سائنسدانوں کو کھدائی کے دوران 8ہزار سال پرانا برتن مل گیا، لیکن اس برتن میں اتنے عرصے بعد بھی کیا چیز موجود تھی؟ دیکھ کر ہر کسی کا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا

ڈیلی بائیٹس

تبلیسی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایشیاءاور یورپ کے سنگم پر واقع ملک جارجیا میں سائنسدانوں کو کھدائی کے دوران 8ہزار سال پرانا ایک برتن مل گیا اور اس میں اتنے عرصے بعد بھی ایک ایسی چیز موجود تھی کہ دیکھ کر ہر کسی کا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں دریافت ہونے والے اس برتن میں شراب موجود تھی، جسے سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے پرانی شراب قرار دے دیا ہے۔

اگر کسی جگہ ایٹمی حملہ ہو اور اس کے بعد وہاں یہ پھول کاشت کیا جائے تو یہ زمین سے تمام تابکاری اثرات ختم کردیتا ہے، سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ آپ بھی قدرت پر عش عش کر اُٹھیں گے
رپورٹ کے مطابق اس جگہ سے کئی برتن دریافت ہوئے جو سب مٹی کے بنے ہوئے تھے اور ان میں سے اکثر پر انگورکے گچھوں اور ناچتے ہوئے ایک آدمی کی تصاویر کندہ تھیں۔اس سے قبل سائنسدانوں کو شمال مغربی ایران میں دنیا کی قدیم ترین شراب ملی تھی جو 7ہزار سال پرانی تھی۔حالیہ دریافت کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پروفیسر سٹیفن بیٹیوکر کا کہنا تھا کہ ” اب تک جتنی بھی قدیم ترین شراب دریافت ہوئی ، بیشتر مشرقی ممالک سے ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق میں شراب شروع سے ہی انسانی تہذیب کا مرکز رہی ہے اور یہ بطور دوا بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور ذہنی ارتکاز کے لیے بھی۔ یہ ہر دور میں اہم ترین تجارتی چیزوں میں شامل رہی ہے۔“