’خواتین کو حجاب اس لئے پہننا چاہیے کیونکہ مسلمان مرد اپنی اس چیز کو قابو۔۔۔‘ مذہبی سکالر نے حجاب کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ نوکری سے ہی نکال دیا گیا

ڈیلی بائیٹس

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی دنیا نے مسلم خواتین کے حجاب کو بڑھا چڑھا کر ایسا مسئلہ بنا دیا ہے کہ گویا یہ دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ ہو۔کئی یورپی ممالک میں اس پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے اور اس پابندی کے حق میں کئی بھونڈے جواز گھڑے جا رہے ہیں۔ اب آسٹریلیا میں ایک مسلمان سکالر نے حجاب کے حق میں ایسی بات کہہ دی ہے کہ اسے فوری طور پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق شیخ زین دین جانسن نامی اس سکالر نے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ”خواتین کو اس لیے حجاب پہننا چاہیے کیونکہ مسلمان مرد بے حجاب خواتین کو دیکھ کر اپنی جنسی خواہش پر قابو نہیں رکھ پاتے۔“

کیا مسلمان چرچ میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ سعودی عرب سے تاریخی فتویٰ آگیا
آسٹریلوی شہر برسبین کی لوگن مسجد میں امام کے فرائض سرانجام دینے والے زین دین جانسن نے ویڈیو میں مزید کہا ہے کہ ”حجاب کے خلاف بولنے والے یہ کہتے ہیں کہ مردوں کو ان کی جنسی خواہش پر قابو ہونا چاہیے۔ میں بھی اس سے کلی طور پر اتفاق کرتا ہوں لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ اکثر مرد جب بے حجاب خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ ایسا نہیں کر پاتے ۔ اس لیے خواتین کو لازمی حجاب پہننا چاہیے۔“ اس ویڈیو کے اگلے روز فیس بک پر ہی زین دین جانسن نے بتایا کہ حکام نے اس ویڈیو کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ”لوگ آئے روز میرے مذہب اور میرے نبیﷺ کی توہین کرتے رہتے ہیں لیکن اسے آزادی اظہار رائے کہہ کر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور مجھے میرے عقائد بیان کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔“