’اگر ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے وقت مرد یہ چیز سوچ رہا ہو تو اس کے ہونے والے بچوں میں دباﺅ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے تاریخ کی عجیب ترین بات کہہ دی، باپ بننے کے خواہشمند مردوں کو خبردار کردیا

ڈیلی بائیٹس

بوسٹن(نیوز ڈیسک) ذہنی تناﺅ آج کل کے دور میں عام پایا جانے والا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کی وجہ سے معمول کی زندگی تو متاثر ہوتی ہی ہے لیکن ایک تازہ تحقیق میں تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ باپ کے ذہنی تناﺅ کی وجہ سے اس کے ہونے والے بچوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ذہنی تناﺅ کے شکار مردوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے روزمرہ زندگی کے مسائل کا دباﺅ برداشت کرنے کی صلاحیت کم رکھتے ہیں۔ ان میں مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور یہ عموماً پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر کا بھی زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

ازدواجی فرائض کی ادائیگی اور کمرے میں بلب کی ساخت کے درمیان تعلق جدید تحقیق میں سامنے آگیا، سائنسدانوں نے ہر شادی شدہ شخص کو حیران پریشان کردیا
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ذہنی دباﺅ کی وجہ سے سپرم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ہیں۔ ذہنی تناﺅ سے متاثرہ مردوں کے سپرم کمزور ہوتے ہیں اور ان سے جنم لینے والے بچوں کو ہارمونل رسپانس کو کنٹرول کرنے والے جینز بھی قدرے کمزور حالت میں ہی ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر اور آٹزم جیسے امراض زیادہ پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دباﺅ کی حالت میں ہمارے جسم کا عصبی نظام تین قسم کے ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون ایڈرینالین، کورٹیسول اور نور پریفرین ہیں۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کورٹیسول ہارمون کی مناسب افزائش نہ ہونے سے مائیکرو RNA سپرم کے ساتھ مل کر اسے منفی طور پر متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں بچے کو منتقل ہونے والے جینز اور سپرم کی کوالٹی متاثرہوتی ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ صرف شدید ذہنی تناﺅ ہی نہیں بلکہ درمیانے درجے کا ذہنی تناﺅ بھی سپرم کی کوالٹی کو متاثر کرتا ہے۔