن ساتھ ہی اپنے بارے میں ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کو اس پیشکش پر یقین نہیں آئے گا کیونکہ۔۔۔
مریسا کا کہنا ہے کہ جب وہ اہرام مصر کے سامنے تصاویر بنوارہی تھی تواسے اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہونے والی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے ساتھیوں نے ایک سکیورٹی گارڈ کو کچھ رقم دے دی تھی لہٰذا اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن کچھ دیر بعد وہاں دو نوجوان آگئے او رپوچھنے لگے ”یہ کیا ہورہا ہے؟“ مریسا کا کہنا ہے انہوں نے نوجوانوں کو بتایا ”ہم لوگ اہرام مصر کیلئے بہت احترام رکھتے ہیں اور ان کے سامنے کچھ آرٹ ورک کررہے ہیں“ لیکن وہ نوجوان برہنگی اور آرٹ کے درمیان تعلق کو سمجھ نہ پائے۔“ انہوں نے ان نوجوانوں کو بھی کچھ رقم دی تو وہ بھی وہاں سے چلے گئے۔


اہرام مصر کے سامنے برہنہ تصاویر بنوانے کے بعد یہ لوگ لکسر کے تاریخی مقام پر چلے گئے اور وہاں پر ایک مقبرے کے سیاحوں سے خالی ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا تو انہوں نے دوبارہ برہنہ تصاویر بنانا شروع کردیں لیکن اچانک کہیں سے چار سکیورٹی گارڈ نمودار ہوگئے۔ اس بار گارڈ ان کی بات ماننے کو تیار نہ تھے اور انہیں پولیس سٹیشن پہنچادیا گیا۔


مریسا نے گرفتاری کے بعد پیش آنے والے واقعات کے متعلق بتایا، ”مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مصر میں بیلجیئم جیسی جیلیں نہیں ہوتیں لیکن اصل حقیقت تب ہی پتہ چلی جب میں جیل گئی۔ مجھے ایک ایسی چھوٹی سی کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا جہاں 20کے قریب مرد پہلے ہی بند تھے۔ ان میں سے کچھ زخمی تھے اور چیخ و پکار کررہے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھاتھا۔
کچھ گھنٹوں بعد مجھے ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ جج کے سامنے میں نے خود کو معصوم اور احمق ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی اور بالآخر اس نے مجھے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا شرمناک کام نہ کرنا، اور میری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔“ مریسا نے مزید بتایا کہ بعدازاں ان کے ساتھی جیس نے ڈیلیٹ کی گئی تمام تصاویر ایک خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے دوبارہ برآمد کرلیں، اور یہ شرمناک تصاویر انہوں نے انٹرنیٹ پر بھی پوسٹ کر دی ہیں۔