جب لڑکی کے اپنے ماں باپ نے مرتی ہوئی بیٹی کو اپنا گردہ دینے سے صاف انکار کر دیا تو لڑکی کے سسر نے ایسا قدم اُٹھا لیا کہ سب حیران رہ گئے ،جان کر آپ بھی کہیں گے کہ سسرال تو ایسے ہی بدنام ہیں

ڈیلی بائیٹس

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ ساس اور سسر اپنی بہو کو جتنی بھی محبت دے لیں، کبھی اس کے ماں باپ جتنا پیار نہیں کر سکتے لیکن بھارت کے شہر احمد آباد کے ایک شخص نے یہ تاثر غلط ثابت کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق احمد آباد کی 28سالہ بیدامی نامی خاتون کے گردے خراب ہو گئے تھے اور ڈاکٹروں نے اسے نیا گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے کو کہا تھا۔ تاہم اس کے لیے کوئی گردہ عطیہ کرنے کو تیار نہ ہوا، حتیٰ کہ اس کے سگے ماں باپ اور بہن بھائیوں نے بھی اسے گردہ دینے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق جب بیدامی کو ہر طرف سے انکار کر دیا گیا تو اس کا سسر ہمداس وشنو سامنے آیا اور اس نے اپنی بہو کو گردہ عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب وہ سرکار سے بیدامی کو گردہ عطیہ کرنے کی اجازت لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”بہو بھی بیٹی ہی ہوتی ہے۔ وہ میرے بیٹے کی بیوی ہے اور میرے پوتوں پوتیوں کی ماں ہے۔ اس کی زندگی بچا کر میں اپنے خاندان کی زندگی بچاﺅں گا۔“بھارتی قانون کے مطابق باپ اپنی اولاد کو گردہ دے سکتا ہے، سسر اگر گردہ دینا چاہے تو اسے بہت سا پیپرورک کرنا پڑتا ہے اور اجازت لینی پڑتی ہے جو ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ ہمداس کا کہنا تھا کہ ”اب مجھے اجازت لینے میں مشکل ہو رہی ہے، اور ادھر میری بہو کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ ایسا قانون نہیں ہونا چاہیے۔“