روس میں خواتین گلی گلی اپنی عزتیں نیلام کرنے لگیں، وجہ ایسی کہ جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

ڈیلی بائیٹس

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے کئی ممالک کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور ان کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، لیکن روس کے معاشی بحران کا ایسا شرمناک نتیجہ نکلا ہے کہ جس کی مثال شائد ہی کہیں اور مل سکے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق تنگدستی سے ستائی روسی خواتین ضروریاتِ زندگی خریدنے اور گھر کے کام چلانے کے لئے رقم کی بجائے جنسی خدمات کی صورت میں ادائیگی کر رہی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق یہ رجحان مشرقی سائبیریا کے شہر بریاتیہ میں سب سے زیادہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سائبیریا کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے اب جنس بھی کرنسی کے طور پر ا ستعمال ہو رہی ہے۔

’’میرے سسرال والے کہتے ہیں میرے شوہر کی اس شرمناک حرکت کی ذمہ دار میں ہوں جبکہ میرا شوہر۔۔۔‘‘ شوہر کے ہاتھوں تنگ بیوی نے اپنی ایسی دکھ بھری داستان سنا دی کہ جان کر آپ کا دل بھی بھر آئے گا
اس مقصد کیلئے انٹرنیٹ پر ویب سائٹیں بھی قائم ہو چکی ہیں جو متعدد اقسام کی خدمات اور اشیاءجنسی خدمات کے عوض فروخت کر رہی ہیں۔ بریاتیہ شہر میں لیک بیکال کے ساحل پر ایک ایسا شاپنگ سٹور بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں ہر قسم کی اشیاءکی خریدو فروخت کیلئے رقم کی بجائے جنسی خدمات وصول کی جا رہی ہیں۔ شاپنگ سٹور کے باہر لگے بورڈ پر لکھا ہے ” اگر آپ کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں لیکن اس کے بدلے رقم ادا نہیں کر سکتے، یا ادا نہیں کرنا چاہتے، تو آپ اس کی ادائیگی ایک اور طریقے سے بھی کر سکتے ہیں۔ رقم خرچ کیے بغیر اپنی ضروریات بھی پوری کریں اور لطف بھی حاصل کریں۔ “
جنس کے بدلے اشیاءاور خدمات فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ پر کسی مرد کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک اشتہار میں لکھا گیا ” میں گھر کی مرمت کا کام جنسی خدمات کے عوض کرتا ہوں۔ “ اسی طرح کسی خاتون کی جانب سے پوسٹ کیے گئے اشتہار میں تحریر تھا ” مجھے اپنے گھر میں وائرنگ کروانی ہے۔ میں اس کے بدلے جنسی خدمات پیش کر سکتی ہوں۔ میری عمر 26 سال ہے۔ “
مقامی میڈیا کے مطابق نوجوان خواتین گھر کا فرنیچر، ٹی وی اور موبائل فون جیسی اشیاءکے حصول کیلئے بھی جسمانی خدمات پیش کر رہی ہیں۔ بعض مقامات پر توٹیکسی کا کرایہ بھی جنسی خدمات کی صورت میں ادا کیا جا رہا ہے ۔