اس شخص کے ایک معمولی سے مزے نے درجنوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ,ایسی حرکت کہ جج نے کھڑے کھڑے سخت سزا دے دی

ڈیلی بائیٹس

لندن (نیوز ڈیسک) آپ نے بہت سے احمقوں کے بارے میں سنا ہوگا اور کچھ دیکھے بھی ہوں گے، لیکن 27 سالہ برطانوی احمق ڈینیئل بوریا جیسی عجیب و غریب مثال شاید ہی آپ کو کہیں مل سکے۔ ونی پیگ فری پریس کی رپورٹ کے مطابق ڈینیئل نے اس وقت سب کو حیرت میں ڈال دیا جب وہ ایک کرسی کے ساتھ ہیلیم گیس کے 100 غبارے باندھ کر آسمان کی جانب اڑ گیا، اور نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈال لیا بلکہ قریبی ائیرپورٹ پر ہوائی جہازوں کی آمدورفت کے لئے بھی خطرہ بن گیا۔

دو کروڑ مَردوں کو شرمناک آفر دینے والی خاتون نے اب ایک ایسی خواہش کا اظہار کردیا کہ جسے بھی پتا چلے کانوں کو ہاتھ لگائے
رپورٹ کے مطابق ڈینیئل نے نئے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور وہ اس کی تشہیر کے لئے کوئی انوکھا کام کرنا چاہ رہا تھا۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ وہ کسی پائلٹ کی مدد حاصل کرے اور پیراشوٹ کے ذریعے شہر کے ایک پرہجوم مقام پر اترے۔ اس نے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا کے متعدد پائلٹوں سے رابطے کئے لیکن کوئی اس کی مدد کے لئے تیار نہ ہوا۔ جب ہر طرف سے مایوسی ہوگئی تو اس نے کرسی کے ساتھ ہیلیم گیس کے غبارے باندھ کر اڑنے کا خطرناک اور بے وقوفانہ منصوبہ بنالیا۔

ڈینیئل کی شیطانی حرکت پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور اس پر مقدمہ چلا گیا۔ عدالت میں انکشاف ہوا کہ وہ تقریباً 14000 فٹ کی بلندی تک چلا گیا تھا اور ایک موقع پر تو ایک 747 جہاز اس کے نیچے سے پرواز کرتا گزرا تھا۔ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج بروس فیرزر نے ڈینیئل کی حرکت کو انتہا درجے کی حماقت اور خطرناک فعل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اگر کسی ہوائی جہاز کے راستے میں آجاتا تو نہ وہ خود ایک طرف ہوسکتا تھا اور نہ ہوائی جہاز کے لئے اسے بچانا ممکن ہوتا۔ ایسی صورت میں ہوائی جہاز گرنے کا خدشہ بھی تھا، جس کے نتیجے میں زمین پر بھی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوسکتا تھا۔

جہاز کے ٹیک آف سے چند لمحے قبل پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا، یہ کون تھا اور کیا کرنے جارہا تھا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر ہر مسافر کے پیروں تلے زمین نکل جائے
عدالت نے اسے ساڑھے چھ ہزار ڈالر (تقریباً ساڑھے چھ لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ کیا جبکہ 20 ہزار ڈالر (تقریباً 20لاکھ پاکستانی روپے) معمر افراد کے لئے قائم کی گئی ایک مقامی فلاحی تنظیم کو بطور چندہ دینے کا حکم بھی دیا۔ اگرچہ عدالت سمیت ہر کسی نے ڈینیئل کی لعن طعن کی تاہم وہ اپنے ’کارنامے‘ پر بہت خوش تھا اور عدالتی کارروائی کے دوران اپنی مسکراہٹ چھپا نہیں پارہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے کوئی شرمندگی نہیں ہے البتہ وہ دوسروں کے لئے خطرہ بننے پر معذرت خواہ ضرور ہے۔