پنچایت کے سامنے پاکستانی نے شہری پر بیگم سے غیر اخلاقی تعلقات کا الزام لگاکر بدلے میں ایسی چیز مانگ لی کہ جان کر ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے

ڈیلی بائیٹس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں خاندانی دشمنیوں اور جائداد کے جھگڑوں کے تصفیے کے لئے کمسن لڑکیوں کو ونی کرنے کی قبیح رسم سینکڑوں سال سے جاری ہے ۔ عام طور پر انتہائی کمسن بچیوں کو بھی ونی کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایک سال عمر کی بچیوں کو ونی کرنے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
وادی نیلم میں بھی ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جہاں جرگے کے حکم پر تین سالہ لڑکی کو ونی کر کے اس کی شادی نو سالہ لڑکے سے کردی گئی۔اس معاملے کا آغاز کچھ یوں ہوا کہ محمد یونس نامی شخص نے محمد اورنگزیب پر الزام لگا دیا کہ وہ اس کی اہلیہ کے ساتھ ناجائز مراسم رکھتا ہے۔ یونس یہ معاملہ جرگے میں لے کر گیا اور اورنگزیب کے خلاف چار لاکھ 70 ہزار تاوان کا دعویٰ کیا۔ جب اس نے بھاری رقم کی ادائیگی سے معذوری ظاہر کر دی تو یونس نے مطالبہ کر دیا کہ اورنگزیب کی تین سالہ بچی کی شادی اس کے نو سالہ بیٹے سے کردی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں شامل ہونے والے 15 میں سے 6 افراد کو گرفتارکرلیاگیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں یونس، لڑکی کا دادا اور نکاح پڑھانے والا شخص بھی شامل ہے ۔

لاہور کے شہری نے اپنی بیگم کا شناختی کارڈ دیکھا تو اس پر ایسی چیز لکھی تھی کہ دیکھ کر واقعی پیروں تلے زمین نکل گئی بیگم کے خلاف فوری پولیس کے پاس پہنچ گیا کیونکہ۔۔۔
واضح رہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق ونی اور سوارا جیسی رسمیں جرم ہیں، لیکن اس کے باوجود ملک کے طول و عرض میں ہر سال سینکڑوں جرگے منعقد ہوتے ہیں جن میں کمسن بچیوں کو ونی کیا جاتا ہے۔ اس بھیانک جرم کی پشت پناہی کرنے والے عموماً بااثر لوگ ہوتے ہیں جن کے سامنے قانون بھی اکثر بے بس ہی نظر آتا ہے۔