دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سمندر پر پورا ملک بنانے کی تیاری، یہ کہاں بنایا جارہا ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی سے اس کی شہریت حاصل کرلیں

ڈیلی بائیٹس

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سیاستدانوں کی ریشہ دوانیوں سے ہم پاکستانی ہی تنگ نہیں بلکہ بیشتر ممالک میں یہی حال ہے۔ اب سائنسدان لوگوں کو مفادپرست سیاستدانوں سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ایک حیران کن انتظام کرنے جا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق زمین کا تو کوئی خطہ ایسا نہیں جو سیاستدانوں کی دستبرد سے محفوظ ہو چنانچہ ایک فلاحی ادارے سی سٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے سمندر میں ایسا ملک بسانے کا اعلان کر دیا ہے جہاں کوئی سیاستدان ہو گا نہ وہاں کسی بھی موجودہ ملک کے قوانین لاگو ہوں گے۔ عالمی پانیوں میں تیرتا یہ ملک خودمختار ہو گا اور اس کے اپنے قوانین ہوں گے۔

سعودی عرب کا وہ علاقہ پہلی مرتبہ عوام کے لئے کھولنے کا فیصلہ جہاں آج سے پہلے کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی، کونسی جگہ ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی سامان باندھ لیں
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے فنڈز ’پے پال‘ کے بانی پیٹر تھیئل فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ملک ایک بڑے شہر کی شکل میں ہو گا اور بحرالکاہل میں واقع جزیرے ٹاہیٹی (Tahiti)کے قریب بسایا جائے گا۔اس میں ہوٹلز، رہائشی عمارتیں، دفاتر، ریسٹورنٹس اور دیگر تعمیرات کی جائیں گے۔ اس کے چاروں طرف ایک دیوار بھی بنائی جائے گی اور سی سٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے مطابق یہ 2020ءتک تیار ہو جائے گا۔


انسٹیٹیوٹ کے صدر جوئی کوارک کا کہنا تھا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ 2050ءتک اس طرح کے سینکڑوں ملک سمندر میں بسائے جائیں جن میں سے ہر ایک خودمختار ہو اور اپنے طرزحکومت کے مطابق چلایا جائے۔“ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری حکومتیں کسی طور بہتر نہیں ہو رہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ ماضی میںپھنس کر رہ گئی ہیں اور آگے بڑھنے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔یہی وجہ ہے کہ زمین پر موجود ہر ملک میں کنٹرول کے لیے سیاستدانوں کی پرتشدد اجارہ داریاں ہیں۔ہمیں امید ہے کہ ہم اس ملک کی تعمیر کے لیے جلد 6کروڑ ڈالر(تقریباً6ارب روپے) کے فنڈز اکٹھے کر لیں گے اور 2020ءتک اس کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔“