کپڑے بنانے والا برانڈ کھاڈی اپنے ہی ملازمین کے 10 کروڑ روپے ہڑپ کرگیا

ڈیلی بائیٹس

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ایسے مالداروں کی کمی نہیں جو اپنے غریب ملازمین کا خون چوس کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان مالداروں میں کچھ ایسے بھی شامل ہیں جو بظاہر بہت اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ ملبوسات کا مشہور برانڈ کھاڈی بھی ایک ایسی ہی مثال ثابت ہواہے، جس کے متعلق یہ افسوسناک دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ ادارہ اپنے غریب ملازمین کی سکیورٹی رجسٹریشن نہ کرواکے سالانہ 10 کروڑ روپے اپنی جیب میں ڈال رہا ہے۔
اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق دی نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، جو کہ کھاڈی کے ملازمین کی نمائندگی کررہا ہے، کا کہنا ہے کہ کھاڈی کی انتظامیہ حکومتی اداروں کو غلط ریکارڈ پیش کرکے بھاری رقوم اپنی جیب میں ڈال رہی ہے ۔ا گرچہ یہ کمپنی اپنے ملبوسات کی فروخت سے اربوں کمارہی ہے لیکن اس کے باوجود اپنے غریب ملازمین کی سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نہ کرواکے مزید کروڑوں روپے بھی ہڑپ کر رہی ہے۔

ایک ایسی پاکستانی لڑکی کو کمرشل پائلٹ کا لائسنس مل گیا کہ تصاویر سامنے آئیں تو سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی
رواں سال جون میں کھاڈی کی جانب سے ملازمین کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تمام لیبر قوانین پر عمل درآمد کیا جائے گا اور ملازمین کو سوشل سکیورٹی کار ڈ بھی صنعتی قوانین و ضوابط کے مطابق جاری کئے جائیں گے۔ نہ صرف یہ وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ کھاڈی کے مینوفیکچرنگ یونٹوں میں مزدوروں کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ ملازمین کو نہ صرف ان کے حقوق نہیں دئیے جارہے بلکہ احتجاج کرنے والوں کو نوکری سے بھی نکالاجارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ یونٹوں میں حالات کیسے ہیں، اس کا اندازہ مزدوروں کے بیانات سے کیا جا سکتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ انہیں وا ش روم جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، پینے کیلئے پانی فراہم نہیں کیا جاتا، جبکہ قوانین کے مطابق طے شدہ کم از کم تنخواہ سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کھاڈی ان شرمناک الزامات کا سامنا کرنے والا واحد ادارہ نہیں بلکہ وطن عزیز میں پرائیویٹ سیکٹر کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے ادارے میں مجبور و لاچار ملازمین کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اسے حکومتی اداروں کی ملی بھگت ہی کہا جا سکتا ہے کہ غریب ملازمین کا خون چوسنے والے ان ظالموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔