’اگر دنیا کو خاتمے سے بچانا ہے تو۔۔۔‘ دنیا کے 184 ممالک سے 15 ہزار سائنسدانوں نے اکٹھے ہوکر دنیا والوں کو آخری وارننگ جاری کردی

ڈیلی بائیٹس

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل وارمنگ سمیت دنیا میں کئی تباہ کن تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جن کے متعلق سائنسدان متعدد بار وارننگ دے چکے ہیں۔ اب 148ممالک کے 15ہزار سے زائد سائنسدانوں نے موجودہ انسانی تہذیب کے لیے ایک اور انتہائی روح فرسا تنبیہ جاری کر دی ہے۔ سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدان ویلیم ریپل نے اپنے گریجوایٹ سٹوڈنٹ کرسٹوفر وولف کے ساتھ مل کر 1992ءمیں 1500سائنسدانوں کی طرف سے جاری کی گئی ایک ایسی ہی وارننگ پر دوبارہ تحقیق شروع کی اور اس کے نتائج دنیا بھر کے سائنسدانوں کو بھیجے۔ اس پر اب تک 15ہزار سے زائد سائنسدان اپنی مہرتصدیق ثبت کر چکے ہیں، گویا انسانیت کو واقعی ان خطرات کا سامنا ہے۔

2018ءمیں کیا ہونے والا ہے؟ سینکڑوں سال پہلے 9/11 حملوں کی درست پیشنگوئی کرنے والے آدمی نوستراداموس نے سال 2018ءکے بارے میں کیا خطرناک پیشنگوئی کی تھی؟ جان کر آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے
ویلیم ریپل اور کرسٹوفر وولف نے اپنے نتائج میں دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی جن خطرناک تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے ان میں ”زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر میں شدید کمی، سمندری مخلوقات کا معدوم ہونا، سمندری ڈیڈ زون بننا، جنگلات کا کم ہونا، جانوروں کے تنوع میں کمی واقع ہونا، موسمیاتی تبدیلیاں اور دنیا کی آبادی میں ہوشربا اضافہ شامل ہیں۔ یہی وہ تباہ کن عوامل تھے جن کے متعلق 1992ءمیں سائنسدانوں نے وارننگ دی تھی۔ ویلیم ریپل اورکرسٹوفروولف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ عوامل کم ہونے کی بجائے ان کے رونما ہونے کی شرح میں خوفناک حد تک تیزی آ گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں نے ان کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات ہی نہیں کیے۔ویلیم ریپل کا کہنا تھا کہ ”دنیا بھر کے سائنسدان ہماری ماحولیاتی صورتحال پر شدید تحفظات کا شکار ہیں کیونکہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیاں جس تیزی سے رونما ہو رہی ہیں یہ دنیا کو ہماری تہذیب کے خاتمے کی طرف لیجا رہی ہیں۔“