فیس بک پر اجنبی مرد کی فرینڈ ریکسویسٹ قبول کرنے پر خاتون کا 6 کروڑ روپے کا نقصان ہوگیا

ڈیلی بائیٹس

سڈنی(نیوز ڈیسک) فیس بک استعمال کرنے والے کسی کی بھی فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے میں دیر بالکل نہیں لگاتے، چاہے ریکوئسٹ بھیجنے والے کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوں۔ شاید آپ سوچیں گے کہ اس میں حرج ہی کیا ہے، تو یہ بات آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی اس خاتون سے پوچھئے جس نے ایک اجنبی کی فرینڈ ریکوئسٹ قبول کی اور یہ غلطی اسے 6 کروڑ روپے میں پڑ گئی۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مارتھا (فرضی نام ) نامی خاتون کو تقریباً چھ ماہ قبل ڈاکٹر فرینک ہیریسن نامی شخص کی جانب سے فرینڈر ریکوئسٹ موصول ہوئی تھی۔ عام فیس بک صارفین کی طرح انہوں نے بھی اس ریکوئسٹ کو قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، اور نا ہی بعد میں اس بات کا تردد کیا کہ اس شخص کے بارے میں کچھ تحقیق کر لیں۔
ان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو فرینک نے بتایا کہ وہ امریکا میں آرتھوپیڈک سرجن کے طور پر کام کرتا ہے اور اب آسٹریلیا مننقل ہونے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اگلے کچھ عرصے کے دوران ان کے درمیان فیس بک کے ذریعے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا اور پھر ایک دن فرینک نے بتایا کہ وہ آسٹریلیا آ رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران مارتھا سے بھی ملنا چاہے گا، جس کے لئے مارتھا بھی تیار تھی۔

’پچھلے 42 برس سے میں اپنا یہ شرمناک راز کسی کو بتانا چاہتی تھی لیکن ہمت نہیں ہوئی، اب۔۔۔‘ کینسر سے متاثرہ خاتون موت سے تھوڑی دیر پہلے پولیس کے پاس پہنچ گئی، کیا بات بتائی؟ جان کر آپ کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں گی
مارتھا منتظر تھی کہ کب فرینک پہنچے اور وہ اس کے ساتھ ملاقات کرے، لیکن فرینک خود تو نا آیا البتہ اس کی فون کال ضرور آ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ ائرپورٹ پر اسے کسٹمز حکام نے روک لیا ہے کیونکہ اس کے پاس 15 لاکھ ڈالر تھے، جو کہ قانونی حد سے زائد ہونے کی وجہ سے ضبط کر لئے گئے تھے، اور اب اسے جرمانہ ادا کرنے کے لئے 3000 ڈالر ( تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے) کی ضرورت تھی تا کہ اپنی ضبط شدہ رقم چھڑوا سکے۔ مارتھا نے کمال سادہ لوحی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ رقم دئیے گئے اکاﺅنٹ میں جمع کرو ادی۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ یہاںنہیں رکا کیونکہ اس کے بعد بھی فرینک نے طرح طرح کے بہانے گھڑتے ہوئے اس سے رقم ہتھیانے کا سلسلہ جاری رکھا اور یوں وہ مجموعی طور پر چھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
جب یہ ساری دغا بازی کرنے کے بعد شعبدہ باز فرینک غائب ہو گیا تو مارتھا کو کچھ ہوش آیا اور پہلی بار اس نے فرینک کے فیس بک اکاﺅنٹ پر دی گئی معلومات کی جانچ پرکھ کی۔ تب اسے معلوم ہوا کہ اس کے اکاﺅنٹ پر بتائی گئی ہر بات جھوٹ تھی۔ اس نے اپنے پروفائل پر جو تصویر لگا رکھی تھی وہ امریکی ڈاکٹر گراتھ ڈیوس کی نکلی۔
مارتھا نے بالآخر یہ معلومات تو حاصل کر لیں، لیکن اب اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اسے دھوکہ دے کر لوٹنے والا غائب ہو چکا تھا اور تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔