’میں امریکہ گئی تو ائیرپورٹ پر حکام نے سب کے سامنے مجھے کپڑے اتارنے کا کہا، اور پھر برہنہ ہونے کے بعد مجھے حکم دیا گیا کہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کے ساتھ امریکی ائیرپورٹ پر ایسا شرمناک ترین سلوک کہ لڑکیاں امریکہ جانے سے ہی توبہ کرلیں

ڈیلی بائیٹس

میلبرن (نیوز ڈیسک)امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں غیر مسلم اور امریکا کے قریبی دوست ممالک کے شہریوں کی عزت بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ نوجوان لڑکی مولی ہل کے ساتھ پیش آنے والا ناقابل یقین واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

آدمی نے ہوٹل میں کمرہ بُک کروا کر انٹرنیٹ سے نوجوان جسم فروش لڑکی بُلالی ، چند منٹ بعد کمرے کی گھنٹی بجی، دروازہ کھلا تو ساتھ ہی زندگی کا سب سے زور دار جھٹکا لگ گیا، وہ لڑکی دراصل کون تھی؟ کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتا تھا کہ۔۔۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مولی ہل اپنے امریکی دوست راس میڈل سے ملنے کیلئے امریکہ گئی تھیں لیکن وہاں ان کے ساتھ جو سلوک پیش آیا اس کے بعد انہوں نے آئندہ امریکہ جانے سے توبہ کرلی ہے۔ مولی کا کہنا ہے کہ وہ ریاست ہوائی میںا پنے دوست کے ساتھ چھٹیاں گزارنا چاہ رہی تھیں لیکن ہونولولو ائیرپورٹ پر انہیں روک لیا گیا۔ مولی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا”ان لوگوں نے میرے سامان کی تلاشی لی اور میری ڈائری میں لکھے چند جملوں کی وجہ سے مجھ پر کچھ شک کرنا شروع کردیا۔ میں نے آسٹریلیا سے روانگی سے قبل ڈائری میں لکھا تھا’آج کام کا آخری دن ہے۔ اس کے بعد میں امریکہ جارہی ہوں۔‘انہوں نے اس کا مطلب یہ لیا کہ میں آسٹریلیا چھوڑ کر امریکہ میں غیر قانونی قیام کرنا چاہتی ہوں۔ میری وضاحت کے باوجود وہ یہی سمجھتے رہے کہ دوست سے ملنے کا بہانہ قانون کو دھوکہ دینے کی کوشش تھی۔ چھ گھنٹے تک مجھ سے تفتیش کی گئی جس کے دوران مجھے بالکل برہنہ کر دیا گیا۔ جب میں برہنہ ہو گئی تو سکیورٹی اہلکاروں نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا حکم دیا۔ وہ مجھے کبھی کھانسنے کا حکم دیتے اور کبھی اپنے سامنے زمین پر پنجوں کے بل بیٹھنے کو کہتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی ذلت کا سامنا کبھی نہیں کیا۔“


مولی کی مصیبت کا یہیں اختتام نہیں ہوا بلکہ انہیں اگلی رات کیلئے جیل میں رکھا گیا جبکہ اگلی صبح ان کی سالگرہ تھی۔ انہیں پولیس کی تحویل میں ہی اگلا دن بھی گزارنا پڑا۔ مولی کا کہنا ہے کہ امریکی سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے پاس ریٹرن ٹکٹ ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کرنے دیا۔ انہیں زبردستی 620 ڈالر (تقریباً 62ہزار پاکستانی روپے) کا نیا ٹکٹ سڈنی کیلئے خریدنے کو کہا گیا حالانکہ وہ میلبرن میں رہتی ہیں۔ مولی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امیگریشن وکیل سے مشاورت کررہی ہیں تاکہ امریکی حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکیں۔