نرالا سویٹس، مٹھائیوں کی وہ معروف ترین دکان جس کے مالکان کی ایک معمولی غلطی تمام کاروبار کی تباہی کی وجہ بن گئی

ڈیلی بائیٹس

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور سمیت پاکستان اور بیرون ملک نرالا سویٹس کی کئی برانچز موجود ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک ایک کشمیری خاندان ’نرالا ‘ کی ملکیت تھیں لیکن جب یہ کاروبار تیسری نسل کو منتقل ہوا تو اس نے اسے نہ صرف عروج بخشا بلکہ اس کاروبار کی بربادی کی وجہ بھی یہی نسل بنی۔ کہا جاتا ہے کہ نرالا سویٹس جب تیسری نسل کو منتقل ہوئی تو اس کے مالک نے دو غلطیاں کیں اور تمام کاروبار ہاتھ سے گنوا کر آج کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبورہوگئے ۔
تہلکہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 1948 میں ایک کشمیری شخص تاج نرالا نے لاہور میں چھوٹی سی مٹھائی کی دکان بنائی جو دیکھتے ہی دیکھتے لاہور اور اطراف کے علاقوں میں مشہور ہوگئی، اس دکان کی خاصیت حلوہ پوری کا ناشتہ اور دیسی گھی کی منفرد مٹھائیاں تھیں۔

تاج دین نرالا مرحوم نے اپنے انتقال سے پہلے کاروبار بڑے بیٹے فاروق احمد کو منتقل کردیا جنہوں نے پوری تندہی سے اس کاروبار کو دوسرے شہروں تک بھی پھیلا دیا۔ فاروق احمد نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے دنیا بھر کے دورے کیے اور نئی نئی مٹھائیاں متعارف کرائیں۔ فاروق احمد اپنی سخاوت کی وجہ سے بھی مشہور تھے، انہوں نے اپنے کاریگروں کیلئے ایک حکیم سے خصوصی طور پر جلنے کے علاج کی دوائی تیار کرائی تھی جس سے بہت جلدی آرام آجاتا تھا، اس دوائی کی شہرت ہوئی تو فاروق احمد نے عام لوگوں میں بھی یہ دوا بالکل مفت تقسیم کرنا شروع کردی ، اس دوا کے عوض انہوں نے کبھی ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔


طبیعت کی خرابی کے باعث 80 کی دہائی میں فاروق احمد نے نرالا سویٹس کا کاروبار اپنے بڑے بیٹے فیصل فاروق کو سونپ دیا، اس وقت فیصل فاروق کی عمر صرف 20سال تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے کامیابی کے ساتھ کاروبار کو چلایا اور بیرون ملک برانچز کھولنے میں کامیاب ہوگئے۔
فیصل فاروق نے نرالا سویٹس کامیابی سے چلانے کے بعد ڈیری کا رخ کیا اور فیکٹری لگانے کیلئے پنجاب بینک سے ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا اور اس کیلئے ساری جائیداد گروی رکھ دی۔ انہوں نے یہ رقم بھاری سود پر حاصل کی لیکن ڈیری کی فیکٹری نہ چلا پائے۔ 2004-5 میں لگائی گئی یہ فیکٹری دردِ سر بن گئی اور آہستہ آہستہ نرالا سویٹس کی آمدنی بھی کھانے لگی اور ایک وقت ایسا آیا کہ نرالا سویٹس کے مالکان کے پاس سود پر حاصل کی گئی اصل رقم تو درکنار اس پر عائد ہونے والا سود ادا کرنے کے بھی پیسے باقی نہ بچے۔ 2014 تک بینک آف پنجاب نے نرالا سویٹس کی ساری جائیداد ضبط کرکے نیلام کردی، آج پاکستان میں مختلف جگہوں پر نرالا سویٹس کی دکانیں تو نظر آتی ہیں لیکن یہ نرالا خاندان کی نہیں کسی اور کی ملکیت میں ہیں۔
فیصل فاروق اب 71 سال کے ہوچکے ہیں اور لاہور کے اطراف کے علاقوں میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جبکہ ان کے بیٹے نوکریاں کرکے گھر چلاتے ہیں۔
فیصل فاروق کے دوست سہیل شاکر کے مطابق فیصل فاروق کی ضد کی وجہ سے ان کا خاندان کبھی بھی ایک ساتھ نہیں رہ پایا، انہوں نے اپنے چچا محمد محمود اور محمد مقصود کو کاروبار سے الگ کردیا تھا۔وہ ایک بگڑے ہوئے امیر زادے تھے جو اپنے والد اور دادا سے بالکل مختلف تھے۔
فیصل فاروق کا سود کے پیسوں سے کاروبار کرنا اور اپنے خاندان کو علیحدہ کرنا ہی وہ 2 غلطیاں تھیں جو ان کے خاندانی کاروبار کی تباہی کا باعث بنیں۔