’اس لڑکی کا ریپ میں نے نہیں کیا کیونکہ میں تو۔۔۔‘ ریپ کے مقدمے میں گرفتار شخص نے پولیس افسر سے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، پورے ملک میں ہنگامہ ہوگیا کیونکہ وہ شخص دراصل۔۔۔

ڈیلی بائیٹس

ڈوڈوما (نیوز ڈیسک)پائلی حسین افریقی ملک تنزانیہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا نام ہے جس نے ہیرے کی کانوں میں کام تلاش کرنے کے لئے خود کو مرد بنا لیا، کیونکہ وہاں صرف مردوں کو کام کرنے کی اجازت تھی۔ انہوں نے مرد ہونے کا ایسا ڈھونگ رچایا کہ ایک دہائی تک کسی کو حقیت کا پتہ نہیں چلنے دیا، لیکن بالآخر ایک ریپ کیس نے ان کا راز فاش کر دیا۔
پائلی کی پیدائش تنزانیہ کے ایک مویشی پال شخص کے ہاں ہوئی۔ ان کے والد کی چھ بیویاں تھیں اور وہ اس کے 38 بچوں میں سے ایک تھیں۔ پائلی کہتی ہیں کہ ان کے والد انہیں لڑکا ہی سمجھا کرتے تھے اور مویشی چرانے کے لئے بھیج دیا کرتے تھے۔ ان کی شادی ایک بدمزاج شخص سے کروادی گئی اور جب وہ 31 سال کی تھیں تو اس شخص کی بدسلوکی سے تنگ آکر گھر سے بھاگ گئیں۔
وہ بھاگ کر کلی منجارو پہاڑوں کی جانب نکل گئیں۔ اب انہیں زندہ رہنے کیلئے کام کی ضرورت تھی۔ وہ مریرانی پہاڑی گاﺅں میں پہنچیں، جو دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں ہیرے سے بھی قیمتی نیلے پتھر کی تلاش کی جاتی ہے۔ پائلی کا کہنا ہے کہ خواتین کو کانوں پر کام کی اجازت نہ تھی لہٰذا وہ پراعتمادی کے ساتھ ایک مرد بن کر وہاں چلی گئیں ۔ انہوں نے لوگوں کو اپنا نام حسین بتایا اور ان کے مردانہ حلیے اور لباس نے سب کو دھوکا دے دیا۔

شادی کے موقع پر دولہا نے اپنی دلہن سے ایسی بات کہہ دی کہ فوٹوگرافر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے، اس تصویر کے پیچھے وہ بات جس نے منٹوں میں اسے پوری دنیا میں پھیلادیا
پائلی اگلے 10 سال تک ان کانوں میں روزانہ 10 سے 12 گھنٹے کام کرتی رہیں۔ اس تمام عرصے کے دوران کسی کو بھی شبہ نہیں ہوا کہ وہ ایک خاتون تھیں۔ ایک سال بعد ہی انہیں دو انتہائی قیمتی پتھر ملے جن سے اتنی رقم مل گئی کہ انہوں نے دو نئے گھر تعمیر کرلئے اور کان کنی کا اپنا علیحدہ کام شروع کردیا۔
پائلی کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایک مقامی خاتون کو کسی نے زیادتی کا نشانہ بنایا تو اس جرم کے شبہے میں پائلی کو گرفتار کرلیا گیا۔ پائلی کا کہنا ہے کہ اصل مجرموں نے ان پر الزام لگایا اور پولیس انہیں پکڑ کر لے گئی۔ جب وہ تھانے پہنچے تو پائلی نے پولیس سے کہا کہ وہ کسی خاتون کو بلائیں جو اس کا جسمانی ملاحظہ کرے تاکہ پتا چل جائے کہ جس جرم کا اس پر الزام لگایاجارہا ہے وہ اس کے قابل ہی نہیں۔ حقیقت پتا چلی تو جلد ہی اسے رہا کردیا گیا۔


پائلی نے بتایا کہ ”پولیس کے سامنے ہونے والا یہ انکشاف جلد ہی مقامی لوگوں تک بھی پہنچ گیا لیکن کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ میں واقعی ایک عورت تھی۔“ پائلی اب ایک کامیاب کاروباری خاتون ہیں۔ ان کی اپنی کان کنی کی کمپنی ہے جس میں 70 سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔