”جنوری کی سرد شام، ماڈل ٹاﺅن کا گھر، فوجی وردی میں ملبوس نوجوان۔۔۔“ عامر لیاقت نے اپنے پروگرام میں ایسی باتیں کہہ دی کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

ڈیلی بائیٹس

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے پاکستان کی ایک لڑکی کی جوانی کے دنوں کی کہانی بیان کی ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کا والد نااہل ہو چکا ہے اور باقی خاندان والے بھی چھپ چھپ کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں جاتے ہیں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ ابو خیریت سے ہیں اور پھر ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں کہ ”گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے۔“

یہ بھی پڑھیں۔۔۔نواز شریف نے نیب ریفرنسز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا،احتساب عدالت ٹرائل کو رکوانے کی استدعا
عامر لیاقت حسین نے کہا نجی ٹی وی پر اپنے پروگرام میں کہا کہ ”روز بروز کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور آج بھی ایسا ہی ہوا کہ فوج اورعدلیہ پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کے حملے ہوتے رہے۔ آج میں ایک کہانی سے ابتداءکروںگا اور سمجھنے والے اس کہانی کو سمجھیں گے بھی، کیونکہ ایک صاحب بہت گڑبڑ پھیلا رہے ہیں۔
اگست 1990ءمیں ایف ایس سی پاس ایک لڑکی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوتی ہے اور اپنے داخلے کی بات کرتی ہے۔ پرنسپل نے جب اس کے ایف ایس سی کے نمبر دیکھے تو وہ 650 کے قریب تھے جو مطلوبہ میرٹ سے کافی کم تھے چنانچہ پرنسپل نے داخلہ دینے سے معذرت کر لی۔ اس لڑکی نے رزلٹ کارڈ اٹھایا، دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر پرنسپل کی جانب دیکھ کر بولی کہ داخلہ تو میں لے کر رہوں گی، روک سکو تو روک لو۔
پھر اس لڑکی کو اس کے امیر باپ نے راولپنڈی کے میڈیکل کالج میں سیلف فنانس سکیم کے تحت داخلہ دلوایا اور پھر اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داخلے کے اگلے روز ہی اس کا مائیگریشن کا کیس بنا کر راولپنڈی سے ڈائریکٹ کنگ ایڈورڈ کالج لاہور منتقل کر دیا جہاں میرٹ ان دنوں 900 کے قریب ہوا کرتا تھا۔ یہ کنگ ایڈورڈ کالج کی تاریخ کی واحد مائیگریشن تھی کہ کسی دوسرے کالج میں سیلف فنانس پر داخلہ لینے والے طالب علم کی کنگ ایڈورڈ کالج میں مائیگریشن ہوئی۔
جنوری 1991ءکی ایک سرد شام تھی، جنوری! لاہور! سرد شام! ماڈل ٹاﺅن میں واقعہ ایک گھر کی انیکسی میں اس لڑکی کا والد اپنے دفتری امور کے سلسلے میں ایک میٹنگ میں مصروف تھا، وہاں ایک فوجی وردی میں ملبوس نوجوان اس لڑکی کو پسند آ گیا، لڑکی نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ والدہ نے غصے سے ڈانٹ کر چپ کروا دیا، لڑکی نے اپنی ماں کو غصے سے دیکھا، تیوری چڑھائی اور کہا شادی تو میں اسی لڑکے سے کر کے رہوں گی۔ روک سکو تو روک لو۔۔۔!
اس کے بعد اگلے چند مہینوں میں پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس کی فیملی جو خود بھی مشرقی روایات کی علمبردار ہے، مگر پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ امیر ترین اور مشرقی روایات کی علمبردار اس لڑکی کی من پسند جگہ پر رشتہ کرنے کیلئے تیار ہو گئی اور جب لڑکی کو رخصتی کیلئے ان کی والدہ گاڑی میں بٹھا رہی تھیں تو اس نے فاتحانہ نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا کہ جیسے کہہ رہی ہو، میں نہ کہتی تھی، روک سکو تو روک لو۔۔۔!
2013ءمیں اس لڑکی کو بغیر کسی کوالی فکیشن کے اس کے باپ نے 100 ارب روپے کے فنڈز کا انچارج بنا دیا، معاملہ عدالت میں گیا، عہدے کیلئے مطلوبہ قابلیت اور اہلیت ثابت نہ ہوئی تو عدالت نے اس لڑکی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا، جب عدالت یہ فیصلہ دے چکی تو لڑکی نے ٹویٹ کیا کہ فنڈز تو میں ہی تقسیم کروں گی، روک سکو تو روک لو۔۔۔!

پھر اس کے وزیراعظم باپ نے وزیراعظم ہاﺅس سیکرٹریٹ میں مستقل دفتر دلوا دیا جہاں وہ تمام وزراءکی درخواستیں وصول کر کے انہیں فنڈز جاری کرتی تھی۔ ایسا کرتے وقت اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک طنزیہ مسکراہٹ رہتی تھی کہ جیسے وہ سپریم کورٹ سے کہہ رہی ہوں، میں نہ کہہ رہی تھی، روک سکو تو روک لو۔۔۔!
پھر یوں ہوا کہ اپریل 2016ءمیں پانامہ پیپرز لیک ہوئے تو عمران خان نے احتجاج کرتے ہوئے اس لڑکی کے والد سے استعفے کا مطالبہ کر دیا، اس لڑکی نے پھر ٹویٹ کیا کہ ہم ہر طرح کے لیکس سے باعزت بری ہو جائیں گے، روک سکو تو روک لو۔۔۔!
لڑکی کی قسمت خراب تھی کیونکہ اس مرتبہ اس کے مقابل اپنی دھن کا ایک عجیب ہی انسان تھا جو فائٹر ہے یعنی عمران خان، اس نے کہا کہ میں تمہیں رلاﺅں گا، تڑپاﺅں گا، تم بچ نہیں سکو گے، بچ سکتے ہو تو بچ کر دکھا دو۔ پھر پانامہ کیس ہوا، دو مہینے میں اس شریف خاندان کو گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسے خطاب مل گئے۔ قطری شہزادے کے خط کی شکل میں جو ظاہری شرافت تھی وہ بھی مٹی میں مل گئی۔ جے آئی ٹی بنی اور ایک ایک کر کے شریف فیملی کے فرد کی طلبی کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ اور ایک دن اس لڑکی کی بھی طلبی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ملک کی 6 بڑی دینی جماعتوں میں اتحاد پر اتفاق ہو گیا ، تفصیلات طے کرنے کے لیے 6 رکنی سٹیئرنگ کمیٹی قائم ،دینی و نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ
جب وہ تفتیش کے بعد باہر آئی تو اس نے بڑے غرور سے کہا کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بنیں گے۔ روک سکو تو روک لو۔۔۔! جے آئی ٹی کی رپورٹ جاری ہو گئی، نواز شریف کو چور اور منی لانڈر کا خطاب عوام کی طرف سے مل گیا، نیب کو کارروائی کی سفارش کر دی گئی۔

اب میں اس لڑکی سے کہتا ہوں، باپ تمہارا نااہل ہو گیا، روک سکو تو روک لو۔۔۔! تمہارا سارا خاندان چوروں کی طرح چھپ چھپ کر زندگی گزار رہا ہے۔ روک سکو تو روک لو۔۔۔! کوئی بھی فرد باہر نکلتا ہے تمہارے گھر سے لوگ کہتے ہیں کہ چور آ گئے۔ کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں جاتے ہیں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ ابو خیریت سے ہیں، گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے۔ روک سکو تو روک لو۔۔۔!“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔