پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں استاد کی خاتون ٹیچر کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکت، خاتون نے انتظامیہ کو شکایت لگائی تو پھر کیا ہوا؟ انتہائی افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں

ڈیلی بائیٹس

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کو ہراساں کرنا ایک شرمناک جرم ہے، اور متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کی بجائے الٹا ان کا تماشہ دیکھنا اس سے بھی زیادہ شرمناک جرم ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں جرم عام ہو چکے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کی ایک خاتون ٹیچر کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک معاملات بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں، جو ہمارے لئے بطور معاشرہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور شرم کا مقام بھی۔
اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق خاتون ٹیچر نوین حیدر نے اپنے شعبہ، پاکستان سٹڈی سنٹر، کے صدر ڈاکٹر سید جعفر احمد کو شکایت کی کہ سحر انصاری نامی استاد، جنہیں کچھ لوگ اردو کا نامور سکالر بھی قرار دیتے ہیں، نے ایک سے زائد مواقع پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ پاکستان سٹڈی سنٹر کے صدر شعبہ کو یہ شکایت کرنے کے بعد خاتون ٹیچر توقع کررہی تھیں کہ ان کی داد رسی ہو گی لیکن معاملہ بالکل الٹ ثابت ہوا۔ ڈاکٹر احمد کی طرف سے قطعاً کوئی پیشرفت نہ ہوئی، اور اخبار کا کہنا ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے اس معاملے پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا تو ان کا کہنا تھا ”خاتون نے اپنے درخواست تحریری شکل میں نہیں دی تھی۔“ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ بات متاثرہ ٹیچر کو کیوں نہ بتائی، تو ان کا کہنا تھا ”میں اسے کیوں بتاتا؟“

1965ءکی جنگ میں پاکستان کے حق میں چین کا وہ اقدام جسے جان کر آپ عش عش کر اٹھیں گے
بالآخر خاتون ٹیچر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو شکایت کی، لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بمشکل ایک کمیٹی قائم کی جاسکی، اور کمیٹی کا قیام بھی طلبا کے احتجاج کے بعد ہی ممکن ہو سکا، اور ان طلبا کو بھی یونیورسٹی کے سکیورٹی ایڈوائزر کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
خاتون ٹیچر کی درخواست پر کوئی قابل ذکر پیشرفت تو نہیں ہوسکی البتہ ان کے باہمت قدم کے بعد سحر انصاری کے خلاف ہراساں کرنے کی درجنوں مزید شکایات سامنے آگئی ہیں۔ یونیورسٹی کی طالبات کا کہنا ہے کہ یہاں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیا جانا ایک عام بات ہوچکی ہے۔ اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ایک طالبہ نے ایک ٹیچر کو آگاہ کیا کہ شعبہ اسلامی تاریخ کے ایک استاد نے اس کی کلائی پکڑلی، زبردستی گھڑی پہنائی اور بوسہ لیا۔
نوین حیدر کی طرف سے کی گئی شکایت کو کئی ماہ گزرگئے لیکن کمیٹی ابھی تک اپنی رپورٹ سامنے نہیں لاسکی۔ طلبا وطالبات کا کہنا ہے کہ اب محض اس بات کا انتظار کیا جارہا ہے کہ ایسے دیگر کئی معاملات کی طرح یہ معاملہ بھی وقت کی دھول میں ہمیشہ کے لئے غائب ہو جائے۔