طیارہ حادثے میں پورا خاندان ہلاک، پائلٹ نے آخری الفاظ کیا ادا کئے تھے؟ جان کر ہر شخص افسردہ ہوجائے

ڈیلی بائیٹس

فلوریڈا (نیوز ڈیسک) امریکی پائلٹ جوزف کرینشا اپنے بچوں کے ساتھ ڈزنی ورلڈ کی سیر کو گئے تو اس دورے کو اپنی زندگی کے خوبصورت ترین لمحات قرار دے رہے تھے، مگر ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان خوبصورت لمحات کا اختتام کیسا بھیانک ہونے والا تھا۔ بچوں کو جی بھر کر سیر کروانے کے بعد وہ اپنے ذاتی طیارے پر فلوریڈا سے واپس ریاست ٹینسی جارہے تھے کہ راستے میں حادثے کا شکار ہو گئے۔ اس حادثے میں کرینشابیوی، بچوں سمیت لقمہ اجل بن گئے۔

’کوئی میرا یقین نہیں کرے گا کہ میرے اپنے ہی۔۔۔‘ 3ہزار مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی نے پولیس کو دیکھتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ پولیس والوں کے بھی پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی
وہ ایک سیسنا 210طیارہ اڑارہے تھے جسے ریاست الباما کے قریب طوفان بادوباراں نے گھیر لیا۔ کرینشا ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطے میں تھے، جنہوں نے مشورہ دیا کہ وہ کوئی متبادل روٹ اختیار کریں۔ جب وہ سمت بدلنے کی کوشش کررہے تھے تو ان کا طیارہ اچانک 12ہزار فٹ سے تقریباً 6ہزار فٹ کی بلندی تک آچکا تھا۔ جب ٹریفک کنٹرولر نے ان سے کہا کہ وہ اپنی بلندی قائم رکھیں تو انہوں نے جواب دیا ”میرے بس میں جو بھی ہے میں کررہا ہوں۔“ بس یہ ان کا آخری جملہ ثابت ہوا اور اگلے ہی لمحے کنٹرول ٹاور سے ان کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ہی کنٹرول ٹاور کو خبر مل گئی کہ ان کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 45 سالہ کرینشا کے ساتھ ان کی اہلیہ 43 سالہ جینیفر ، 16 سالہ بیٹا جیکب اور 14 سالہ بیٹی جلیان بھی ہمیشہ کے لئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔